حسد کی آگ اور معاشرہ

مسلم معاشرہ آج جن برائیوں کا شکار ہے ان میں سب سے اہم اور خطرناک بیماری حسد ہے۔ حسد نفسانی امراض میں سے ایک مرض ہے اور ایسا غالب مرض ہے جس میں حاسد اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جلتا ہے۔ حتیٰ کہ حسد کا مرض بعض اوقات اتنا بگڑ جاتا ہے کہ حاسد محسود کو قتل کرنے جیسے انتہائی اقدام سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ حسد معاشرے میں بغض عداوت اور نفرت کے بیچ بوتا ہے۔ اس لیے اسلام حسد کی تباہکاریوں کو بیان کرتا ہے اور رشک کی تلقین کرتا ہے تاکہ معاشرہ انتشار کا شکار نہ ہو اور امن کا گہوارہ بن سکے۔
1۔ حسد کے لغوی اور اصطلاحی معنی
i۔حسد کے لغوی معنی: ’’حسد کا لفظ حسدل سے بنا ہے جس کے معنی چیچڑی (جوں کے مشابہ قدرے لمبا کیڑا) ہے جس طرح چیچڑی انسان کے جسم سے لپٹ کر اس کا خون پیتی رہتی ہے۔ اسی طرح حسد بھی انسان کے دل سے لپٹ کر گویا اس کا خون چوستا رہتا ہے اس لیے اسے حسد کہتے ہیں۔‘‘ (لسان العرب، باب الحاء، ج 1، ص826)

ii۔ حسد کے اصطلاحی معنی: امام راغب اصفہانی حسد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ’’جس شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کو حسد کہتے ہیں۔‘‘(المفردات، ص118، مطبوعۃ المکتبۃ المر تفویہ ایران 1342ھ)
امام ماوردیؒ کے مطابق: ’’حسد کی حقیقت یہ ہے کہ انسان محترم شخصیات کی خوبیوں اور نعمتوں پر شدید افسوس میں مبتلا ہوجائے۔‘‘
یوں تو حسد کسی سے بھی ہوسکتا ہے لیکن اس شخص سے حسد ہوجانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے جس سے انسان کا زیادہ میل جول ہوتا ہے یا وہ اس کا ہم پیشہ باہم پلہ ہوتا ہے یا پھر اس سے قریبی تعلق ہوتا ہے اور بعض لوگ مال اور اقتدار میں کسی کی فضیلت کی بنا پر بھی حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ المختصر یہ کہ حسد بہت بُری بلا ہے اس سے بغض و کینہ پیدا ہوتا ہے اسی لیے قرآنِ کریم اور احادیث طیبہ میں متعدد مقامات پر حسد کی ممانعت آئی ہے۔
2۔ حسد قرآنِ کریم کی روشنی میں
i۔ بِءْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ج فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰی غَضَبٍط وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّھِیْنٌo (سورۃ البقرۃ۔ آیت 90)
ترجمہ: ’’کس برے مولوں انہوں نے اپنی جانوں کو خریدا کہ اللہ کے اتارے سے منکر ہوں اس کی جلن سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہے وحی اتارے تو غضب پر غضب کے سزاوار ہوئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔‘‘
اس آیتِ کریمہ میں یہودیوں کے حسد کا ذکر ہے۔ یہود حسد کی وجہ سے ہی ایمان سے محروم رہے کیونکہ یہود کی خواہش تھی کہ ختم نبوت کا منصب بنی اسرائیل میں سے کسی کو ملتا جب دیکھا کہ وہ محروم رہے۔ بنی اسمٰعیل نوازے گئے تو حسد کی وجہ سے منکر ہوگئے اور انواع و اقسام کے غضب کے سزاوار ہوئے۔
ii۔ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلًاo (سورۃ بنی اسرائیل۔ آیت 36)
ترجمہ: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔‘‘
علامہ سیّد محمود آلوسی بغدادی المتوفی 1270 تفسیر رُوح المعانی میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ:
’’یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ آدمی کے دل کے افعال پر بھی اس کی پکڑ ہوگی مثلاً کسی گناہ کا پکا ارادہ کرلینا یا دل کا مختلف بیماریوں مثلاً کینہ، حسد اور خود پسندی میں مبتلا ہوجانا علماء نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ دل میں کسی گناہ کے بارے میں سوچنے پر پکڑ نہ ہوگی جبکہ اس کے کرنے کا پختہ ارادہ نہ رکھتا ہو۔ ‘‘(رُوح المعانی پ 15، الاسراء تحت الایۃ 36، ج15، ص97)
iii۔ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ o (سورۃ الفلق آیت 5)
ترجمہ: (تم کہو میں پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے حسد سے جب وہ حسد کرے۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ ربّ العزت نے حسد کرنے والوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔
جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حسد کتنا سنگین جرم ہے بعض مفسرین کرام نے حسد کو جادو سے بھی بدتر جرم قرار دیا ہے کیونکہ سورۃ فلق میں عام شروں کے بعد حسد کا ذکر خصوصیت سے فرمایا گیا ہے۔
iv۔ وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ م اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِط قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَط قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ o (سورۃ المائدۃ۔ آیت 27)
ترجمہ: ’’اور آپ ان پر آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی خبر حق کے ساتھ تلاوت کیجیے جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول کی گئی، اس دوسرے نے کہا، میں تجھ کو ضرور قتل کردوں گا ۔اس نے کہا اللہ صرف متقین لوگوں سے قبول فرماتا ہے۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حسد بہت سنگین نفسانی مرض ہے۔ اس حسد کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کے ساتھ خونی رشتے کا لحاظ نہیں کیا اور اپنے سگے بھائی کو قتل ہی کر ڈالتا ہے۔
3۔ حسد احادیث نبویہ ﷺ کی روشنی میں
i۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث 4903، مطبوعہ دارالفکر بیروت 1414ھ)
ii۔ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ایک دوسرے سے بغض نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث 6065، صحیح مسلم رقم الحدیث 2559)
iii۔ حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی گئی سب لوگوں میں افضل کون ہے؟ ارشاد فرمایا زبان کا سچا اور مخموم القلب مسلمان عرض کی گئی یارسول اللہﷺ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ زبان کا سچا کون ہے لیکن مخموم القلب سے کیا مراد ہے؟ ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرنے والا ہر قسم کے گناہ سرکشی دھوکہ دہی اور حسد سے بچنے والا۔ (سنن ابن ماجہ، ج4، ص475، الحدیث 4216)
iv۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی بندے کے دل میں احسان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔
(سنن نسائی، ج 2، ص44، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)
4۔ حسد صوفیاء کرام کی تعلیمات کی روشنی میں
i۔ محی الدین پیران پیر دستگیر سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ حسد کے متعلق فرماتے ہیں:
’’اے تقدیر الٰہی اور قسمت ازلی پر ایمان لانے والے میں تجھے پڑوسی کے کھانے پینے نکاح مکان اور اس کی دولت مندی اور عیش کرنے اور اس کے مولاکی دی ہوئی نعمتوں اور بخشے ہوئے حصوں پر حاسد کیوں دیکھتا ہوں۔‘‘
(شرح فتوح الغیب، ص 194، مطبوعہ فیڈرل بی ایریا، کراچی)
’’اے مسکین اگر تو جان لے کہ جس چیز پر تو حسد کرتا تھا وہ تیرے پڑوس کے لیے بروزِ قیامت درازی حساب سختی اور شفقت کا سبب بن جائے گی اگر اس نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری نہ کی ان نعمتوں کے باوجود حقوق الٰہی بجا نہ لایا اس کے اوامر احکامات کی فرمانبرداری نہ کی۔ اس کی منہیات سے باز نہ رہا اور اگر اس نے ان نعمتوں کے ذریعے اللہ کی عبادت اور اطاعت پر مدد و استعانت حاصل نہ کی تو اسے ایسی چیز ملے گی کہ وہ آرزو کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں ناز و نعمت میں سے ایک ذرّہ بھی نہ ملتا اور وہ کسی دن کوئی نعمت نہ دیکھتا۔‘‘ (شرح فتوح الغیب ، ص198، مطبوعہ فیڈرل بی ایریا، کراچی)
ii۔ حضرت سیّدنا امام محمد بن محمد غزالیؒ حسد کے متعلق فرماتے ہیں:
’’حسد اس لیے بہت بڑا گناہ ہے کہ حسد کرنے والا گویا اللہ تعالیٰ پر اعتراض کررہا ہے کہ فلاں آدمی اس نعمت کے قابل نہیں تھا اس کو یہ نعمت کیوں دی؟ اب تم خود ہی سمجھ لو کہ اللہ پر کوئی اعتراض کرنا کتنا بڑا گناہ ہوگا۔‘‘
(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، ج 3، ص423)
’’حسد کے باعث حاسد کا دل اندھا ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے احکامات کو سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔‘‘
(منہاج العابدین، ص75)
iii۔ سلطان العارفین برہان الواصلین حضرت سلطان باہوؒ حسد کے متعلق فرماتے ہیں:
’’حسد حب دنیا کی ظلمت میں گھر کر خطراتِ شیطانی اور ہوائے نفسانی کی آماجگاہ بن چکا ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہیں پڑتی اور جس دل میں اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت نہ پڑے وہ سیاہ و گمراہ ہوکر حرص و حسد و کبر سے بھرجانا ہے۔ حسد کے باعث قابیل نے ہابیل کو قتل کرڈالا حرص نے حضرت آدم علیہ السلام کو دانہ گندم کھلاکر بہثت سے نکلوا دیا اور کبر نے ابلیس کو مرتبہ لعنت پر جا پہنچایا جو دل خانہ ہوس بن جاتا ہے وہ ہر وقت حرص و حسد و کبر و غرور سے پر رہتا ہے۔‘‘(عین الفقرص 41 مطبوعہ العارفین پبلیکیشنز لاہور)
’’ضروری ہے کہ تو نفس و شیطان و دنیا کو بھول کر اپنے قلب اور رُوح کو ذکر اللہ میں اس طرح غرق کردے تاکہ تو ہر وقت عشق و محبت الٰہی اور اسرارِ الٰہی کا مشاہدہ کرتا رہے اور تیرے وجود میں حرص حسد کبر و ہوا اور شہوت کا نام و نشان باقی نہ رہے۔‘‘
(عین الفقرص 155 مطبوعہ العارفین پبلیکیشنز لاہور)
حسد کا علاج
اگر آپ سے حسد کرتے ہیں تو اس کے علاج کے لیے درج ذیل نکات پر غور کریں:
1۔ حسد کرنے والے کو چاہیے کہ وہ ایسے کام کرے جو حسد کے تقاضوں کے خلاف ہوں، اگر حسد کی وجہ سے وہ اس کی بُرائی کرنا چاہتا ہو تو اس کی تعریف کرے اگر حسد کی وجہ سے وہ اس کے سامنے اپنی بڑائی کا اظہار کرنا چاہتا ہو تو اس کے سامنے تواضع کرے الغرض جن نعمتوں کے زوال کی تمنا ہے اس کے لیے ان میں زیادتی کی دعا کرے۔
2۔ حسد کی تباہ کاریوں سے متعلقہ روز آیات و احادیث پڑھیں کیونکہ حسد کرنے والا جب حسد کے نقصانات پر غور کرتا ہے تو اس کی تلافی کے لیے اس کے اندر محور کے لیے بھلائی پیدا ہوجاتی ہے۔
3۔ محنتی لوگ حسد نہیں کرتے اگر آپ محنتی ہے تو آپ حسد نہیں کرسکتے کیونکہ محنتی اپنی تقدیر بدل رہا ہوتا ہے تو محنت کی عادت ڈالنے سے آپ میں حسد نہیں آتا۔
4۔ حسد کرنے کے بجائے رشک کرنے کو اپنائیں بولے ماشاء اللہ اس میں یہ خوبی ہے میرے اندر بھی آجائے۔ اگر آپ سے کوئی حسد کرتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے درجِ ذیل نکات پر غور کریں:
i۔ حاسد اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ تم میں کوئی خوبی ہے کیونکہ جس میں کوئی خوبی نہیں ہوتی اس سے کوئی حسد نہیں کرتا خوبی کی پہلی پہچان یہ ہے کہ آپ کے حاسد پیدا ہوجائے گئے۔ حاسد میں وہ خوبی برداشت نہیں ہوتی اس لیے اپنی خوبی کے لیے ماشاء اللہ اور لاحول ولا قوۃ پڑھنا چاہیے کیونکہ ہماری خوبی خدا کی مہربانی اور دین ہے۔
ii۔ اگر ہوسکے تو حسد کرنے والے کے ساتھ نیکی کریں اس کے ساتھ احسان کریں کیونکہ یہ نبی کریمﷺ کی سنتِ مبارکہ ہے کہ آپ ﷺ نے طائف والوں کے لیے بھی دعا کی کہ یہ نہیں تو ہوسکتا ہے۔ ان کی نسلیں ایمان لے آئے اور تاریخ نے دیکھا کہ وہ محمد بن قاسم جس نے ہند فتح کیا طائف کے قبیلے سے تھا تو حاسد سے اچھا سلوک اس کے اندر حسد کو ختم کرسکتا ہے۔

لیئق احمد
لیئق احمد
ریسرچ سکالر شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی ، ٹیچنگ اسسٹنٹ شعبہ علوم اسلامیہ جامعہ کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *