تکیہ تارڑ، بمقام لاہور کتب میلہ، ڈسکہ۔۔۔۔حارث بٹ

نیند سے زیادہ مجھے کوئی بھی شے عزیز نہیں ۔ سو کر ایک عجیب سا روحانی سکون ملتا ہے مجھے ۔ یہی وجہ سے ایک لمبے عرصے سے دوپہر کو سونا میرا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔ اس نیند کو میں قطعی طور پر قیلولہ کا نام نہیں دے سکتا کیونکہ میں دوپہر کو بھی اچھی خاصی لمبی تان کر سوتا ہوں ۔ قصہ ہے بدنامِ زمانہ چار سالوں کا جو میں نے فیصل آباد کی سڑکوں پر ذلیل و رسوا ہو کر گزارے۔ ہاسٹل میں میرے دونوں روم میٹ کی شام کی کلاسز ہوا کرتی تھیں جبکہ میں ایف ایس سی میں دو چار نمبر لیکر اپنا منہ کالا کر چکا تھا، اسی لئے مجھے صبح کی کلاسز میں داخلہ مل گیا۔ میرے دونوں روم میٹ مجھے بہت پیارے تھے اور آج بھی ہیں ۔ اس کی واحد وجہ ان کا میری نیند میں دخل اندازی نہ کرنا تھا۔ میں جب دوپہر کو میس سے کھانا کھا کر ہاسٹل کے کمرے میں وارد ہوتا تھا تو میرے دونوں روم میٹ اپنی کلاسز میں جا چکے ہوتے تھے ۔ میں فورا ً اپنے بستر میں گھس جاتا تھا اور پھر شام سات بجے میرے روم میٹ آ کر دروازہ پیٹتے تھے کہ بھائی اٹھ جا شام ہو چکی ۔ اور میں سورج کے ڈوب چکنے کے بہت بعد بیدار ہوتا تھا۔ میری بہت ہی پکی نیند نرگس کی طرح ماشاء اللہ سے پورے ہاسٹل میں مشہور تھی۔ اب اگر دوپہر 2:30 تا شام 7:30 بجے تک کی میری اس مقدس اور پاوتر نیند کو اچھے خاصے سے رعایتی نمبر دے کر قیلولہ کا نام دینا چاہیں تو آپ کی مہربانی ہے ورنہ دوپہر کو اتنی لمبی نیند لینا اور پھر ڈھیٹوں کی طرح رات پھر سو جانا، یقیناً اس کے لئے اچھی خاصی بے غیرتی کی ضرورت ہے ۔ “بے غیرتی، تیرا ہی اسراہ”
ماشاء اللہ سے میری یہ نیند آج بھی برقرار ہے مگر اب اسکا دورانیہ کم ہو کر فقط تین تا پانچ رہ گیا ہے۔ یقین مانیں میں آج بھی دوپہر کو سوئے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا۔ لہذا سونا میری مجبوری ہے۔ تانوں کی۔ چلو نَسو.
بلکہ نہ نہ ابھی نہ نسنا ابھی سال 2019 کے پہلے تکیہ تارڑ کا احوال باقی ہے.
تو قصہ چار من چلوں کا یہ ہے کہ اتوار کی صبح 8:45 رضوان شاہ کال موصول ہوئی اور بقول ان کے وہ میرے گھر کے باہر کھڑے ہیں. اب سردیوں کی صبح کوئی مجھے کال کرے کہ آؤ بٹ پائین ڈسکہ چلیں تو میں اس قدر بد تمیز ہوں کہ دروازے سے ہی اسے ٹا ٹا بائے بائے بول دو اور میں نے ایسا ہی کیا. کوئی مسئلہ ہے؟ چلو ایک واری فیر نسو بلکہ صبر کرو ذرا۔ ایک گھنٹے تک اکھٹے قادر پائین کے ساتھ اکھٹے نستے ہیں ۔ رضوان شاہ کو دروازے سے ڈسکہ روانہ کرنے کے بعد میں نے حسبِ کیڑا فوراً فیس بک کھول لی. آگے ایک نیا کٹا کھلا ہوا تھا. قَادر پائین کا status تھا، ویٹنگ فار حارث بٹ. قادر پائین کو بھی میں نے سونے کا مفید مشورہ دیا اور خود بھی بیگم کی ایک عدد جھاڑ کھا کر پھر آنکھیں موند لی۔
اور میں ایک عدد نیپالی لونڈا بن گیا جسے فورا ً موت پڑ چکی تھی۔ کچھ ہی لمحوں بعد امریکہ سے آئے ہوئے عطار کے ایک پرندے نے میری ناک پر ٹھونگیں ماری کہ اٹھو، ڈسکہ جاؤ۔ اٹھو، ڈسکہ جاؤ اور پھر نا چاہتے ہوئے بھی مجھے اٹھنا پڑا۔ منہ پر پانی کے نام کی چند بوندیں بہائی اور اپنی غزال پر بیٹھ کر ڈسکہ کو چل پڑا۔ قادر پائین میرے پیچھے براجمان تھے اور گھڑی اس وقت 9:45 بجا رہی تھی۔
راحت اندوری نے کراچی سے سکھر جاتے ہوئے جون ایلیاء سے پوچھا تھا کہ کراچی سے سکھر تک کا فاصلہ کتنا ہے تو جون صاحب نے کہا تھا، بس تین پیک۔
کوئی مجھ سے پوچھے کہ سیالکوٹ تا ڈسکہ فاصلہ کتنا ہے تو میں کہو گا فقط تین ٹریکس۔ نصرت کا جوگی، عابدہ پروین کا “اللہ ہو” اور سشمیتا سین کا دلبر دلبر ۔
دلبر دلبر ختم ہوا تو میری غزال کو بھی بریک لگ گئی ۔ لاہور کتب میلہ، ڈسکہ آچکا تھا اور گھڑی کی بڑی سوئی دس جبکہ چھوٹی 3 پر ٹھک کر کے لگ رہی تھی۔ ہلکی ہلکی دھوپ اور راستے میں آنے والی حلوہ پوری کی دکان نے بھوک کو مزید چمکا دیا تھا۔ لہذا فورا ماجد پائین سے بے شرموں کی طرح ناشتے کی درخواست کر دی۔ اتنی ہلکی پھلکی اور خستہ حلوہ پوری میں نے آج تک نہیں کھائی. پوری عام طور پر مجھ سے ایک سے زیادہ نہیں کھائی جاتی مگر اس دن میں دو کھا گیا. دو عدد نان اور انڈے چنے کی پلیٹ اس کے علاوہ تھی جو میں نے نوش فرمائی۔ ناشتے کے بعد سوچا کہ تھوڑا کام بھی کر جائے لہذا حسبِ ضرورت تھوڑا سا تکیہ تارڑ کیا گیا اور شرکاء نے تارڑ صاحب کی نئی کتاب منطق الطیر، جدید سے اپنا اپنا اقتباس پڑھا ۔
منطق الطیر، جدید جیسی کتب پر مجھ جیسے طلباء کا کچھ لب کشائی کرنا، مشکل ہی نہیں، نا ممکن بھی ہے۔ تارڑ صاحب ہمیشہ سے ہی فرید الدین عطار کو اپنا مرشد مانتے ہیں ۔ بقول مصنف کے ان پر ایک قرض تھا جو منطق الطیر، جدید لکھ کر انھوں نے اتارا ہے۔ عطار کا مرید ہونے کا حق کس حد تک تارڑ صاحب یہ کتاب لکھ کر ادا کر سکے ہیں، یہ تو صرف حضرتِ عطار ہی بتا سکتے ہیں مگر مجھ جیسے بہت سے طلباء جو منطق الطیر جیسی عظیم ترین کتاب پر رہنمائی نہیں رکھتے تھے، ان کے لئے اس کتاب نے نئی راہیں کھول دی ہیں ۔
منطق الطیر، جس میں تمام پرندے اپنے بادشاہ “سی مرغ” کی تلاش میں نیشا پور کی جانب نکل پڑتے ہیں کہ انھیں اپنے بادشاہ کے ساتھ ساتھ حق اور سچ کی تلاش بھی ہے وہی منطق الطیر جدید میں تارڑ کے پرندے اپنے جدید دور کے نئے سچ کی تلاش میں جوگیوں کے “ٹلہ جوگیاں” کی طرف نکل پڑتے ہیں ۔ وہی ٹلہ جہاں سے پورن بھگت اور رانجھے نے بھی جوگ حاصل کیا تھا۔ راجہ سلون، جس نے سیالکوٹ کی بنیاد رکھی تھی، اپنے بیٹے کو اپنی دوسری بیوی کی باتوں میں آ کر کنواں میں ہاتھ پاؤں کٹوا کر پھینک دیا تھا۔ ٹلہ جوگیاں کے بانی بالناتھ کا جب وہاں سے گزر ہوا تو وہ پورن کو اپنے ساتھ ٹلہ جوگیاں لے گیا جہاں سے مدتوں بعد رانجھے نے جوگ حاصل کیا اور کان پھڑوائے تھے۔ منطق الطیر، جدید میں جہاں پورن وطاہرہ کے کنواں، کوہِ طور اور ابنِ مریم صلیب سے پیدا ہونے پرندے اپنے اپنے سچ کی تلاش میں نکتے ہیں وہی ہیر، صاحباں اور سوہنی کے چناب میں سے ڈوبتے کچے گھڑے میں سے بھی پرندے اپنے اپنے حق کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔

بہت سے لوگ تصوف کو عملی زندگی سے بہت دور سمجھتے ہیں مگر عشق و تصوف کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز عطار کا فلسفہ لوگوں کو اس بات پر مائل کرتا ہے کہ کائنات کا سب سے بڑا سچ آپ کا اپنا وجود ہی ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی سچ نہیں ۔ تارڑ صاحب کے قاری جانتے ہیں کہ ان کے ناولز میں عام طور پر ایک کردار ان کا اپنا عکس بھی ہوتا ہے۔ “پیار کا پہلا شہر” کا سنان ہو، “راکھ” کا مشاہد یا پھر منطق الطیر جدید کا موسٰے حسین۔۔۔تینوں میں آپ کو تارڑ ہی کی جھلک نظر آئے گی۔
ْآخر پر مصنف کا بہت شکریہ کہ اس نے اس کتاب کے ذریعے ہماری مٹتی ہوئی تاریخِ سیالکوٹ میں واقع پورن بھگت کے کنواں اور ٹیلہ جوگیاں کی اہمیت کو پھر سے زندہ کیا۔
نوٹ: میرے  بد حال  منہ  شریف کو فی الوقت نظر انداز کریں ۔ سردیوں میں اتوار کو صبح 8 بجے اٹھ کر اگر آپ کو دوسرے شہر جانا پڑے تو  منہ ایسا ہی بنا  ہوتا  ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *