ایک پرواز، تخیل سے تخلیق تک۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں اپنے ذہنی خیالات کے بھنور میں بہت گہرائی تک ڈوب جاتا ہوں، اپنے دل کے پنہاں خانوں کے پراسرار راز مجھے سونے نہیں دیتے.

میں کیا ہوں کون ہوں شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب میں اپنی تخیل کی پرواز میں گم ہو جاتا ہوں اس وقت ایسے محسوس کرتا ہوں جیسے میرا وجود کوئی ٹھوس شے نہیں بلکہ میرے لاتعداد ذرات خلا میں سرگرداں ہیں میری آنکھوں کی جگہ دو ایسے سیاہ گڑھے ہیں جن میں دیکھنے کی صلاحیت شاید کبھی تھی ہی نہیں میری زبان اس خاموش و ساکت قلم کی سی ہے جس کی نوک میں صدیوں سے کوئی جنبش نہیں ہوئی میرے احساسات اس یونانی سنگتراش کے بنائے ہوئے مجسمے کی طرح ساکن ہوتے ہیں جو ادھورا چھوڑ دیا گیا ہو میرے ہاتھوں کے حصار بار بار کسی غیر مرائی ذات کو حاصل کرنے کی کوششوں میں میرے کھوکھلے سینے کی طرف قریب ہوتے رہتے ہیں میں اپنے قدموں کو سیکنڈ کے ہر ہزارویں حصے میں جیسے کسی ویران بیاباں میں اٹھاتا رہتا ہوں لیکن مجھے احساسِ سفر نہیں ہوتا میرے قدموں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، میں اپنے سینے میں دل کی دھڑکن کو تو صاف سنتا ہوں لیکن اس میں کسی جذباتیت کی جھلک افشاء نہیں ہوتی، کبھی کبھی میرے ڈھرکنوں میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے تب میں اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوں لیکن میرا ہاتھ سینے کے اس پار چلا جاتا ہے میرا سینہ دل کے وجود سے خالی ہوتا ہے، تب میرے چہرے پر میری آنکھوں کی جگہ موجود دو اندھیرے گڑھوں سے مدھم رفتار میں ندیاں بہہ نکلتی ہیں جن کا نمکین پانی تیزاب کی طرح میرے چہرے کو اندر تک چیرتے ہوئے دو پتلی پتلی نہریں بنا ڈالتے ہیں لیکن میں اس جلن کے جان لیوا درد سے نا آشنا ہوتا ہوں، میرے سماعت سے کچھ نامانوس آہ و بکا کی دلخراش صدائیں ٹکراتی ہیں میں ہر صدا سننے پر اس سمت دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن میری اس دیکھنے کی جستجو میں میرے اعضاء کی کوئی جنبش مجھے محسوس نہیں ہوتی تب میں اپنے خیالات کو جھٹکنے کے لئے اپنے ماتھے پر زور زور سے اپنی ہتھیلی کو ٹکراتا ہوں لیکن میری یہ کوشش بے اثر ہوتی ہے میرے تخیل میں کوئی وجدان وجود نہیں پاتا شاید وہ صدائیں سننا میری مجبوری ہوتی ہے، میرے احساسات اس موڑ پر پہنچتے ہیں کہ جیسے میں اسی حالت میں صدیوں سے کسی ذاتِ اقدس کے نظام میں محصور ہوں اور اس نے میرے ضمیر کو کائنات کے ہر زاویے میں شکنجوں سے کَسا ہوا ہو، مگر اس حالت میں بھی میری سوچ میری تخیل کی باگیں میرے ذہن کے قوی ہیکل بازوں میں ہوتی ہیں میں سوچ سکتا ہوں ہر نقطے پر، میں میرے احساس کے ہر جنبش کو میں اپنی سوچ کے دائرے میں لانے پر قادر ہوں یہی ایک انعام ہوتا ہے جو میرے وجود میں ابد سے ودیعت کر دیا گیا ہوتا ہے، اور میں خود کو اپنے اس واحد انعام کے حصول پر اس ذاتِ اقدس کا بہت مشکور و ممنون محسوس کرتا ہوں، تب میں اپنے اس اکلوتے نعمت سے کائنات کے بہت سے رموز و اسرار کے بارے میں کھوج لگاتا ہوں، میرے نابینا آنکھوں کے پیچھے سوچ کا روشن زاویہ ٹمٹماتا رہتا ہے، اور تب میں ابتدا اپنے وجود کی تخلیق سے کرتا ہوں، میں جاننا چاہتا ہوں کہ میری ذات کو اس مقام پر پہنچانے کا اصول کیا ہے کس نے میرے لاغر جسم کو اتنی قوت بخشی کے میں ایک حقیر مادے سے گزرتا ہوا ایک شاہکار بن جاتا ہوں میری حقیقت کیا ہے؟
میری تخلیق بھی ایک راز ہے جس کے ہر ذرے سے اس ذات اقدس کی بزرگی کا ظہور ہوتا ہے جس نے میری ناتواں جسم میں ایک ایسا مادہ چھپا کے رکھا جس کی بدولت میں اپنی کھوج لگا سکوں، میں اسی کشمکش میں غرق ہوتا ہوں کہ میرے آنکھوں کی اس گھٹا ٹوپ تاریکی میں تغیر رونما ہونا شروع ہوتا ہے اور اس بیکراں کائنات میں میرے وجود کے منتشر ذرات یکجا ہونے شروع ہوجاتے ہیں میں پہلی بار اپنے جسم کے ہر ایک جوڑ کو جڑتے ہوئے محسوس کرنا شروع کرتا ہوں، میرے فانی ہاتھ اور خاکی قدم جسے میں اب تک پہچان نہیں پاتا میں ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے اور اب میں ان کو تحریک دینے پر قادر ہوجاتا ہوں، میرے بدن کی ساخت ایک منظم وجود میں تبدیل ہوجاتی ہے پھر میری بکھری شخصیت مکمل یکجا ہوجاتی ہے اور ایک عجیب سا سرور میرے رگ و پے میں سرایت کر جاتا ہے، تب اچانک وہ وقت آپہنچتا ہے جب میرے اندھیرے بے نور آنکھوں کو ایک تیز چمک خیراہ کرتی ہے اور ساتھ ہی میں پہلی بار اپنی آواز کو سنتا ہوں شاید میرا سفر لاشعور سے شعور کی طرف شروع ہوجاتا ہے، میری نگاہیں کھل جاتی ہیں اور مجھے ایک مخلوق دیکھائی دیتی ہے بلکل واضح عین میری بصیرت کے سامنے، میرا جسم ہر روز کچھ بڑھتا رہتا ہے اور میں اس نئے جہاں کے ہنگاموں میں ڈوب جاتا ہوں، کبھی میرے چاروں اطراف میں تیز روشنی پھیلتی ہے تو کبھی تاریکی کی دبیز چادر لیکن میں اب دیکھ سکتا ہوں محسوس کرسکتا ہوں میرے اطراف میں میرے جیسے لاتعداد وجود محو حرکات ہوتے ہیں شاید ان سب کے وجود نے بھی میری طرح جِلا پائی تھی، میں خوش ہوتا ہوں اداس ہوتا ہوں ہر ایک جذبہ میرے احساسات میں بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے اور میں ان سب کے درمیان اپنے ٹھوس وجود کو مکمل فعال محسوس کرتا ہوں، میری نگاہوں کے پردے پر ہر انداز کے ذی روح جلواہ نما ہوتے ہیں اور میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس عظیم خالق کی تخلیقات میں غرق ہوتا جا رہا ہوں، مجھے خود سے اوپر بہت اوپر وہ چمکتی ہوئی سفید و شفاف چاندنی بہت پسند آتی ہے ،مجھے وہ بیکراں عظیم رقبے پر موجزن سمندر سے عشق ہوتا ہے جس کی موجیں میری سوچوں کی مانند تند و تیز ہوتی ہیں، مجھے آگ کی حقیقیت سے بہت لگاو ہوجاتا ہے خاص کر جب میرا بدن شدید یخ بستہ ہو جاتا ہے، میں سورج کی کرنوں کو تکتا رہتا ہوں اور میں خود کو اس کی اس طرح بغیر سہارے کے برقرار رہنے پر سخت ششدر و حیراں پاتا ہوں، میں نم بھوری مٹی کی خوشبو سے اپنے بدن کی بھوک پیاس مٹانے کی کوشش کرتا ہوں، مجھے وہ چمن و گل دیکھ کر مسرت ہوتی ہے اور ان پر قابض شبنم کے قطرے مجھے سرور بخشتے ہیں، جیسے جیسے میری حیات کا عرصہ گزرتا رہتا ہے میرے عقل و شعور میں اس جہاں کے بہت سے راز عیاں ہوتے جاتے ہیں، لیکن میں اپنی اس خطرناک حد تک ذہنی قوت موجود ہونے کے باوجود ان لازوال حقائق کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہوں اور یہاں پر پھر مجھے وہ عظیم ذات کی قوت اپنے سامنے سربسجود ہونے پر مجبور کرتی ہے جس کی ایماء پر میں اس جہاں میں وارد ہوا تھا، کیونکہ میں اپنی مقررہ حد تک محدود ہوجاتا ہوں، مجھ پر میری حقیقت آشکار ہونی شروع ہو جاتی ہے، میں لاکھ کوششوں کے باوجود اُن کھلی فضاؤں میں اُڑنے سے قاصر ہوں، میں اِن نیلے پانیوں میں سیر کرنے پر قادر نہیں ہوں میرا وجود اس کی قوت کو برداشت کرنے کا اہل نہیں، میں اس دھکتی قوت کے سامنے بھی ہچ ہوں جو ہر شے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے مجھے اپنے وجود کی محدود ہونے کی بشارت مل جاتی ہے، میری جستجو کی معیاد شاید ختم ہونی لگتی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ میری شخصیت میں وہ قوت برقرار نہیں رہتی جو میرے ساتھ اس جہاں میں بھیجی گئی تھی، میں اب پھر اسی مقام تک پہنچنے کی طرف رواں دواں ہوں جہاں پر میرے اعضاء میری ذہنی احکامات کی تکمیل میں بے بسی محسوس کرتے تھے جہاں میں کوئی ٹھوس وجود میں نہ تھا ایک لمحہ آتا ہے کہ میری شہہ رگ میں زندگی کی رفتار آخری سانسیں لے رہی ہوتی ہیں میرا وجود اب میری ذہنی رفتار و تخیل کے بوجھ سے بوجھل دیکھائی دیتا ہے اور پھر آخر کار میری سوچ اور میرے تخیل کا اختتام آپہنچتا ہے اور میں ایک بار پھر اپنی ذات کو حرکت دینے سے قاصر ہوجاتا ہوں اور اس بار میرے آنکھوں کی بینائی کے ساتھ ساتھ میرا ذہن بھی تاریکی میں ڈوب جاتا ہے شاید اس سے آگے کے سفر کو جاری رکھنے کا اس عظیم ذات اقدس نے میری تخیل کو اجازت ہی نہیں دی تھی.

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ہمم دشتِ جنوں کے سودائی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *