• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جماعت اسلامی کی طبعی عمر پوری ہو گئی ہے؟۔۔۔عنائیت اللہ کامران

جماعت اسلامی کی طبعی عمر پوری ہو گئی ہے؟۔۔۔عنائیت اللہ کامران

 

الیکشن 2018ء کے نتائج سے پہلے آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ جماعت اسلامی کی طبعی عمر پوری ہو چکی ہے اور اب یہ ازکار رفتہ ثابت ہو چکی ہے، بہت جلد دیگر مذہبی جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی بھی محض میڈیا اور چند روائتی قسم کے پروگرامات کے انعقاد کی حد تک زندہ رہے گی۔ الیکشن کے نتائج نے تو گویا اس تجزیے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔جماعت اسلامی کے اکثر کارکنان شدید مایوسی کا شکار ہو گئے اور مخالفین کے کیمپوں میں خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔
ماضی میں بھی جماعت اسلامی الیکشن میں کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی، تاہم پیشتر انتخابات میں پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی کی کچھ نہ کچھ نمائندگی ضرور رہی ہے اور خاص طور پر دیر سے تو جماعت کئی دہائیوں سے ناقابل شکست رہی ہے لیکن اس بار وہاں سے بھی آؤٹ ہو گئی۔ ماضی میں جب بھی الیکشن میں جماعت اسلامی کو شکست ہوئی اگلے دن سے ہی جماعت کے کارکنان پوری آب و تاب کے ساتھ ایک بار پھر میدان عمل میں نظر آئے اور کچھ ہی عرصہ میں جماعت اسلامی کی سرگرمیاں اس انداز میں شروع ہو جاتی تھیں کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں ہے لیکن الیکشن 2018ء کے بعد صورتحال میں کچھ تبدیلی نظر آئی جس کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا پر جماعت مخالف پروپیگنڈہ ہے اور یہ پروپیگنڈہ اتنا کامیاب رہا کہ عوام تو عوام جماعت کا کارکن بھی اس سے شدید متاثر ہوا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے الیکشن کے بعد نہ صرف اپنی مرکزی شوریٰ اور مجلس عاملہ کے کئی اجلاس بلا کر شکست کے اسباب معلوم کرنے کی کوشش کی بلکہ اس مقصد کیلئے ایک کمیشن بھی قائم کردیا جو ابھی بھی کام کر رہا ہے اور 28 فروری تک کارکنان سے تجاویز اور تجزیے طلب کئے گئے ہیں۔دوسرا کا م سینیٹر سراج الحق نے یہ کیا کہ انہوں نے اضلاع میں جا کر اپنے کارکنوں کے سامنے خود کو اور اپنی ٹیم کو احتساب کے لئے پیش کرنا شروع کر دیا۔ اضلاع کے اجتماعات ارکان میں نہ صرف کارکنان کے سوالات کے جوابات پوری فراخ دلی سے دئیے بلکہ تجاویز بھی لیں۔اسی طرح پنجاب کو تنظیمی طور پر تین صوبوں میں تقسیم کر کے انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کیا گیا اور تینوں تنظیمی صوبوں کی ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔2019ء کے آغاز سے ہی مرکزی شوریٰ کی مشاورت سے ملک بھر میں رابطہ عوام مہم کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور 24 فروری کو اسلام آباد میں یکم مارچ سے 30 روزہ رابطہ عوام مہم کا اعلان سینیٹرسراج الحق نے ایک پریس کانفرنس میں کردیا۔
قبل ازیں انہوں نے جماعت اسلامی شمالی پنجاب کے ضلعی ذمہ داران، ضلعی شوراؤں کے ارکان، میونسپل کمیٹیوں کے امراء، یوتھ اور دیگر شعبہ جات کے صدور و سیکرٹریز  سوشل میڈیا ہیڈز وغیرہ(تقریباً400منتخب عہدیداران) کی ٹریننگ ورکشاپ میں خطاب کیا اور کھل کر تمام باتیں ان کے سامنے رکھ دیں۔
امیر جماعت سینیٹر سراج الحق کے ان اقدامات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ کارکنان پر وقتی طور پر بظاہر مایوسی اور جمود کی جو کیفیت چھائی تھی وہ کافی حد تک چھٹ گئی ہے اور جماعت کا کارکن جس پروپیگنڈہ کا شکار ہو گیا تھا وہ اس کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔جماعت اسلامی کی رابطہ عوام مہم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس میں ابھی بھی جان باقی ہے بلکہ وہ اتنی توانا اور مضبوط اب بھی ہے کہ پارلیمنٹ میں نہ ہونے یا برائے نام ہونے کے باوجود معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جماعت اسلامی شمالی پنجاب کی لیڈرشپ ٹریننگ ورکشاپ کے شرکاء کے تاثرات، رابطہ عوام مہم کی پلاننگ اور جماعت کی اختیار کردہ نئی پالیسیاں اس کا ثبوت بہم پہنچاتی ہیں کہ جماعت اسلامی تو اپنی طبعی عمر کو نہیں پہنچی البتہ اسے طبعی عمر تک پہنچانے کی خواہش رکھنے والوں کا یہ پروپیگنڈہ اپنی طبعی عمر کو پہنچ کر اپنی موت آپ مر گیا ہے۔ الیکشن میں شکست کے بعد بھی جماعت اسلامی کے عوامی اجتماعات میں عوام کی دلچسپی اور شرکت جماعت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے، ہر سطح پر جماعت کی مسلسل سرگرمیاں  اور سینیٹرسراج الحق کے والہانہ استقبال، بھرپور نعرے اور اس دوران بھی جماعت اسلامی کی صوبائی و مرکزی مجلس شوریٰ اور امیر جماعت کے انتخاب کے لئے انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد ،اسی طرح سوشل میڈیا پر مخالفین کی طرف سے بار بار جماعت اسلامی پر بحث اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ مخالفین بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی کی طبعی عمر والا ان کا پروپیگنڈا ہی اپنی طبعی عمر پوری کر کے فضا میں تحلیل ہو چکا ہے۔
جماعت اسلامی کی رابطہ عوام مہم کا فارمیٹ بھی سابقہ ممبرسازی مہمات سے کافی مختلف، منفرد اور عملی نظر آتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنی سابقہ سیاسی و اجتہادی غلطیوں سے کافی سبق سیکھا ہے اور اب اس پالیسی پر عمل پیرا ہونے جا رہی ہے جس کا مطالبہ عوام کی طرف سے ہے، جماعت نے اتحادی سیاست کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا ہے، متحدہ مجلس عمل سے بتدریج انخلاء کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے نیز یہ فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے کہ سیاست میں حصہ لینے کے لئے کسی الگ ونگ کے قیام کی قطعی ضرورت نہیں ہے بلکہ جماعت اسلامی کے نام سے ہی سیاست میں حصہ لیا جائے گا ۔ جماعت کی پالیسیاں ملک کے حالات کو دیکھ کر بنائی جائیں گی نا کہ کسی دوسرے ملک میں اسلامی تحریک کی نقالی کی جائے گی ۔ جلد ہی دستور جماعت میں عصر حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ممکن ہے کچھ ترمیمات بھی کر دی جائیں۔
یہ سب اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی ابھی نہ صرف زندہ ہے بلکہ مستقبل کی طویل المدتی و مختصرالمدتی منصوبہ سازی کے ذریعے خود کو ایک متبادل سیاسی قوت میں ڈھالنے کے لئے ایک جامع و واضح روڈمیپ تیار کر رہی ہے۔ انتہائی سائنٹیفک انداز میں تجزیات اور پلاننگ کا کام جاری ہے۔ اگر جماعت اسلامی نے یہ سلسلہ کامیابی سے جاری رکھا تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں جماعت اسلامی زیادہ زور دار طریقے سے اپنے پروگرام کے ساتھ عوام کے دلوں پر دستک دے گی اور عجب نہیں کہ اس بار عوام جماعت اسلامی کو موقع دے ہی دیں،ایسی صورت حال میں جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی عظمت کا سورج غروب ہو چکا ہے اور تبدیلی صرف سات ماہ میں ایکسپوز ہو گئی ہے۔اگر جماعت اسلامی کے کارکنان عوام تک پہنچ جائیں تو پھر جماعت اسلامی کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

عنایت اللہ کامران
عنایت اللہ کامران
صحافی، کالم نگار، تجزیہ نگار، سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ سیاسی و سماجی کارکن. مختلف اخبارات میں لکھتے رہے ہیں. گذشتہ 28 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک، کئی تجزیے درست ثابت ہوچکے ہیں. حالات حاضرہ باالخصوص عالم اسلام ان کا خاص موضوع ہے. اس موضوع پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں. طنزیہ و فکاہیہ انداز میں بھی لکھتے ہیں. انتہائی سادہ انداز میں ان کی لکھی گئی تحریر دل میں اترجاتی ہے.آپ ان کی دیگر تحریریں بھی مکالمہ پر ملاحظہ کرسکتے ہیں. گوگل پر "عنایت اللہ کامران" لکھ کربھی آپ ان کی متفرق تحریریں پڑھ سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *