محبت کی معراج ملن نہیں۔۔۔ایمان شاہ

محبت کی معراج ملن نہیں ۔۔۔۔

یہ الفاظ سن کر اس نے تیزی سے غصے میں لکھا۔کہ مجھے آپ کی بات سے اتفاق نہیں۔۔آپ کو اپنے بارے میں سب بتاچکی ہوں آپ مجھے دیکھ چکے ہیں،لیکن دیکھنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ آپ پر کچھ لازم ہوگیا۔اب بھی کچھ ممکن نہیں تو پھر ذہن کلئیر ہونے چاہئیں۔میں یہ محبت محبت نہیں کھیل سکتی۔اور اسکے یہ جملے پڑھ کر اس نے لکھا

ایک بات سنیں

کان قریب لائیں۔۔۔۔

آپ کومجھ سے محبت کی اجازت ہے۔۔۔۔۔۔

یہ لفظ پڑھ کر وہ اپنی رکی ہوئی سانسوں کو بحال کرنے لگی۔۔۔اور بہت دیر رونے کے بعد پرسکون ہوگئی۔لیکن نہیں جانتی تھی کہ محبت میں ڈوبے یہ لفظ کب صرف دوستی تک محدود رہ جائیں گے
اور اس سے سر اٹھا کر جینے کا حق بھی چھین لیں گے۔اسے سمجھ جانا چاہئے تھا کہ مرد محبت کی معراج ملن نہیں سمجھتے۔بلکہ خواب دکھا کر آنکھیں بھی نوچ لیتے ہیں۔اور اپنے حقیقی ملن تک ایسی جانے کتنی ہی محبتیں اپنے پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں۔

آجکل ویلنٹائن ڈے بمقابل سسٹرز ڈے موضوع بحث ہے۔چلیں بات کرتے ہیں

ویلنٹائن ڈے کو جتنی شہرت میڈیا کی پذیرائی سے ملی نہ ملتی اگر اس پر ضد بحث مباحثے نہ کیئے جاتے۔لیکن یہ بات صرف پذیرائی تک محدود تھی اب جبکہ ویلنٹائن ایک باقاعدہ فیسٹول کی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔میرا سوال درمیانی سوچ رکھنے والوں سے ہے۔نہ ہی مذہب کو بیچ میں لاکر واویلا کرنے والوں سے۔اور نہ ہی مکمل مادر پدر آذاد لوگوں سے۔کہ آپ کا کیا کردار ہے؟

حیا ڈے، سسٹر ڈے اور بہت سی دوسری چیزیں متعارف کرانا۔مطلب دوسری ایکٹیوٹیز کی طرف دھیان دلاکر اس خرافات کی حقیقی اہمیت کم کرنا،دو چیزوں کے درمیان تقابل کی سوچ کرنامقابلے کی فضا پیدا کرنا۔یہ سب ایک صحت مند معاشرے کی نشانی ہیں۔۔۔لیکن درمیانی سوچ رکھنے والے خود کو عقل کل رکھتے ہوئے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر فرماتے ہیں،کہ منہ بولے رشتوں کی تو اسلام میں ویسے ہی ممانعت ہے۔۔۔جناب یا جنابہ اگر آپ اسلام کو اور اسلامی شعائر کو اگر اتنا ہی اہم سمجھتے ہو تو تو فیس بک فرینڈز کے نام پر اپنے اپنے اکاؤنٹ میں کون ایڈ رکھے ہیں؟؟؟؟؟؟؟

یقیناً دوست کوئی رشتہ نہیں،اسلام میں تو کوسوں دور اس رشتے کا کوئی تصور تک نہیں،تو میرے اسلامی بہن بھائیوں اپنا سوشل نیٹ ورک وسیع رکھنے کیلئے اگر وہ رشتے ایڈ ہی کرنا ضروری ہیں،جن کی قطعی کوئی حیثیت نہیں تو انہیں دوست جیسے بے لگام رشتے کی ضرورت نہیں،دوستی کے معنی بہت ہی خوبصورت ہیں،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جب دوستی کا ٹیگ کسی پر لگادیا جائے تو ہر طرح کی بے تکلفی کی اجازت دوستوں کی طرح مل جاتی ہے،جس میں بعض اوقات ذہنی بیمار عورتیں اپنے شوہر کے لئے ہی صحیح لیکن بوس وکنار کے اشعار پوسٹ کرنے میں بھی قطعی برائی نہیں سمجھتیں،اور کیونکہ دوست جمع کئے ہوئے ہیں تو وہ بلاجھجک کوئی بھی رائے دینے کیلئے خود کو آزاد سمجھتے ہیں،دوست سے کہیں بڑھ کر بہن بھائی کا رشتہ تمام تر عزت و احترام کے ساتھ قائم کیا جاسکتا ہے،بہن بھائی صرف حقیقی بہن بھائی ہی ہوتے ہیں،یہ ایک کھلی حقیت ہے۔کوئی نہ ہی کہہ دینے سے آپکا محرم بھائی بن جاتا ہے اور نہ ہی آپ اسکی محرم بہن ۔۔۔

لیکن یہ رشتہ حدود و قیود کا اطلاق ضرور کردیتا ہے،محض دوستی کے نام پر کسی کے معصوم جذبات کا قتل نہیں کرتا،نہ ہی بے تکلفی کے نام پر بے حیائی پھیلاتا ہے،جسٹ امیجن اگر کوئی منہ بولا ہی بھائی صحیح کسی منہ بولی بہن کو اسکارف تحفے میں دیتا ہے،جیسا کہ فیصل آباد یونی نے سجیسٹ کیا ہے،تو کیا پھر وہ کبھی ایسی گھٹیا بات سوچنے کی بھی جرت کرسکے گا،

آ پی اور بہت پی۔۔۔۔۔۔۔

تو حاصل وصول یہ کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم خود کو صرف حقیقی رشتوں تک محدود نہیں رکھ سکتے،ہمیں اپنی بات اپنا نظریہ وسیع کرنے کیلئے ایک مخلوط سوشل سرکل درکار ہوتا ہے۔اس سوشل سرکل پر دوستوں کا بے لگام سرکل بنانے سے کہیں بہتر ہے،کہ،صرف ویلنٹائن ڈے کی مخالفت میں نہیں بلکہ روز بروز بڑھتی ہوئی معاشرے کی نفسیاتی اور جذباتی کشکمش سے نبرد آزما ہونے کیلئے بھی سسٹرز ڈے اور برادرز ڈے کی حمایت کی جائے نہ کہ اپنے لبرل ہونے پر منہ بولے ہی صحیح مقدس رشتوں کا مذاق بنایا جائے۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *