تیسری گرہ۔۔۔۔محمد جبران عباسی

ہر انسان کے پاس ایک رسی ہے ، اس میں تین گرہیں باندھ دی گئیں ہیں ، پہلی گرہ اسکا وجود تسلیم کی جائے ، دوسری گرہ موت جبکہ تیسری گرہ اس کے افکار و خواہشات کی ہے جن کی وہ چاہتا ہے تکمیل ہو ۔ ( میرا داغستان سے اقتباس)

پہلی گرہ کھولتے ہیں والدین ، ہمارے وجود کو تشکیل دے کر ، دوسری گرہ کھولتی ہے قدرت جو ہر وجود پر فنا لاتی ہے جبکہ تیسری گرہ کھولتا ہے انسان خود ۔ خیالات و خواہشات کی یہ گرہ اگر کھل جائے تو انسان کو عزت بھی بخشتی ہے ، شہرت بھی مگر باعثِ تذلیل بھی بن سکتی ہے ۔

انسانی وجود کی تاریخ دو طرح کی ہوتی ہے ایک واقعاتی جیسا کہ پیدائش ، موت ، خاندان ، جگہ ، اس میں انسان کی خوداختیاری ممکن ہی نہیں  وگرنہ یقیناً ہر انسان دولتمند خاندان کا انتخاب کرے ۔ دوسری تاریخ ہے اختیاری یعنی انسان کی تعلیم ، اس کا شعور ، اس کے خیالات و افکار ، اس کا کردار ۔

دنیا میں کروڑوں لوگ امیر ہیں ، لاکھوں امیر ترین اور اربوں غریب نیز اربوں ہی غریب ترین مگر ہر صدی میں عظیم محض گنتی کے ہی گنے جا سکتے ہیں ۔ پاکستان کی ستر سالہ  تاریخ میں عالمی عظیم شخصیات کو گنتے ہیں ۔ محمد علی جناح ، ذوالفقار علی بھٹو ، عبدالستار ایدھی ، ڈاکٹر عبدالسلام ، ملالہ یوسفزی جنھیں دنیا میں پاکستان کی نمائندہ شخصیات کہا جا سکتا ہے ۔ دو نام متنازعہ بنائے گئے مگر نمائندگی وہ بھی کرتے ہیں ۔

مولانا حسین آزاد نے ’’ آب حیات‘‘ میں لکھا کہ بقائے دوام انھی کو حاصل ہوتی ہے جن کے کردار کا اعتراف انسانیت کرے ، آدمی تو پیدا ہوتا ہے ، مر جاتا ہے مگر انسان اور انسانیت ہمیشہ زندہ رہتی ہے ، انسانیت درد اور احساس کی روح کا نام ہے جو امر ہے ۔

ہم مشرقی ہیں ، ماضی میں مشرق تہذیب یافتہ رہا ، ہم جب انسان دوستی پر اترے تو پیغامبر بن گے نبی کریمﷺ ، جو پھر بھی اس عورت کی عیادت کو گئے جو ہر روز آپ پر کچرا پھینک دیتی ۔ زرتشت ، کنفیوشس اور مہاتما بدھا ، ہم میں عظیم مصلح کار پیدا ہوئے ۔

کون کہہ سکتا ہے اسی سرزمینِ پنجاب پر نانک کا جنم ہوا اسی زمین پر تقسیم کے وقت لاکھوں انسانوں کا قتل ہوتا ہے ۔ وہی قصور شہر ہے ، وہیں کسی بلھے شاہ کا مزار ہے مگر وجہ شہرت کیا بن جاتی ہے ۔ یہ سچ ہے تاریخ نے ان کو ذلیل کو جو واقعی  ذلالت کے کردار والے تھے ، یہ سچ ہے تاریخ نے ان کو افسانوی ہیرو بنا دیاجنھوں نے اپنی تیسری گرہ اعلی افکار و عمدہ خیالات کی گرہ خود کھولی ۔

ہمیں بذات خود کسی انسان کی ذات پر ججمنٹ نہیں  دینی چاہیے ، تاریخ فیصلہ کن انداز میں شخصیات کو متاثر کرتی ہے ۔ کتنے ہی جاگیردار ، بادشاہ ، شہنشاہ گزرے ، ہر ایک کو زعم ہو گا وہی اپنے علاقے کا سب سے بڑا زمین دار ہے ، وہی دنیا کا شہنشاہ معظم ہے ، ان کی  قبریں جیسے مٹتی گئیں ، ان کے محل جیسے کھنڈر بنتے گئے وہ بھی فنا ہو گئے مگر تاریخ کے انھی صفحوں پر گنتی کے چند ایک ابھر جاتے ہیں ۔ یہ تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں ، رائے دینے اور فیصلہ سازی کی سب سے بڑی عدالت ہے ۔

تیسری گرہ کیسے کھولی جائے ، ہر فلسفہ ، ہر مذہب ، ہر اخلاق اسی کی تربیت کرتا ہے ، مذہب چاہتا ہے ہر انسان کی نیت اور خیالات پر اسکی منظوری کی مہر لگے ، مذہبی سنسر بورڈ ہمارے افکار میں موجود ہر خوبصورتی بقول اسکے برائی کو ختم کر دینا چاہتا ہے ، وہ چاہتا ہے ہماری  سوچ صرف اس کے پروپیگنڈے کیلئے کام کرے۔

ایسی ہی لبرل ، سیکولر ، سوشلسٹ نظریات کی روش ہے چاہے وہ دعوی ٰٰٰ داری کیسی ہی عظیم آزادی کی نہ کریں ، بذات خود ان کی تشکیل قدامت پرستی اور تعصب پر مبنی ہے ۔ یہ نظریے کتنی ہی بڑی حققیت کو بیان کرتے ہوں مگر انسانیت کی مرہم پٹی نہیں  کر سکے ، محض بڑی اقوام کے استعماری مقاصد کیلئے آلہ کار بنے ۔

اپنی ہی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگ مرمر پہ پر چلو گے تو پھسل جاو گے

سنگ مرمر خوشنما پتھر ہے ، یہ انسان دوستی کے بھاشن بھی خوشنما ہیں ، مگر حقیقت محض یہی ہے سنگ مرمر بھی ایک پتھر ہے اور بھاشن بھی ناقابلِ استعمال اقوال جن سے نہ کبھی انسانیت کا بھلا ہوا نہ ہو گا مگر انسان کبھی ان کی خوشنمائی کی گرفت سے آزاد نہ ہو پائے گا ۔ کیونکہ انسان اور جانوروں میں ایک بات مشترک مجھے نظر آئی کہ دونوں عادتوں کے محتاج ہوتے ہیں البتہ جانور کا انحصار عادت پر تھوڑا زیادہ ہے ۔

ہم معمولی انسان ہیں ، چلئے عظیم انسانوں کا چال چلن دیکھتے ہیں ، ہر کسی میں ایک خوبی نظر آئے گی ممکن ہے کسی میں دو خوبیاں بھی نظر آئیں جیسا کہ چرچل تحریر و تقرر دونوں کا ماہر تھا اگرچہ اس کے خیالات تیسری دنیا کیلئے سخت اور بیہودہ تھے ۔ جناح دیانت دار ، گاندھی ہمدرد ، اقبال بلند خیال انسان تھے ، عبدالستار ایدھی آپ جانتے ہیں ۔ عام آدمی بھی اگر کوئی ایک خوبی اپنا لے  تو عظیم انسان بن سکتا ہے ۔ آدمی وجود ہے انسان روح ہے ، آدمی مر جاتا ہے ، انسان زندہ رہتا ہے ۔ ہم مر جائیں گے  یہ کم از کم تلخ سچ ہے جو مجھے اکثر اداس کر دیتا ہے ۔

Avatar
جبران عباسی
میں ایبٹ آباد سے بطور کالم نگار ’’خاموش آواز ‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ مختلف اخبارات کیلئے لکھتا ہوں۔ بی ایس انٹرنیشنل ریلیشن کے دوسرے سمسٹر میں ہوں۔ مذہب ، معاشرت اور سیاست پر اپنے سعی شعور و آگہی کو جانچنا اور پیش کرنا میرا منشورِ قلم ہے ۔ تنقید میرا قلمی ذوق ہے ، اعتقاد سے بڑھ کر منطقی استدلال میری قلمی میراث ہے ۔ انیس سال کا لڑکا محض شوق سے مجبور نہیں بلکہ لکھنا اس کا ایمان ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *