بدلتا ہے رنگ “عاصمہ” کیسے کیسے ۔۔۔ راشد ملک

مولانا مودودی اور عاصمہ جہانگیر
ستمبر 1979 میں میں نویں جماعت کا طالب علم تھا اور کچھ عرصہ قبل اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر کے اور اپنے والد صاحب سے بھرپور اختلاف کر کے بہترین انگریزی میڈیم اسکول ڈی پی ایس لاہور سے ٹاٹوں والے گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری اسکول میں اپنا تبادلہ کروایا تھا – اس پر پھر کبھی لکھیں گے – گھر سے سیاسی شعور بھٹو مخالفت کا تھا اور سب آئے دن بھٹو کی سزائے موت کا انتظار کر رہے تھے – کہ ایک دن اچانک اخبار میں پڑھا کہ معروف تحریکی عالم دین مولانا مودودی امریکا میں انتقال فرما گئے –
کوئی دو تین روز بعد حسب معمول اسکول میں اکتاہٹ بھری کلاس میں بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ اچانک اسکول میں خوشی کا شور اٹھا کہ حکومت نے لاہور میں مولانا مودودی میں جنازے میں شرکت کو وجہ بنا کر چھٹی کا اعلان کر دیا ہے – “کوئی مرے تے سانوں چھٹی ملے” اس عمر میں انتہائی خوشی کا باعث ہوتا ہے – بستہ اٹھایا اور بھاگے بھاگے اسکول سے باہر – بے وقت کی چھٹی پر چنا چاٹ والے کو اسکول کے باہر نہ پا کر انتہائی مایوس ہوۓ اور مایوسی کے عالم میں پیدل ہی گھر کو ہو لیے – یہ مشاہداتی تجسس کے وہ دن ہوتے تھے کہ دکانوں کے بورڈ اور بوتلوں کے ڈھکن پڑھ کے تعلیمی قابلیت میں اضافہ کیا جاتا تھا اور کتابیں صرف امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھی جاتی تھیں- وحدت روڈ پر کوئی ڈیڑھ کلومیٹر کی مسافت کے بعد جب فیروزپور روڈ پہنچے تو ایک جلوس نظر آیا حیرت ہوئی کہ اس سے پہلے زندگی میں کبھی ایک ساتھ اتنے افراد پیدل نہیں دیکھے تھے – غور سے دیکھا تو وہ جلوس میں ایک لمبے بانسوں والا ایک جنازہ انسانوں کے سروں پر رینگ رہا تھا – شہادت کے بے انتہا ورد فضا میں ایک عجیب سی مدھم دھن بنا چکے تھے – ایسے میں ہم بھی وقت دیکھنا بھول گئے اور غیر ارادی طور پر جلوس کے ساتھ ساتھ ہو لیے – اس وقت اپنی نحیف جسامت کے اعتبار سے کبھی منجی کے قریب پہنچ جاتا اور کبھی دور – کوئی گھنٹے بعد جنازہ زیلدار روڈ اچھرہ پہنچ گیا تو ہجوم کو وہیں روک دیا گیا کہ مولانا کے گھر میت کے دیدار کے انتظامات کرنا مقصود تھے – کوئی مزید ایک گھنٹے بعد کوئی ایک بہت لمبی لائن لگوا دی گئی کہ آتے جاؤ، دیکھتے جاؤ، نکلتے جاؤ –
حالات پر غور کرنے سے پتہ چل گیا کہ جنازہ پڑھا جا چکا ہے اگلے روز اخبار میں پڑھا کہ جنازہ پڑھانے کے لیے امام کعبہ خصوصی طور پر حجاز مقدس عرف سعودیوں کے عرب سے تشریف لاۓ تھے – مولانا مودودی سے یہ میری پہلی شناسائی تھی – اور ابھی ان کی تحریک میں سر پر کفن باندھنے میں کوئی دو ایک سال رہتے تھے –
مزید کچھ وقت گزرتا ہے یہاں تک کہ اپنی سوچ اور سمجھ کو مولانا مودودی کے پاس جنت کے وعدے کے عوض گروی رکھے ہوۓ کوئی سال ہو چکا تھا – زندہ بھٹو کو اپنی لحد میں اترے ہوۓ کو بھی دو سال گزر چکے تھے لیکن ہماری زبانوں پر ایک ہی فلک شگاف نعرہ ہوتا تھا کہ “زندہ ہے جمعیت زندہ ہے اللہ، رسول اور مودودی کے صدقے زندہ ہے” ایسے میں اخباروں میں دو بہنوں کے متعلق کبھی کبھار پڑھنے کو ملتا تھا کہ انسانیت کے جھانسے میں دو بہنیں عوام کو کفر میں مبتلا کر رہی ہیں- یہ بہنیں واضح طور پر ملعون ہیں اور یہودی و نصاریٰ کے مذموم ایجنڈے پر کام کر رہی ہے – نام ان بہنوں کے عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی ہیں – ذاتی طور پر ان دونوں سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کے متعلق کوئی ایک بات معلوم ہوتی کہ جس پر انسانوں کو انکے مذموم عزائم کے بار میں بتایا جا سکے، ہمارے لیے باعث رحمت ہی ہوتی تھیں- ایسے میں کسی نے بتایا کہ عاصمہ کا تو کوئی دین ایمان ہی نہیں، اس نے تو شادی بھی ایک “قادیانی” سے کی ہے وہ تو اب اسلام اور مسلمانوں کی مشترکہ دشمن ہے – بس اگلے بیس سال محترمہ کے خلاف ہمارے پاس یہی ایک ٹھوس اور ناقابل تردید دلیل تھی کہ محترمہ کی کوئی بات سنی نہ جائے اور ہر دلیل پر آنکھیں، دل اور دماغ بند کرکے قادیانیت کا ٹھپہ لگا دیا جائے- لیکن کیا عجیب و غریب تھی وہ خاتون کہ دونوں کان بند اور ناک کی سیدھ، دنیا و مافیا سے بے پروا اپنی دھن میں مگن، انسانیت اور قانون کا راگ الاپے جاتی تھی – زندگی میں پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن پر اس کا ایک انٹرویو دیکھا کہ جس میں وہ تیزاب زدہ خواتین کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہے – پہلی مرتبہ ذہن نے کہا یار دیکھو جو بھی ہے، لیکن ظلم کے خلاف کھڑی ہے – اس روز کے بعد سے ہر گزرے روز دل میں اس کی عزت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا گیا اور اپنی کرتوتوں پر شرمندگی – پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ سرٹیفائیڈ (سند یافتہ) ملعون ہونا بھی اعزاز کا درجہ ہے – پھر جب عافیہ صدیقی، اسامہ بن لادن کی فیملی اور آخر میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے طالبان کے انسانی و قانونی حقوق کی جنگ اس خاتون کو لڑتے دیکھا تو سمجھ آئی کچھ لوگ مذہب سے بالاتراپنا ایک مقام بناتے ہیں – وہ دنیا سے اپنے تمغے وصول نہیں کرتے بلکہ یہ تمغے انکی ذات انہیں عطا کرتی ہے –
دو روز پہلے پاکستان کے مستقبل کی ایک جہد مسلسل ہمیں ایک نئی رہ پر ڈال کر، انسانیت کی قدریں سکھا کر، مسلسل اوور ٹائم میں کام کرنے والی مزدورن زندگی سے ہار گئی –
پڑھا کے حیدر فاروق مودودی نماز جنازہ پڑھائیں گے، جنازہ مودودی صاحب کی طرح قذافی اسٹیڈیم میں ہو گا، اور تدفین بھی قبرستان کی بجائے اپنے اپنے گھر میں ہو گی- تو لگا کہ شعور کا اک سفر چالیس سال میں مولانا مودودی سے عاصمہ جہانگیر کی جانب طے ہوا جس میں ایک اکیلی مسافر اپنی جانب نفرتوں کو مسلسل عوام کی بہتری کی جانب موڑتی چلی گئی-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *