• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جامعہ عثمانیہ میں آرٹس فیسٹیول ۔آنکھوں دیکھا حال/رضوان اللہ پشاوری

جامعہ عثمانیہ میں آرٹس فیسٹیول ۔آنکھوں دیکھا حال/رضوان اللہ پشاوری

موجودہ دور کو علم کا دور جب کہ اکیس ویں صدی کو ٹیکنالوجی کی صدی کہا جاتا ہے۔ ہر ایک علم وفن کے حوالے سے ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔ دراصل علم ہی ہماری وہ میراث ہے جس کی بدولت ہم نے ترقی پائی تھی۔ اپنے اسلاف کے ورثے سے دوری اور علمی حوالے سے تنزلی پر شاعر مشرق علامہ محمد اقبال بھی نالاں نظر آتے ہیں:
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
علمی وعملی زوال کے اس دور میں مدارس ہی قوم کی وہ واحد امنگ ہیں جو قوم کو ترقی کی طرف گامزن کرسکتے ہیں۔ ملک کے طول وعرض میں ایسے دینی وعصری تعلیمی ادارے موجود ہیں جوعلم کی اس شمع جلائے، انسانیت کو روشنی فراہم کررہے ہیں۔ رب العرت کے خصوصی احسانات کی بدولت، وقت کے اس عظیم تقاضے اور علوم وفنون کے اس جدید دور میں صوبہ خیبرپختون خواہ کا جامعہ عثمانیہ بھی کسی سے کم نہیں۔ الحمدللہ ’جامعہ عثمانیہ پشاور‘ اپنی نصابی سرگرمیوں میں پورے ملک میں ایک نام رکھتا ہے۔ آپ جہاں بھی جائیں آپ کو ’جامعہ عثمانیہ پشاور‘ کا نام روشن اور چمکتا نظر آئے گا۔ جب بھی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو الحمدللہ میرا مادر علمی صف اول میں نظر آتا ہے۔
جامعہ عثمانیہ پشاور ناصرف نصابی سرگرمیوں میں خوب سرگرم ہے بلکہ ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی جامعہ ھذا اپنی مثال آپ ہے، جس کا اندازہ جامعہ میں ہونے والی مختلف تقریبات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی چند دن قبل ہونا والا ’آرٹس ایند فوڈ فیسٹیول ‘ بھی تھا۔ ’آرٹس اینڈ فوڈ فیسٹیول‘ کے نام سے موسوم اس نمائشی تقریب میں صوبہ خیبر پختون خواہ کے تمام اضلاع کے الگ الگ اسٹال بنائے گئے تھے۔ انہی اسٹالز کے درمیان ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے اپنا ایک روایتی حجرہ بھی بنایا تھا جس میں اس علاقے کے بڑے لوگ بیٹھے ہوتے اور لوگوں کے درمیان صلح، صفائی کے فیصلے کیا کرتے۔ اضلاعی اسٹالز میں سے چند یہ تھے؛ مثلاً چترال، بونیر، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، جنوبی اضلاع، ہنگو، باجوڑ اور بھی مختلف اضلاع کے اسٹال قائم کئے گئے تھے۔ تمام اسٹال میں مادرعلمی کے طلبہ نے اپنے اپنے اضلاع کی مشہور اشیاء کے ماڈلز اپنے ہاتھ سے بناکر سجائے تھے۔ جو بھی ہاتھ سے بنائے گئے ان نمائشی ماڈلز پر نظر ڈالتا تو بے اختیار انگشت بدنداں ہوجاتا اور کہہ اٹھتا واللہ! یہ تو بالکل اصلی معلوم ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان میں چند ماڈلز کے نام یہ ہیں؛ تھل مسجد کمراٹ، پیربابا مزار، پیر بابا مسجد، خوشحال خان خٹک مزار، جامع مسجد مولانا شیخ عبدالحق رحمہ اللہ، بابر خٹک مزار، مردان ریلوے اسٹیشن، توپوں کا چوک مردان، سپورٹس کمپلیکس مردان، نحقی ٹنل مہمند، مسجد الحرام کا ماڈل، اصحاب بابا مزار، قلعہ بالاحصار، اسلامیہ کالج پشاور، باچا خان چوک پشاور، گنبد مسجد ٹل، کوہاٹ ٹنل، کرک گیس پلانٹ وغیرہ وغیرہ۔
اس کے ساتھ ساتھ نمائش میں بہت سے علمائے کرام کے تبرکات بھی دیکھنے کو ملے۔ بہت سی جنگی اشیاء (سامان) بھی تھیں، ایک تلوار تھی جو دو سو سال پہلے انگریزوں سے زبردستی چھینی گئی تھی، اس کے علاوہ چھ سو سال پرانی جنگی اشیاء بھی اسی نمائش کی زینت تھی۔ یہ تقریب دو دن تک جاری رہی۔ اس کے بعد ’جامعہ ‘ کے کبار اساتذہ کرام کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جنہوں نے تمام سٹالز کا وزٹ کرکے نمبرات لگائے۔ نمبرات کمیٹی میں استاد مکرم ومحترم حضرت مولانا مفتی نجم الرحمن حفظہ اللہ، استاد محترم مفتی تحمید اللہ جان حفظہ اللہ اور جامعہ کے روح رواں کے صاحبزادے مولانا احسان الرحمٰن حفظہ اللہ شامل تھے۔
جامعہ کے روح رواں، استادی وشیخی مفتی غلام الرحمن دام فیوضہم اور ہر کسی کے دلوں کی دھڑکن، استاد مکرم حضرت مولانا حسین احمد حفظہ اللہ ناظم تعلیمات جامعہ عثمانیہ پشاور وناظم وفاق المدارس العربیہ صوبہ KPK نے دل موہ لینے والے بیانات سے طلبہ کرام کو نوازا اور ان کے علاوہ ہر آنے والے معزز مہمانان گرامی کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع بھی دیا۔ اس تقریب کے اختتام میں جامعہ کے روح رواں حضرت مولانا مفتی غلام الرحمن حفظہ اللہ نے ایک عجیب واقعہ سنایا۔ وہ واقعہ بھی قارئین کرام کے گوش گزار کرنا چاہوں گا۔ حضرت نے فرمایا کہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں میرا ایک شاگرد تھا، ایک مرتہ اس نے مجھے بتایا کہ میرے پاس گھر میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی قمیص ہے۔ میں نے اُسے وہ قیمص دکھانے کو کہا۔ طالب علم وہ قمیص میرے پاس لے آیا، میں نے وہ قمیص پہن لی جس سے مجھے بہت راحت محسوس ہوئی۔ اس واقعہ کے کئی راتوں بعد مجھے خواب میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی زیارت ہوئی۔ پھر چند دن بعد میں جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص ملنے آیا۔ میں نے پوچھا:آپ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے کچھ لگتے ہیں؟ انھوں نے سوال کی وجہ دریافت کی تو حضرت مفتی صاحب نے جواب میں کہا کہ مجھے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی خواب میں زیارت ہوئی ہے، آپ بالکل ان کے ہم شکل ہیں، اُس مہمان نے جواب میں کہا کہ میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا نواسہ ہوں۔ یہ واقعہ مجھ سمیت کئی قارئیں کے لیے بالکل نیا تھا۔ بہرحال، دو روزہ یہ آرٹس فیسٹیول فن کی دنیا میں اپنی مثال آپ تھا۔ مہمان گرامی کے لیے کھانے کا عمدہ اہتمام کیا گیا تھا جب کہ ہر آنے والے مہمان کو خوب عزت ووقار سے نوازا گیا تھا۔
قارئین کرام! جامعہ عثمانیہ سمیت ملک کے دیگر مدارس میں بھی سال بھر، اس طرح کی بے شمار تقاریب منعقد ہوتی رہتی ہیں جو مدارس کی فنون لطیفہ اور ملک پاکستان سے محبت کی عکاس ہیں۔ جامعہ عثمانیہ سمیت ملک کے دیگر ہزاروں مدارس ومکاتبِ دینیہ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ مدارس کا اُن نام نہاد الزامات سے کوئی تعلق نہیں جو ان پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مدارس معاشرے کی وہ نبیادی ضرورت ہیں جس کے باعث کوئی بھی معاشرہ، علمی معاشرہ کہلایا جاسکتا ہے۔ معاشرے کے اس اہم ضرورت اور مدارس کے اس عظیم کردار پر علامہ اقبال مرحوم کے تاریخی جملے کون بھلاسکتا ہے۔ تاریخ کے اُس عظیم انسان نے کہا تھا:
’’ان مکتبوں کو اسی حال میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو ان ہی مکتبوں میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا اسے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ اگر ہندوستان کے مسلمان مکتبوں کے اثرسے محروم ہوگئے تو بالکل اسی طرح جس طرح ہسپانیہ (اسپین) میں مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈر اور الحمراء اور باب الاخوتین کے سوا اسلام کے پیرواں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔ ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دہلی کے لال قلعہ کے سِوا مسلمانوں کی آٹھ سو سالہ حکومت اور تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔‘‘
جامعہ عثمانیہ سمیت دنیا بھر کے ممالک بھی امت کو اس سیدھی راہ کی طرف گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں جس سے ہم دنیا میں اسلام کا بول بالا کرسکیں گے، انشاء اللہ! اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان کی خدمت کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین

Avatar
مولانا رضوان اللہ پشاوری
مدرس جامعہ علوم القرآن پشاور ناظم سہ ماہی ’’المنار‘‘جامعہ علوم القرآن پشاور انچارج شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ علوم القرآن پشاور

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *