کیا امن پسندی ایسی ہوتی ہے؟۔۔۔چوہدری عبدالمنان خان

اقبال نے کیا خوب لکھا تھا کہ؛
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوح  محمدﷺ اس کے بدن سے نکال دو!
آج تم نے ایک دفعہ پھر دیکھ لیا بھارت کا شدت پسند چہرہ۔ تم نے دیکھا کہ بھارت عالمی سطح پہ ہمیں تنہا کرنے کی کیسی سازشیں رچ رہا ہے۔ کیسے بھونڈے انداز میں اس نے پلوامہ حملے کا ڈرامہ رچا اور دنیا نے بھارت کی بوکھلاہٹ سے اندازہ لگا لیا کہ اس حملے کے پیچھے بھارت کا اپنا ہی ہاتھ ہے۔ اب اگر تم یہ کہو کہ پاکستانیوں نے بھی تو بھارتی ترنگے کی تذلیل کی ہے تو سُن لو! اگر بلوچستان کا نوابزادہ میر سراج رئیسانی ترنگے کو اپنے جوتے پہ نہ بھی رکھتا تو بھی بھارت کے شدت پسندوں نے تمہیں پاکستان کے پرچم کی ایسی ہی تصویر دکھانی تھی۔ کیا یہ تمہارے پرچم کی بےحرمتی کا پہلا واقعہ ہے؟ آج جب لوگ کشیدہ حالات میں جذباتی ہو کر جنگ کی بات کرنے لگیں تو اپنے نوجوان کو جنگ کی تباہ کاریوں پہ لیکچر جھاڑتے سن کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اے نوجوان! تجھے ایسے امن کا سبق کس نے پڑھایا؟ آج کے مسلم کو دیکھ کر کفِ افسوس ملتا ہوں کہ  یہ کیسا مسلم ہے جو موت سے ڈرتا ہے جب کہ اسی مسلم کے آباء نے اپنا تن من وار دیا مگر ذلت کی زندگی پرعزت کی موت کو ترجیح دی۔

اے نوجوان! یہ روحِ مُحمدیﷺ تیرے بدن سے کس نے نکالی؟ یاد رکھو میرے پاکستانیوں! بھارت ہمیشہ سے شدت پسند رہا ہے اور ہندو بنیا کبھی بھی تمہیں قبول نہیں کرنا چاہتا۔ عمران خان نے بھی تو کوشش کر کے دیکھی ہے نا کہ بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کیئے جائیں لیکن کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کیسے اس نے تمہاری امن کی دعوت کو ٹھکرایا؟ کیسے اس نے بھری دنیا میں تمہیں دھتکار دیا۔ ہم بھی امن چاہتے ہیں لیکن برابری کی سطح پر، لیکن بھارت چاہتا ہے کہ خطے میں اس کی چودھراہٹ کو قبول کیا جائے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کیوں؟ خدارا ایسے حالات میں بھی اگر آپ امن کی بات کریں گے تو یقین کیجیئے کہ آپ کبھی بھی امن پسند نہیں کہلائیں گے۔ رہتی دنیا تک آپ کا نام بزدلوں کی فہرست میں ہی لکھا جاتا رہے گا۔ اور یوں بھی ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ ’’اگر تم موت کے ڈر سے ذلت و رُسوئی قبول کرو گے تو تمہارے نصیب میں موت بھی ہوگی اور رُسوائی بھی‘‘۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
(فیضؔ)
رہے نام مولا کا۔

چوہدری عبدالمنان خان
چوہدری عبدالمنان خان
کوئی مجھ تک پہنچ نہیں پاتا ۔۔ اتنا آسان ہے رستہ میرا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *