شہزی آپا۔۔۔۔رفعت علوی/دوسری،آخری قسط

شہزی آپاکو میک اپ اور بننے سنورنے کی ضرورت نہیں تھی، ہر رنگ میں دلکش لگتیں مگر جانے ان دنوں ان کو کیا ہوگیا تھا کہ انکا زیادہ وقت آئینے کے سامنے گزرنے لگا، گرامو  فون پر گانوں کی دھنیں بھی بدل گئیں، کپڑوں کے سلیکشن کے سلسلے میں ان کو کبھی دقت نہیں ہوئی تھی اب روز وہ میرے پاس ایک جوڑا لے کر آتیں اور کہتیں “نیلو تیرا سینس آف میچنگ بہت اچھا ہے بتا یہ سوٹ کیسا لگ رہا ہے”، اپنے سیاہ لمبے بالوں کو بھی وہ روز نئے انداز میں باندھنے لگیں ورنہ پہلے ان کے بال زیادہ تر کھلے رہتے یا پھر وہ انکو سمیٹ کر ان میں الاسٹک کا رنگ ڈال دیتیں تھیں پتا نہیں واقعی یہ تبدیلی میرا وہم تھا یا حقیقت۔۔۔۔
ایک دن علی آیا تو فرخ گھر پہ نہیں تھا، میں اوپر تھی ممی نے نیچے سے آواز دے کر پہلے شہزی آپا کو پکارا جب انکا جواب نہ ملا تو انھوں نے مجھے آواز دی، مجھے اکیلے نیچے جاتے ہچکچاہٹ ہوئی، کبھی اس سے اکیلے میں بات نہیں ہوئی تھی، شہزی آپا نے کبھی اس کا موقع جو آنے نہیں دیا تھا کبھی کبھی مجھے لگتا کہ وہ علی پہ اپنا حق سمجھنے لگی ہیں یہ حقیقت تھی یا شائد میرے اندر کا کوئی چور جو شہزی آپا کی غیر معمولی دلچسپی کی وجہ سے میرے دل میں بیٹھ گیا تھا ۔۔شہزی آپا شاید واش روم میں تھیں، ممی کی دوسری آواز پر مجبوراًًً  مجھے نیچے جانا ہی پڑا اس نے دزدیدہ نظروں سے میری طرف دیکھا، تم جوان لوگ باتیں کرو میں چائے بھجواتی ہوں، ممی تو یہ کہہ کر باہر چل دیں اور میری جان پر بن آئی، میں اس سے بات کرنا چاہتی تھی، وہ مجھے اچھا بھی لگتا تھا مگر ایک حجاب تھا جو مجھے روکے ہوئے تھا آج بھی وہ فوجی یونیفارم میں تھا، کیا آپ یہ یونیفارم پہن کر سوتے بھی ہیں؟؟، میں نے یونہی اس سے بدلہ لینے کے لئے پوچھا وہ مسکرایا۔۔۔پھر بولا بس ابھی کلاس ختم ہوئی ہے اور میں کسی ہجر زدہ گدھے کی طرح رسیاں تڑا کر یہاں چلا آیا ہوں وہ مزاحیہ انداز میں بولا میں خاموش ہو گئی۔۔ سوچا اب کیا باتیں کروں چلو کچن کی طرف چلنا چاہیئے، شہزی آپا تو آ ہی رہی ہونگی ،ایک بات بتائیں آخر آپ مجھ سے بھاگتی کیوں ہیں، میں اٹھ کر جانے لگی تو وہ بولا ۔۔مجھے کیا ضرورت ہے آپ سے بھاگنے کی، کیا میں آپ سے ڈرتی ہوں؟ میں کوئی بچی تھوڑے ہی ہوں، میں چلتے چلتے رک گئی وہ  ذرا دیر کو چپ ہوگیا پھر بولا کہ کیا آپ کو میرا یہاں آنا ناگوار گزرتا ہے؟۔۔۔۔ ایسا کیوں سوچا آپ نے، آپ ہمارے فیملی فرینڈ ہیں، اس گھر میں آپ کو ویلکم کرنے والے بہت لوگ ہیں، میں کچھ الجھ کر بولی اس سے پہلے کہ وہ میری بات کا کوئی جواب دیتا زینے  پر شہزی آپا اپنے لہراتے سرخ دوپٹے کے ساتھ نمودار ہوئیں۔۔۔۔ ارے کب آئے تم؟
اس لڑکی نے تم کو بور تو نہیں کیا، یہ خود بہت بور ہے لوگوں سے ملنا جلنا اسے پسند نہیں ۔۔۔مجھے آگ سی لگ گئی، اس وقت آپا کو یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی، میں منہ پھلائے باہر جانے لگی تو آپا نے ہنس کر میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بٹھا  لیا مگر میرا موڈ آف ہی رہا، اس وقت وہ مجھے زہر لگ رہی تھیں میں نے بعد میں سوچا کہ کیوں؟۔۔۔۔آخر کس لئے مجھے شہزی آپا کی بات بری لگی تھی، انھوں نے صحیح تو کہا تھا کہ مجھے  زیادہ دوست بنانا پسند نہیں، مگر عورت کا ذہن کبھی کبھی خود دوسری عورت بھی نہیں پڑھ سکتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہزی آپا کی یونیورسٹی کھلنے کا وقت آگیا، مجھے کچھ اداس ہونا چاہیئے تھا مگر مجھے ایک کمینی سی خوشی ہورہی تھی ہر سال ایسا ہی ہوتا، وہ سالانہ چھٹیوں پر گھر آتیں اپنے ساتھ کبھی ختم نہ ہونے والی کہانیاں قصے اور داستانیں لےکر آتیں، دو مہینے پلک جھپکتے ختم ہوجاتے مگر اس بار مجھے جانے کیوں لگ رہا تھا کہ انکی چھٹیاں بہت طویل ہوگئیں ہیں۔۔۔۔یہ میرا واہمہ تھا، ان کی چھٹیاں واقعی ختم ہو چکی تھیں، علی تین گھنٹے پہلے شہزی آپا کو نیچے ریل گاڑی پر سوار کرانے گیا تھا، چلتے وقت شہزی آپا میرے گلے لگ کر خوب روئیں مگر میری آنکھ سے ایک آنسوں نہیں نکلا۔۔۔۔ مجھے ان سے بہت محبت تھی اور انکے جانے سے میں ہمیشہ بہت اداس ہوجاتی تھی مگر آج جانے مجھے کیا ہوگیا تھا میں نے ان سے ہنس کے کہا تھا کہ آپا یہ جو نیچے وادی کی طرف اترنے کے راستے پر آخری موڑ ہے نا جس پر شاہ بلوط کادرخت جھومتا رہتا ہے اس موڑ کو کراس کرتے ہی تم ہم سب کو بھول جاؤگی اور تم کو یونیورسٹی اور اپنے دوستوں کی یاد ستانے لگےگی، علی نے اخلاقاً  مجھ سے بھی اسٹیشن تک ساتھ چلنے کو کہا تھا مگر میں نے بڑی بے مروتی سے انکار کردیا تھا، بھلا میں کیوں ان دونوں کے بیچ کباب میں ہڈی بنتی، کیا مجھے یاد نہیں تھا کہ کچھ دیر پہلے یہیں اسی کمرے میں میرے سامنے بیٹھے بیٹھے شہزی آپا نے علی سے آئندہ خطوط لکھنے کے وعدے لئے تھے،اپنا خیال رکھنے کی تاکید کی تھی، خفا ہونے کی دھمکی دی تھی اور دہلی میں دوباراہ جلد  ملنے کی تمنا کا اظہار کیا تھا اور اب یہی علی رضا میرے سامنے بیٹھا مجھے پروپوز کر رہا تھا، میرے تن بدن میں آگ لگ گئی یہ خیال کیسے پیدا ہوا آپ کے دل میں، میں زہر خند لہجے  کے ساتھ بولی۔۔۔ خیال کی کیا بات ہے اس میں، مجھ میں کیا کمی ہے؟ ہینڈ سم ہوں تعلیم یافتہ ہوں فوج میں میرا اچھا مستقبل ہے، وہ  ذرا رک رک کے بولا۔۔ مجھے آپ سے اور آپ کے کیریئر سے کوئی دلچسپی نہیں، میں نے بے رخی سے کہا کیوں کیوں؟ ارے یہ جو چھ فٹ کا جوان ہے نا اس کےان سنہرے بالوں  کی جانے کتنی لڑکیاں  دیوانی ہیں، میرے ایرانی خدوخال پہ تو خود میرے خاندان کی ہی نہیں محلے کی بھی کئی لڑکیاں زہر تک کھانے کو تیار ہیں، پھر ہمارے ایک بریگیڈیئر صاحب ہیں جو مجھ پر بہت مہربان ہیں ابھی  ذرا سا اشارہ  کردوں تو انکی صاحبزادی کچے دھاگے سے کھینچی چلی آئیں، اس نےمیرا تلخ لہجہ نظر انداز کردیا اونہہ شو آف۔۔۔۔چیپ۔۔۔۔۔۔میں نے دل میں سوچا اپنے ایرانی خدوخال اور سنہرے بالوں کی پہریداری سے مجھے تو معاف ہی رکھیں “شہد کے چھتے” پر دن رات مکھیاں بھنبھنایا کریں گی میں تو روز روز یہ مکھیاں اڑانے سے رہی ۔ کون دن رات بیٹھا آپ کی چوکیداری کرتا پھرے گا، آپ کے لئے کسی خونخوار بریگیڈیئر صاحب کی صاحبزادی ہی مناسب رہیں گی پھر سوچ لیں، کیا یہ آپ کا آخری فیصلہ ہے اس نے مایوسی سے پوچھا ۔۔۔۔

میں نے کبھی آپ کے متعلق سوچا تک نہیں۔۔ میں نے اسی بےرخی سے جواب دیا ۔خاموشی کا ایک وقفہ آیا پھر وہ بولا، ہماری ٹریننگ تو دو دن پہلے ہی ختم ہو چکی ہے، میں صرف آپ کے لئے یہاں رکا ہوا ہوں، ہم کل واپس جا رہے ہیں شاید پھر ہم ایک دوسرے سے کبھی ملیں بھی نہ، اس نے شاید اپنی دانست میں ترپ کا آخری پتہ پھینکا اور وہ شہزی آپا۔۔۔۔۔۔میرے منہ سے بےاختیار نکل گیا شہزی آپا۔۔۔۔اس نے بڑے استعجاب سے دہرایا، شہزی آپا کیا؟ ۔۔۔۔کیسا بن رہا ہے مکار کہیں کا، مجھے غصہ آ رہا  تھا ۔۔ابھی  ذرا دیر پہلے آپ ان پر قربان ہو رہے تھے ملنے ملانے کے وعدے ہوئے ہیں اور اب جب کہ وہ جا چکی ہیں تو آپ کی نظر کرم مجھ پر ہے، میں نے جل کر کہا میرا شہرزاد سے کوئی ایسا افیئر نہیں، وہ تندی سے بولا میں اور وہ ایک دوسرے کے ایسے ہی دوست ہیں جیسے ان کے دوسرے دوست ہیں، ہم نے کبھی ہنسی مذاق میں بھی اس دوستی کو کسی دوسرے رشتے میں بدلنے کے متعلق سوچا تک نہیں جھوٹ۔۔۔۔۔وہی لچھے دار باتیں، میں نے دل میں کہا اور خاموش بیٹھی اسکی باتیں سنتی رہی باھر بادل گرج رھے تھے ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں کے جھکڑ چل رہے تھے، پہاڑوں پر برف گر رہی تھی اندھیرے میں کبھی بجلی زور سے چمکتی تو آسمان پر سنہری لکیر دور تک کھنچتی چلی جاتی، اندر گرم سٹنگ روم میں آتشدان کے پاس بیٹھے بیٹھے میں نے ایک نظر علی رضا کے ستے ہوئے چہرے پہ ڈالی وہ خاموش تھا اور اسکی چمکدار آنکھیں دھندلا گئیں تھی وہ کچھ دیر میرے چہرے کی طرف دیکھتا رہا پھر اس نے ایک گہری سانس لی اور بولا آپ کی آنکھیں نیلی ہیں شاید اسی لئے عرفان صاحب اور آپکی ممی نے آپ کا نام نیلوفر رکھا ہے، بزرگ سچ کہتے ہیں نیلی آنکھوں والی لڑکیاں بہت بے مروت اور بےوفا ہوتی ہیں ان پر اعتبار نہیں کرنا چاہیئے میں نے آپ کو کبھی کسی بات کا اعتبار نہیں دلایا نہ تو کبھی آپ سے وفا کی باتیں کیں اور نہ ہی کبھی کسی دھوکے میں رکھا، میں ترش روئی سے بولی ۔۔۔۔

ہاں یہ صحیح ہے، وہ مسکرایا، ایک حزنیہ سی مسکراہٹ، ٹھیک، یہ بالکل درست ہے آپ نے مجھے سے اس بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کی مگر نہ جانے کیوں میرے دل کو یقین سا تھا کہ آپ کے دل میں میرے لئے کچھ جگہ ہے،اس کے چہرے پہ ایک تاسف تھا، کرب تھا،کچھ بے چینی سی تھی۔ میں تو آپ کو اسی وقت سے پسند کرنے لگا تھا جب میں نے آپ کو پہلی بار کلب میں آدھا سوتا جاگتا دیکھا تھا، وہ آہستہ سے بولا پھر سگرٹ سلگاتا ہوا اٹھ کر جانے کے لئے کھڑا ہوگیا۔۔۔

ترک دنیا کا سماں، ختم ملاقات کا وقت،

بے وفائی کی گھڑی ترک مدارات کا وقت،

اس گھڑی اے دل آوارہ کہا جاؤ گے،

میرے دل میرے مسافر،

تجھے کیا خبر تیری منزل یہاں نہیں ہے تیرے نصیب میں شہر بدری لکھی ہے، کتاب عمر کا ایک اور باب ختم۔ ۔۔۔اور وہ چلا گیا۔۔۔۔ میں اسکی دیدہ دلیری اور ھٹ دھرمی پر غصے اور صدمے سے بے حال تھی اٹھ کر اسے دروازے تک پہنچانے تک بھی نہ گئی وہ چلا گیا سر جھکائے ۔۔۔میرے گھر سے۔۔۔میرے دل سے۔۔۔۔ شملہ سے۔اور شاید میری زندگی سے بھی ہمیشہ کے لئے میرے دل پہ ایک گھونسہ سا لگا۔ میں ھچکیاں لیتی ہوئی صوفے پر گری اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

ہسپتال کی فضاؤں میں موت کی آہٹ تھی، دواؤں کی مہک چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی،سفید لباس میں ملبوس نرسیں آہستگی سے ادھر ادھر آ جا رہی تھیں اور باتیں بھی سرگوشیوں میں کر رہی تھیں، اور اسکی آنکھوں کے سامنے سفید برف کے گالے پھیلے ہوئے تھے، تکلیف کا کوئی احساس نہ تھا مگر وہ ہاتھ پیر ہلانے سے قاصر تھا مجھے کیا ہوا ہے؟ شعور پر یاداشت کا ہلکا سا سایہ لہرایا، میں شاید مر رہا ہوں، چلو قصہ پاک، وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام، وہ روز دل کو چیرتی وحشت تما شد، اور پھر اس کی آنکھیں خودبخود بند ہوگئیں وہ سو گیا۔۔۔سوتا رہا، پھر جانے کتنے عرصے بعد اس کی آنکھ دوبارہ  کھلی، بڑی دیر تک وہ خالی الذہنی کے عالم میں پڑا آنکھیں جھپکاتا رہا یاداشت کی سطح سادی پڑی رہی، پھر اچانک اس کی یاداشت پر شعور نے ہلکی سی تھپکی دی اور اس نے پوری آنکھیں کھول دیں، اسے یاد آگیا، وہ غصے میں بھرا ہوا دل گرفتہ دل شکستہ، نیلوفر سے خفا، زندگی میں محبت کی پہلی ناکامی پر بپھرا ہوا عرفان صاحب کے گھر سے نکل آیا تھا، باہر برف کی پھوار نے درختوں پگڈنڈیوں اور پہاڑی سے نیچے جانے والے سب راستوں پر برف کی سفید چادر پھیلا دی تھی، اصولاًًً  اس کو واپس ملٹری گیسٹ ہاؤس میں چلےجانا چاہیے تھا جہاں سے صبح وہ اور اس کے ساتھی کلکتہ کے لئے روانہ ہوجاتے مگر وہ تیزی سے جیپ چلاتا ہوا کلب کی طرف نکل گیا، گھٹا ٹوپ اندھیرے میں نہ تو راستہ نظر آتا تھا اور نہ ہی سڑک، ونڈ اسکرین پر جمنے والی برف کو صاف کرنے میں وائیپر ناکام ہوچکے تھے مگر پھر بھی وہ اندھادھند گاڑی دوڑاتا رہا، اسے یاد آیا کہ بارش میں بھیگی چکنی سڑک کے کنارے کھڑے ایک لوڈنگ ٹرک کا ہیولا اچانک ہی نمودار ہوا تھا، اس نے جیپ کے فل بریک لگائے تھے مگر دیر ھوچکی تھی۔ بہت دیر۔۔۔۔جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے۔۔ اس کو آنکھیں جھپکاتے دیکھ کر ایک نرس آگے بڑھی، اس نے جھک کر اس کے ہاتھ میں لگی ڈرپ دیکھی، نبض چیک کی اور مسکرا کے بولی صبح بخیر سولجر۔۔۔۔۔اگرچہ رات کے دو بجے ہیں، میں کہاں ہوں؟ تم بخیر ہو بس یہ سمجھو محاذ پہ کسی دشمن کے حملے میں زخمی ہوکر ہسپتال پہنچ گئے ہو۔۔۔ دشمن۔۔۔۔۔کون دشمن ۔۔۔۔نہیں نہیں میں تو دوستوں کے درمیان تھا اس نے بےاختیار سوچا اسی وقت ایک گول چہرے والا ہنس مکھ سا ڈاکٹر اس کے قریب آکر مسکرانے لگا ہمارا بہادر ڈون کوئژٹ اس خراب موسم میں بھی اپنی محبوبہ سے ملنے نکل کھڑا ہوا وہ شفتگی سے بولا۔۔۔ مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔اس نے کمزور آواز میں پوچھا کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔کچھ بھی تو نہیں بس چار ہفتے کا پلاسٹر چڑھا ہے سیدھی ٹانگ اور الٹے ھاتھ میں فریکچر ہے، محبت میں اتنی بہت قربانی تو چلتی ہے، فوجیوں کی زندگی میں یہ سب کچھ ہوتا رہتا ہے، اوپر آپ کے آفس اطلاع بھیجوا دی گئی ہے وہ علی سے ہنس کر بولا، چار چھ دن بستر پر رہوو پھر تمھارے چلنے پھرنے کا انتظام کیا جائیگا ڈاکٹر نے اپنے سامنے اسکو ایک انجکشن لگوایا اور چلا گیا۔۔
نہ پھول نہ ساغر نہ مہتاب نہ نور۔۔۔۔اس نے اداسی سے چھت پر لٹکتے روشن بلب پر نگاہیں جمادیں،
درد آیا ہے دبے پاؤں لئے سرخ چراغ،
اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا
ہسپتال کے باھر اونچے اونچے چیڑ اور پام کے درختوں کے کانپتے سائے ماحول کی تاریکی میں اضافہ کر رہے تھے، ناریل کے پنکھ ہلاتے پتوں کی سرسراہٹ میں سرد آہوں کی سسکیاں تھیں، اس نے جنگ میں بہت سے زخم کھائےتھے کئی کئی دنوں ملٹری کیمپ میں اکیلا پڑا رہا تھا ہفتوں اپنے چاہنے والوں کی بےخبری میں تاریک خندقوں میں صرف بسکٹوں اور پانی پر گزارا کرتا رہا تھا مگر اپنی بےبسی زخموں اور لاچاری پہ اتنا غمگین اور اداس وہ کبھی نہ ہوا تھا جتنی تکلیف اس کو اپنی زندگی میں تنہائی ناکامی اور محبت سے محرومی پر تھی۔ صبح سے دوپہر ہوئی اور دوپہر سے شام، باہر موسم خراب تھا، تند و تیز ھواؤں کا شور ہسپتال کی کھڑکیوں سے بھی اندر آ رہا تھا اوپر پہاڑوں پر دوبارہ برف پڑنا شروع ہوگئی تھی، ابھی کچھ دیر پہلے گورنر ہاؤس سے کچھ لوگ اسکو دیکھنے آئے تھے اور تسلیاں دے کر جا چکے تھے، انھوں نے ہی بتایا تھا کہ اس کے گروپ کے دوسرے فوجی بیس کمانڈر کو رپورٹ کرنے کےلئے صبح ہی کلکتہ کے لئے روانہ ھو گئے تھے۔۔۔۔۔۔ رات کے آٹھ بجے تھے، باہر تند و تیز ہوائیں چنگھاڑ رہی تھیں، پہاڑوں پر ہونے والی برفباری کی کاٹ اور بادلوں کی کڑک وقفے وقفے سے سنائی دیتی پھر خاموشی میں بارش کی ٹپ ٹپ سپ سپ زوں زوں کی آواز آنے لگتی، ہسپتال میں تو گویا آدھی رات ہوچکی تھی، نرس اسکو دوائیں کھلانے اور سونے کا انجکشن لگانے کے بعد اپنے اسٹیشن روم میں جاچکی تھی، گہری غنودگی میں اس کو ایسا لگا جیسے باہر گرجنے والے بادلوں کا ایک ٹکڑا چپکے سے کمرے میں داخل ہوا ہے، ایک مخصوص پرفیوم کی خوشبو آئی، پھر کسی نے  ملائم نرم ہاتھوں نے اس کے چہرے پہ ھاتھ رکھ دیا، کوئی آیا ہے دل زار؟۔۔۔نہیں کوئی نہیں نرس آئی ہے ابھی آ کے چلی جائےگی، اس کے سوتے ذہن نے خود ہی سوال کیا اور خود ہی جواب دیا، مگر نرم گرم بادل کا سایہ اسکے چہرے پہ رکا رہا پھر بارش کا ایک قطرہ اس کے چہرے پر گرا، پھر دوسرا اور پھر تو گرم گرم بوندوں کے موٹے موٹے قطرے اسکے چہرے کو بھگونے لگے، اس نے گھبرا کے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی، ادھ کھلی آنکھوں سے اس نے دیکھا کہ دو بنفشہ سی نیلی آنکھیں اسکے چہرے پہ جھکی ہوئی تھیں اور ان بھیگی ہوئی نیلی آنکھوں سے آنسووں کے قطرے اس کے چہرے پر گر رہے تھے، اس نے پوری آنکھیں کھولنے کی کوشش کی اور بمشکل اپنا دایاں ہاتھ اوپر اٹھایا پاگل۔۔۔”شہد کے چھتے”۔۔۔اگر میں نے غصے میں تم کو جانے کو کہہ دیا تھا تو اس موسم میں گھر سے کیوں چلے گئے تھے، اس کے چہرے کے بالکل قریب دو ننھے ننھے سرخ ہونٹوں سے رندھی ہوئی آواز آئی نیلی نیلی آنکھوں والی نیلوفر۔۔۔۔۔بےوفا۔۔۔۔۔وہ غنودگی میں بڑبڑایا، شہروز سے میں نے کبھی پیار نہیں کیا اور تم سے پیار کے سوا کچھ نہیں کیا، نیلوفر نے ایک سسکی لی اور اسکے زخمی ھاتھ کو اپنی بھیگی آنکھوں سے لگالیا باہر چیخنے چنگھاڑنے والی ہوائیں تھم چکی تھیں بارش رک چکی تھی، بادل چھٹ رہے تھے، اس کی اوٹ سے آدھا چاند نکل کر مسکرا رہا تھا، چیڑ اور شاہ بلوط کے درختوں کے بھیگے پتوں کی مہک فضا میں پھیل رہی تھی اور بارش میں بھیگی گل شبو کی کلیاں مسکرانے کے لئے سورج کی پہلی کرن کی منتظر تھیں

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *