مریخ ہم آ رہے ہیں۔۔۔۔ محمد یاسر لاہوری

حضرتِ انسان کا “ممکنہ” اگلا ٹھکانا
عزّتِ مآب سرخ سیارہ مریخ!

ستمبر 2018 کی ایک پرسکون رات میں لکھا ہوا مریخ نامہ!
آج کل رات نہایت پرسکون، مناسب ٹھنڈی اور صاف آسمان کے ساتھ وارد ہوتی ہے، رات کا کھانا کھانے کے بعد چھت پر کچھ دیر کی چہل قدمی عجیب سا سکون بخشتی ہے۔آج چھت پر گیا تو عطارد، زہرہ، مشتری اور زحل کے غروب ہونے کے بعد مریخ بھی اپنے ڈوبنے کے مقام کی طرف بڑھ رہا تھا۔چند ایک تصویریں لیں اور کچھ لمحوں میں نیچے آگیا۔تصویریں دیکھتے ہوئے مریخ کے بارے میں کچھ لکھنے کا خیال آیا تو قلم کاغذ اٹھالیا۔

عطارد کے بعد نظام شمسی کا سب سے چھوٹا مگر غیر معمولی سیارہ مریخ اپنے سرخ رنگ کی وجہ سے آسمانِ دنیا میں اپنی الگ ہی حیثیت رکھتا ہے۔سورج کے نزدیک ترین عطارد پھر زہرہ اور اس کے بعد تیسرا  نمبر ہماری زمین ہے، زمین کے بعد مریخ کا علاقہ ہے۔ہمارے نظام شمسی میں چار چٹانی سیارے ہیں جن میں عطارد، زہرہ زمین اور مریخ شامل ہیں۔چار چٹانی سیاروں کے علاوہ چار گیسی سیارے ہیں جن کے نام مشتری، زحل نیپچون اور یورینس ہیں۔چار چٹانی سیاروں میں آخری پوزیشن مریخ کی ہے۔ان چار چٹانی سیاروں میں زمین کے بعد مریخ ہی حضرت انسان کی حسرت و آس ٹھہرتا ہے۔ زمین سے کم و بیش پانچ کروڑ چھیالیس لاکھ کلومیٹر اور سورج سے بائیس کروڑ بیاسی لاکھ کلومیٹر کی دوری رکھنے والا سیارہ مریخ زمین ہی کی طرح موسموں کا تغیر و تبدّل بھی رکھتا ہے۔زمین ہی کی طرح وہاں بھی قطب ستارہ (Polaris star)سے راستہ معلوم کرنے کی سہولت قدرت کی طرف سے پہلے سے مہیا ہے، کیونکہ مریخ بھی تقریبا زمین ہی کی طرح اپنے محور پر جھکا ہوا ہے۔

تصوّر کیجیئے کہ انسان مریخ پر آباد ہو جاتا ہے اور کسی طریقے وہاں آکسیجن اور دوسری ضروریاتِ زندگی کو تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو کیا نظارہ ہوگا۔۔۔! زمین پر ایک چاند ہے، لیکن مریخ پر دو چاند ہوں گے ایک فوبوس دوسرا دیموس۔یہ دونوں چاند عام چاندوں کی طرح گول نہیں بلکہ پتھر کے بہت بڑے ٹکڑے ہیں جنہیں ایسٹرائیڈ کہا جاتا ہے۔فوبوس چاند بنسبت دیموس کے مریخ کے زیادہ نزدیک ہے،نظام شمسی میں اپنے سیارے کے قریب ترین فاصلے پر موجود چاند فوبوس ہے۔ زمین کا چاند زمین سے کم و بیش تین لاکھ چوراسی ہزار دوری پر رہ کر زمین کے گرد چکر لگاتا ہے لیکن فوبوس اپنے بائیس کلومیٹر کے ڈائی میٹر اور ٹیڑھی تِرچھی ساخت کے ساتھ مریخ سے صرف چھ ہزار کلومیٹر دور رہ کر مریخ کے گرد دیوانہ وار چکر لگاتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔۔۔دیوانہ وار اس لئے کہ فوبوس چاند مریخ پر ایک دن میں دو بار اپنا جلوہ دکھاتا ہے۔مریخ کے جلوے الگ ہی ہیں، مریخ زمین کے جیسا ہونے کے باوجود زمین سے کچھ الگ خصلتیں بھی رکھتا ہے۔ آپ مریخ پر کھڑے ہیں کیا دیکھتے ہیں کہ مریخ کا چاند فوبوس مغرب سے نکلتا ہے اور چار گھنٹے کچھ منٹس کے بعد غروب ہو جاتا ہے، آدھا دن گزرتا نہیں کہ فوبوس پھر سے نمودار ہو جاتا ہے اور آپ قدرت کے اس عجائب گھر کو بس دیکھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔جا ہاں مریخ کچھ ایسا ہی ہے!

زمین کے سینے پر ماؤنٹ ایورسٹ کسی دیو سے کم نہیں جس کی اونچائی اٹھائیس ہزار انتیس فٹ ہے، جسے سر کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں۔کیا نظارہ ہوگا جب ہم مریخ پر موجود نظام شمسی کے سب سے اونچے پہاڑ اولمپس مونس کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے (جس کی اونچائی چوبیس کلومیٹر کے لگ بھگ ہے) پھر ہم کےٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کی طرح اسے بھی سر کرنے کی کوششوں میں ہوں گے۔۔۔اگر اس کے اندر آتش فشانی عمل ایکٹیو نا ہوا تو!

مریخ پر ابھی تک مائع حالت میں پانی دریافت نہیں ہوا ہاں البتہ زمین کے قطبین کی طرح مریخ کے قطبین بھی کافی ساری برف کو سمیٹے ہوئے ہیں۔کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ یہاں ہماری زمین پر گرمی کے موسم میں پانی کو برف بنانے کا کام بہت عروج پہ ہوتا ہے۔۔کل کلاں مریخ پہ اس کے بالکل برعکس ہوگا۔مریخ کے قطبین کے گرد و نواح میں بہت بڑے بڑے کارخانے لگے ہوں گے۔زمین سے جانے والا مریخ کا نیا باسی حیرانگی سے ان کارخانوں کو دیکھے گا اور اس کے استفسار پر اسے بتایا جائے گا کہ یہ مریخ کے قطبین پر جمی ہوئی نییچرل برف کو پانی بنانے والے کارخانے ہیں۔قطبین کے انتہائی ٹھنڈے موسم کی وجہ سے آس پاس آبادی تو ہوگی نہیں لہذا برف کو پانی بنانے والے کارخانوں میں ایک الگ سے محکمہ بھی ہوگا جو اس پانی کو قطبین سے دور رہائش پذیر انسانی آبادیوں تک پہنچائے گا۔مطلب آپ کہہ سکتے ہیں کہ مریخ پر آبادکاری کے بعد برف کو پانی بنانے کا بزنس عروج پر ہوگا۔۔۔جیسا کہ زمین پر پانی کو برف بنانے کا۔۔۔!!!

کسی فیصلہ کن مرحلے پر پہنچ کر جب سب سے پہلا انسانی مشن زمین سے مریخ کی طرف اڑان بھرے گا تو ان خلا بازوں کے دل و دماغ میں کیا خیالاتی دنیا جگمگا رہی ہوگی!!! زمین سے دور جاتے ہوئے مریخ کے اولین مسافر زمین کو الودعی نظروں سے دیکھ رہے ہوں گے اور لمحہ با لمحہ قریب آتے مریخ کو حیرت و تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہے ہوں گے۔کون جانے مریخ اپنے احاطہ فضاء میں بھی کسی کو داخل ہونے دیتا ہے یا نہیں اس کی سطح پر قدم رکھ پانا تو بعد کی بات ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہےکہ مریخ اپنے سرخ رنگ کی طرح اپنے مزاج میں بھی غصہ اور توقع سے کہیں زیادہ خطرات سمیٹے ہوئے ہو، لیکن انسان جس کی نظر ترانوے (93) ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود دنیاؤں کو کھنگالنے پر ہو وہ محض پانچ کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود سرخ مریخ کو جانے اور جانچے بغیر کیسے رہ سکتا ہے۔یہ انسان کے اندر کا تجسس ہی ہے جو دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ہر روز مشاہداتی کائنات کے کنارے مزید وسعت اختیار کر رہے ہیں۔

لیجئے حضرتِ انسان کا بھیجا ہوا مریخ کی طرف پہلا انسانی مشن اپنی تکمیل کے اختتام پر ہے۔نہایت قریب پہنچنے پر مریخ کی وادیاں، پہاڑ، ہزارہا برس قبل بہہ کر خشک ہو جانے والے ندی، نالوں، دریاؤں کے نشانات اور خلاء کی وسعتوں سے آئے ہوئے شہابِ ثاقب کے ٹکراؤ کی وجہ سے پڑے گڑھے واضح ہو رہے ہیں۔خلاء بازوں کی ٹیم بغیر آنکھیں جھپکے ان مناظر کو دیکھ رہی ہے اور سانس تو جیسے کہیں دور سے آتی ہوئی آہٹ کو سننے کے لئے رک سی گئی ہے۔۔۔!!! جیسے جیسے مریخ کا فاصلہ کم ہو رہا ہے دھڑکنیں تیز ہو رہی ہیں، جانے اتر پائیں گے بھی یا نہیں! لینڈنگ ہوگی یا نہیں
اگر ہوئی تو اتنی آسان تو ہر گز نہیں ہوگی، یہ کوئی (Martian ) فلم تو نہیں ہو گی نا! یہ تو حقیقت سے پالا پڑے گا۔۔۔کہاں عرب کے صحراؤں میں فلمائی گئی (Martian ) مووی اور کہاں ہزاروں خطرات و عجائبات لئے ہوئے سرخ سیارہ مریخ۔۔۔!!!

اگرچہ یہ بات سوچنا اور کہہ دینا نہایت آسان ہے کہ مریخ زمین کا ہمسایہ ہے۔لیکن کم و بیش ساڑھے پانچ کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ اپنے اندر ایک معنی رکھتا ہے۔ایک الگ دنیا، پراسرار خطرات و عجائبات سے بھرا سفر، اتنا سفر کے آپ آٹھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والے ہوائی جہاز میں ابھی بیٹھیں اور سفر شروع کر دیں۔ایک سیکنڈ کا وقفہ ڈالے بغیر ہوائی جہاز پورے آٹھ سال تک چلتا رہے تو آپ اپنی منزل پر پہنچیں گے۔آٹھ سال تک آٹھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بغیر کہیں رکے۔اور جانا کہاں ہے جہاں ماحول اجنبی اور خطرات سے بھرا پڑا ہے۔زندگی سے خالی ایک بے آب و گیا ویران سیارہ۔۔۔اپنی وحشت اور ویرانی سے کوئی انسانی اعصاب کو منجمند کر دینے والا یہ سیارہ انتہائی کٹھن حالات لئے ہوئے ہے۔مریخ اتنی آسان منزل نہیں جس قدر آسان دِکھتی اور لگتی ہے۔

مریخ اور انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ ہونے کو ہے، اور وہ ہے انسانی قدموں اور مریخ کی سطح کا ملاپ! اَن گِنت و بے شمار خطروں کے باوجود انسان کسی بھی وقت مریخ کی طرف اڑان بھرنے کو تیار ہے۔یہ اڑان کامیابی سے ہمکنار ہوگی یا نہیں اس کا جواب تو وقت ہی دے گا، ہاں البتہ ہم بحیثیت انسان اپنے خالق کی طرف سے ایک باشعور اور متجسّس مخلوق کے طور پر پیدا کئے گئے ہیں۔لہذا ہم اڑان بھرنے سے پہلے ہی اپنے اگلے مُمکنہ ٹھکانے اور اپنے دوست سُرخ مریخ کو یہ نویدِ سفر سنا دینا چاہتے ہیں کہ
“اے مریخ!!! ہم آ رہے ہیں”

Avatar
محمد یاسر لاہوری
میں لاہور سے ہوں، دینی و دنیاوی علم حاصل کرنے کے بعد کافی عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا رہتا ہوں۔جن میں سے میرا من پسند موضوع معاشرے میں موجود بگاڑ کا سبب بننے والی اہم اور اصل وجوہات پر لکھنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فلکیاتی موضوعات پر بھی میرے قلم کی نظرِ خاص رہتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *