فراڈن ۔۔۔سلیم مرزا

خطرہ کس کام میں نہیں ہوتا ؟
دوسال پہلے اچھا بھلا کام پہ جارہا تھا۔ ۔حادثہ ہوا ، بازو ٹوٹ گیا ۔
ڈاکٹر نے ایسا واہیات جوڑا ہے کہ میرے دل جیسا ہوگیا ہے۔ جو کام کہتا ہوں وہ کرتا نہیں اور جو نہیں کہتا وہ بالکل ہی نہیں کرتا ۔
پیچ بھی ایسے گھٹیا لگے ہیں کہ جوتے کے کیل کی طرح چبھتے ہیں ۔دائیں طرف کروٹ لیکر سوتا ہوں تو خواب پنکچر ہوجاتے ہیں ۔اور بائیں طرف مسلسل سونے سے دل پہ اتنا بوجھ بڑھ گیا ہے کہ پڑوسن بھی اب دکھ نہیں سنتی ۔۔کہتی ہے تمہارا تو روز کا یہی سیاپہ ہے ۔

پرانے وقتوں میں ہمت بھی تھی اور دلیری بھی ۔۔اب کوئی ہلہ شیری بھی دے تو شیری رحمان کی جگہ شیری مزاری نکل آتی ہے ۔

ہمت پہ ایک واقعہ یاد آگیا ۔ایک جوانمرد پانچ چھ سال قبل کسی بازار میں گھوم رہا تھا ۔
کھوی سے کھوا چھل رہا تھا کہ ایک خوبصورت خاتون پہ نظر پڑی ۔جوان کا منہ مولانا پوپلزئی جیسا ہوگیا ۔حالانکہ بڑی عید میں چار دن باقی تھے ۔وہ سوہنی اتنی تھی کہ اس کا جی چاہا ابھی اعلان کردے
“بھائیو،صبح بکرے کاٹ لینا ،چاند نظر آگیا ہے “۔
پھر شبیر کے والد صاحب نے دیکھا کہ جدھر جدھر وہ جاتی ،وہ آدمی اس کے پیچھے یوں چل رہا  تھا ،جیسے اپنی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے بلکہ نیچے چل رہی ہے ۔
وہ حسینہ ایک جوتوں کی دکان میں گھس گئی ۔۔
کمینہ بھی گرتا پڑتا اس کے پیچھے دکان میں چلا گیا۔
وہ سمجھ گئی چیئرمین میرے پیچھے ہے ۔۔اور نیب کی اثاثہ جات پہ پوری نظر ہے ۔
اس نے اپوزیشن کی طرح کن اکھیوں سے دیکھا ۔
آنکھیں ملیں ،جھجھکی پھر کچھ پلکوں کی اٹھک بیٹھک ہوئی ،پٹواری کے منڈے نے دور سے “پٹھے سدھے “اشارے بھی کیے ۔آخر کار اس کے سامنے پانچ ہزار کا نوٹ جیب سے نکالا ۔ہاتھ میں پکڑا اور اس کے بالکل قریب جاکر اس کے پاؤں میں جھک گیا ۔وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
اس نے پانچ ہزارکا نوٹ سیدھا کھڑا ہوتے ہی اس کے سامنے لہرایا ” یہ آپ کا گرگیا تھا ۔”
وہ نوٹ کو ہکی بکی دیکھتی رہ گئی۔۔وہ دلیر انسان سیدھا اس کی آنکھوں میں التجائیہ انداز سے دیکھ رہا تھا ۔
“اب لے بھی لو “۔۔۔
اس سے پہلے کہ کوئی اور متوجہ ہوتا اس حسینہ نے نوٹ پکڑ لیا ۔
“آپ کا دوسرا نوٹ میری جیب میں ہے ،میں دہی بھلے والی دکان کے باہر کھڑا ہوں ”
اتنا کہہ کر وہ جوتے کھائے یا خریدے بنا نکل آیا ۔اسے یقین تھا کہ وہ آئے گی ۔
بنکاک میں بھی ایسے ہی ہوتا تھا ۔کسی راہ چلتی پہ دل آجاتا تو سو ڈالر کا نوٹ پھاڑ کر آدھا اسے دے دیتے ۔
اگر وہ پکڑ لیتی تو ہولے سے صرف اتنا کہتے
روم نمبر چار سو بیس گریس ہوٹل پہ باقی آدھا مل جائے گا ۔ان دنوں بھی جوڑے چوتھے فلور پہ ہی بنتے تھے ۔
مگر ہر علاقے کی اپنی کرنسی ہوتی ہے۔ ۔اپنا کلچر ہوتا ہے ۔
اب تو دہی بھلے کی دکان ہر بازار میں ہوتی ہے ۔ورنہ پہلے صرف حافظ جوس گڑھی شاہو لاہور میں چھوٹے کیبن کی سہولت ہوتی تھی۔
شیر پنجاب نے دکان کے باہر کھڑے کھڑے جوس کے دو گلاس پیے ۔ حالانکہ مسمی میں پانی اور چینی کا کافی تڑکہ تھا ۔
ٹھیک دو گھنٹے بعد وہ لڑکی جسے پانچ ہزار کا نوٹ دیا دور تک نظر نہ آئی ۔بیچارے نے بازار کے چھ چکر لگائے ۔
وہ نکل گئی ۔۔بے ایمان عورت
اگلے جہان ستر گنا دیکر جان چھوٹے گی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *