ترکہ (the legacy)۔۔۔۔۔روما رضوی

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

پھر صبح ہوتے ہی امی ابا کی بحث شروع ہوگئی تھی۔۔۔ یہ صبح کا وہ وقت تھا کہ جب روزانہ اس وقت تک میں گھر سے نکل چکی ہوتی تھی لیکن  آج چھٹی کا دن تھا اور مجبوراً اس ماحول میں مجھے رہنا تھا۔
بہت کوشش کی کہ کسی طرح  ذہن کو کتاب پہ مرکوز کرسکوں لیکن مشکل تھا۔
روز کی طرح ابا کا  آج بھی امی سے یہی اصرار تھا کہ امی نانا ابا سے اپنے حصے کا مطالبہ کریں۔ اور امی کا کہنا تھا کہ میں اماں ابا سے کوئی حصہ نہیں مانگوں گی۔۔۔

میرے ابا بظاہر ایک معقول  آمدنی پر ملازم تھے اور ہم تین بہن بھائی اچھے حالات ہی میں پرورش پا رہے تھے۔ لیکن ابا اپنے وسائل کو بڑھانے کیلئے اماں سے یہ مطالبہ اکثر کیا کرتے تھے۔
“تمہارے ابا نہ  رہے تو تمہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہوگا۔ یہ بھائی لوگ صرف اسی وقت تک تمہارے   ذمہ دار ہیں جب تک ان کی پوچھ گچھ تمہارے ابا میاں کر رہے ہیں”۔ ابا نے ذرا تیز آواز سے کہا۔

“پھر بھی۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگے گا کہ ان کے آخر وقت میں ان سے جائیداد میں حصہ مانگوں! امی کی بھی ایک ہی رٹ تھی۔۔

بہرحال اس وقت کو گذرے بھی اب عرصہ ہوگیا۔۔ یہ باتیں آج اس لئے یاد آگئیں۔۔ جب احمر کے منہ سے یہی سب میرے کانوں نے سنا۔ احمر میرے شوہر ہیں۔ میرے بھی اتفاقیہ تین بچے ہیں۔
دو بیٹیاں اور ایک صاحب زادے۔
“ذرا اپنے ابو سے بات تو کرنا”۔ احمر نے پھر بات دہرائی۔
لیکن وہ میری شادی پر پہلے ہی اتنا کچھ دے چکے ہیں۔ اچھا نہیں لگتا اب مجھے یہ سب بار بار کہنا۔
میں نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔

اتنے میں میری ساس نے   آکر ایک جملے کا اضافہ کیا۔ ارے بھئی۔۔۔ بیٹیوں کو تو والدین تمام عمر دیتے رہتے ہیں اور مجھے تو حسرت ہی رہی کہ تمھارے گھر سے کسی بچے کی پیدائش پہ ہمارے لیے بھی کبھی کچھ  آیا ہو۔؟
وہ لوگ بھی تو ہیں جو بیٹیوں کو زمینیں تک جہیز میں دیتے ہیں۔۔۔”

اب میں خاموش تھی۔ بے دلی سے گھر کے تمام کام مکمل کیے۔

آج سوچا کہ امی ابو سے مل ہی لوں۔ دوپہر تک ابو کے گھر پہنچ گئی تھی۔ میرے دونوں بڑے بھائی ہمیشہ سے ہی میرے بہت لاڈ اٹھاتے ہیں۔ اس وقت گھر میں امی تھیں ابو موجود نہیں تھے۔ بھابیاں اپنے کاموں میں مصروف تھیں۔۔ کچھ ہی دیر میں ابوگھر میں داخل ہوئے ان کے گھر آتے ہی میرے چہرے پر بھی جیسے رونق سی  آگئی۔
ان کی ایک ہی بیٹی جو ہوں۔ وہ مجھ کو بہت چاہتے ہیں۔۔
کب آئیں؟ شام تک تو رہوگی ناں؟
ان کی خوشی مجھے بھی محسوس ہوئی
انکا اچھا موڈ دیکھ کر دل چاہا  آج پوچھ ہی لوں۔
باتیں کرتے کافی دیر گزر چکی تھی۔۔۔ بالآخر آہستہ سے پوچھا۔ ابا کیا بیٹیوں کا بھی ماں باپ کی جائیداد میں حق ہوتا ہے ؟۔۔
ابا ابھی جواب بھی نہیں دے پائے تھے کہ پیچھے سے بڑے بھیا کی آواز آئی

“یہ اسکا نہیں ان کے میاں کا سوال ہوگا؟
میں شرمندہ ہی ہوگئی۔
اتنے میں پیچھے سے دوسرے بھائی نے کہا
ابا وہ خود تو دنیا بھر میں فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہیں اور یہ محترمہ پبلک بسوں میں دھکے کھاتی پھرتی ہیں۔”

بھائی ! ۔۔میں اپنی مرضی سے ایسے ہی آتی ہوں۔ میں نے صفائی دی۔
اچھا اچھا۔ سب سمجھتا ہوں۔
بھائی کے لہجے میں اب تلخی سی در آئی تھی۔

ابو آپ نے اس کی شادی پہ کچھ کم خرچہ کیا تھا ہر سہولت کی چیز دی اپنے فنڈز تک لگا دیئے۔ اب کیا گھر کا بھی بٹوارہ ہوگا اس کے لیے؟

بس کرو ریاض۔۔ ابا کی اواز آئی۔ جو کچھ اس کی شادی پہ کیا گیا وہ میری خوشی تھی۔ اور جائیداد میں حصہ اللہ کی منظوری سے دیا جاتا ہے۔ ہم نے بھی جو کچھ اس کی قسمت تھی وہ ہی دیا نا اپنی حیثیت کے مطابق۔

ماحول کی تلخی دیکھ کے میں نے اٹھنے میں ہی بہتری سمجھی۔ ابا جی میں گھر چلتی ہوں۔ میں نے کہا
ارے تم تو شام تک کیلئے  آئی تھیں۔۔
کھانا تو کھا کے جاتیں۔۔اب امی بھی پریشان ہوگئیں۔

نہیں امی۔ کامی اسکول سے  آجائے گا پھر پریشان کرے گا۔
اسے اور کوئی بھی دیکھ لے گا تمہاری ساس وغیرہ اس وقت گھر ہوں گی۔
امی کے کہنے کے باوجود میں نہیں رکی۔
اچھا ایاز یا ریاض سے کہوں۔ چھوڑ دیں گے؟
نہیں نہیں۔ میں خود ہی چلی جاؤں گی۔۔ جیسے یہاں آئی تھی۔
میں نے امی کو بھائیوں کو بلانے سے روکا۔ ورنہ راستے میں اپنے شوہر کے مزید قصیدے سننے پڑتے۔

راستے بھر سوچتی رہی اور ایک فیصلے پہ پہنچی کہ میری دونوں بیٹیاں اس قابل ضرور ہوں کہ ان کو شوہر یا والد کی ہی کفالت یا جائیداد میں حصے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اپنے پیروں پہ کھڑی ہوں اور خود ایک مضبوط فرد کی طرح رہیں۔
جو گھر میں بھی مددگار ہوں اور معاشرے میں بھی اپنا ذاتی مقام رکھتی ہوں۔
صرف (Mrs xyz) نہ  ہوں۔

SHOPPING

خدا کرے کہ میں اس میں کامیاب ہوجاؤں۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *