مختلف اقوام کے عقائد۔۔۔۔روبینہ نازلی

انسان سے وابستہ( اس کے جسم کے علاوہ )انسانی باطن، نفس اور روح کے متعلق مختلف اقوام اور مذاہب میں مختلف عقیدے پائے جاتے ہیں درحقیقت روح و نفس مذہبی آفاقی اطلاعات ہیں اور یہ آفاقی اطلاعات ابھی تک پورے طور پر کوئی سمجھ نہیں پایا اور ان آفاقی اطلاعات میں فلسفیانہ اضافوں نے انہیں مزید الجھا دیا ہے۔ دوسرے، اکثر مذاہب میں تبدیلی ترمیم و اضافوں نے بھی روح و نفس سے متعلق عقیدوں کو متاثر کیا ہے۔ اور ان دو بڑی غلطیوں نے روح و نفس کو ایک پیچیدہ مسئلہ بنا دیا ہے۔ لیکن پھر بھی روح و نفس کی سب سے اہم اطلاعات مذہبی آفاقی اطلاعات ہی ہیں۔ اس کے علاوہ ابھی تک تجربوں مشاہدوں اور تجزیوں کے بعد بھی روح و نفس یا انسانی باطن یا مجموعی انسان کی کوئی تعریف سامنے نہیں آ سکی۔ یعنی انسان اور اس کے باطن سے متعلق سب سے اہم معلومات مذہبی معلومات ہی ہیں لہذا انسان کو جاننے کے لئے مذہبی معلومات کا ہونا لازمی ہے۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ انسانی باطن(روح و نفس) سے متعلق مختلف اقوم میں کیا عقیدے رائج ہیں۔

۱۔ قدیم امریکی

امریکہ کے ریڈ انڈین سمجھتے تھے کہ روحیں ایک خاص مسکن میں چلی جاتی ہیں۔

۲۔ قدیم افریقی

قدیم افریقی سمجھتے تھے کہ نیک روحیں دیوتاؤں سے جا ملتی ہیں جب کہ برے لوگوں کی روحیں کُتے بن جاتی ہیں۔ افریقہ کے بعض قبائل کا عقیدہ ہے کہ انسان کی روح کالی مکھی بن کر اڑ جاتی ہے اسی لئے وہ مکھی کو کبھی نہیں مارتے۔ افریقیوں میں ارواح کو بلانے اور ان سے مسائل کے حل اور روحانی علاج میں بھی مدد لی جاتی ہے۔ اسی سلسلے کے ڈاکومینٹری پروگرام ہمیں مختلف چینلز پر دیکھنے کو بھی ملتے ہیں۔

۳۔ آئرلینڈ

آئرلینڈ کے بعض قدیم قبائل کا خیال تھا کہ مرنے والے کی روح سفید تتلی بن کر اُڑ جاتی ہے۔

۴۔ قدیم مصری

مصر کے قدیم باشندوں کا عقیدہ تھا کہ مرنے کے بعد انسان کی دوسری زندگی شروع ہوتی ہے اور اس کی روح اور ہمزاد جسے وہ بع اور کع کہتے تھے اس کے جسم سے نکل کراس کے مقبرے میں رہنے لگتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ (بع) کا میل جول مرنے والے کے عزیزوں دوستوں کے ساتھ رہتا ہے جب کہ (کع) دوسری دنیا میں چلا جاتا ہے اور دیوی دیوتاؤں کے ساتھ رہنے لگتا ہے۔ کسی آدمی کے ہمیشہ زندہ رہنے کی ان کے خیال میں بس یہی صورت تھی کہ بع اور کع جسم کو پہچانتے ہوں اسی وجہ سے وہ مرنے والے کی لاش کو حنوط کر کے ممی کی شکل دے ڈالتے۔ ممی کے پٹیوں میں لپٹے ہوئے سر پر نقاب چڑھایا جاتا جس پر مرنے والے کی تصویر بنی ہوتی تھی۔ ایسا اس لئے کیا جاتا تھا کہ ممی خراب بھی ہو جائے تو اس کا بع اور اس کا کع اسے پہچان لیں اور بھٹکتے نہ پھریں۔ لاش کے مجسمے بھی بنائے جاتے تاکہ اگر ممی خراب ہو جائے تو بع اور کع بھٹکتے نہ پھریں۔
۵۔ آسٹریلیا

افریقہ اور آسٹریلیا کے پرانے قبائل میں بھی آباؤ اجداد کی ارواح کو پوجنے کا رواج پایا جاتا تھا آسٹریلیا کے آبرجینل (Aboriginal) میں بھی حیات بعد الموت کا تصور پایا جاتا ہے۔

۶۔ ابتدائی دور کے رومی

ابتدائی دور کے رومی قدیم مذہب پر کاربند تھے وہ قدیم مذہب طبعی تھا وہ روحوں کی پرستش کرتے تھے جو گھروں چشموں، کھیتوں اور مفصلات کے دوسرے مقاموں پر کار فرما تھیں۔

۷۔ عربوں کا ایک عقیدہ

قبل از اسلام عربوں میں ایک عقیدہ یہ بھی مروج تھا کہ جب کسی آدمی کو قتل کر دیا جاتا ہے تو اس کے سر سے روح ایک پرندہ کی شکل میں نکلتی ہے اور جب تک اس مقتول کا انتقام نہ لیا جائے اس وقت تک وہ اس کی قبر پر چکر کاٹتی رہتی ہے اور کہتی ہے “مجھے پلاؤ میں سخت پیاسی ہوں “۔ اس عقیدہ کے باعث ان کے ہاں اگر کسی آدمی کو قتل کر دیا جاتا تو اس کے قریبی رشتہ داروں کے لئے اس کے خون کو معاف کرنا مشکل ہو جاتا کیونکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ جب تک ہم مقتول کا بدلہ نہیں لیں گے اس وقت تک اس کی روح کو چین نہیں آئے گا اور وہ اپنے مشتعل جذبات کو تو ٹھنڈا کر سکتے تھے لیکن اپنے مقتول باپ یا بھائی کی روح کی اس ابدی پریشانی اور اضطراب کو برداشت کرنا ان کے بس کا روگ نہ تھا اس لئے وہ مجبور تھے کہ اپنے مقتول عزیز کا ہر قیمت پر انتقام لیں۔

۸۔ چینیوں کا عقیدہ

چینیوں میں فطری طاقتوں کے مظاہر کے علاوہ اپنے اسلاف کی پوجا کا بھی رواج عام تھا۔ ان کا یہ اعتقاد تھا کہ ان کے اسلاف کی روحیں اپنے آنے والی نسلوں کو نفع بھی پہنچا سکتی ہیں اور نقصان بھی اور ان اسلاف کی روحوں کو خوش و خرم رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ ان کے نام سے کھانا پکایا جائے۔ گذشتہ دو ہزار سال سے کنفیوشس کے نظریات جن میں اپنے اسلاف کی پرستش کا عقیدہ اور یہ عقیدہ کہ بادشاہ آسمان کا بیٹا ہوتا ہے اور وہ ان ارواح کے درمیان جو عالم بالا میں سکونت پذیر ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو اس عالم آب و گل میں زندگی بسر کر رہے ہیں شفاعت کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ دونوں عقیدے ان کے ہاں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔

قدیم چینیوں کے مطابق ہر شخص کی روح کے دو حصے ہوتے ہیں۔

(i)۔ پو (P.O) یہ اس کی شخصیت کا نظر آنے والا حصہ جو کہ اس کے جسم سے جڑا ہوتا ہے۔

(ii)۔ ہن (HUN) یہ نہ نظر آنے والا حصہ ہے جو کہ جسم میں موجود ہوتا ہے لیکن لازمی نہیں کہ ہمیشہ جسم سے بندھا ہو۔ جب وہ جسم سے باہر پھر رہا ہو تو ظاہر بھی ہو سکتا ہے اور اگر وہ ظاہر ہو گا تو وہ اصل جسم کی صورت میں ظاہر ہو گا جب کہ اصل جسم اس سے دور ہوتا ہے۔ اصل جسم میں P.O موجود ہوتا ہے۔ اور اگر HUN مستقل طور پر جسم سے دور رہے تو جسم کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

۹۔ بدھسٹ

ہر سال 13 اگست کو بدھ مذہب کے پیروکار “یوم ارواح ” مناتے ہیں۔ اس تہوار پر تمام بدھی لوگ اپنے آباء و اجداد رشتہ دار اور بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں۔ جاپان میں اس دن “بون میلہ” لگتا ہے۔ موری اوکا شہر کے “دائی شو آن مندر” میں لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور امیتابھا (نور احمد) کی شان میں گا تھا (نعتیں ) اور مناجات (درود) پڑھتے ہیں۔ ان کے عقائد کے مطابق ان گاتھاؤں اور مناجات کو پڑھنے سے بدھا (احمد) اپنی روحانی شعاعیں ہمارے اوپر پھینکتے ہیں۔ قبروں پر پھول چڑھاتے وقت وہ لوگ مناجات پڑھنے کے ساتھ ساتھ مرحومین سے اس طرح گفتگو بھی کرتے جاتے ہیں جیسے وہ وہاں ان کے سامنے بیٹھے ہوں۔ دائی شو آن کے مندر میں بون میلہ کی تقاریب میں لوگ امیتابھا کی گاتھائیں پڑھتے ہوئے وجد میں آ جاتے ہیں اور والہانہ رقص کرتے ہیں انہوں نے تنکوں کی ٹوپیاں پہن رکھی ہوتی ہیں ان کی روایات کے مطابق اس موقع پر بھجن گانے اور رقص کرنے سے مرحومین کو روحانی سکون پہنچتا ہے۔

۱۰۔ تبت

راز ہائے سربستہ کا مدفن تبت تو منسوب ہی پراسراریت اور ماورائیت سے ہے۔ یہاں کے لوگ مظاہر پرست تھے۔ تبت میں بدھ مت چوتھی صدی عیسوی میں پوری طرح پھیل چکا تھا اور یہ ملک کا اکثریتی مذہب بن گیا تھا۔ بدھ ازم میں بھی آواگون کا عقیدہ بنیادی اساس ہے جسے زندگی کا چکر یا “کرما” کہتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان بار بار مر کر دوبارہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا اگلا جنم اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔ تبت میں روحانی تربیت کے ہی تعلیمی ادارے قائم تھے اور وہاں کا سربراہ بھی روحانی عالم ہوتا تھا جسے “دلائی لامہ ” کہا جاتا ہے۔ بدھ مت میں دلائی لامہ کی وہی حیثیت ہے جو عیسائیوں میں پوپ کی۔ ایشیا بھر میں قائم بدھ مت کی حکومتیں اس کی اہمیت تسلیم کرتی ہیں۔ چینی زبان میں لاما کے لئے لفظ بیوفو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ استعمال کیا جاتا ہے جس کے معنی “زندہ بدھا ” کے ہیں یعنی ایسا شخص جو بار بار جنم لیتا ہے۔ (روحانی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں تبتی لاما دوران مراقبہ اپنے اوپر مصنوعی موت طاری کر لیتے تھے اس دوران طبعی نقطہ نظر سے ان پر موت طاری ہو جاتی یعنی سانس اور دل کی دھڑکن رک جاتی وہ عارضی طور پر اپنے نفس کو جسم سے الگ بھی کر لیتے اس طرح ماضی و مستقبل میں سفر کرتے تھے۔ )بدھ مت میں عبادت کا مخصوص تصور نہیں ہے وہ اسے مشق کا نام دیتے ہیں۔ تبتی مختلف روحانی مشقیں کرتے ہیں ان میں سے ایک گروہ چاڈ کا خیال ہے کہ روح جزو خدا ہے اسے جسم کی آلائشوں سے پاک کرنا کمال بندگی ہے۔

۱۱۔ سکھ

سکھ روح کو یونیورسل روح کا حصہ مانتے ہیں ان کے مطابق روح کائنات کا حصہ ہے اور کائنات خدا۔ وہ روح کو آتما اور رب کو پرماتما کہتے ہیں۔

AGGS (AAD GURU GRANTH SAHIB کی کتاب میں ہے۔

Soul (ATMA) to be part of universal soul which is God (Permatma)

۱۲۔ ہندو ازم

ہندوازم میں سنسکرت کا لفظ Jiva روح سے مطابقت رکھتا ہے جس کا مطلب ہے انفرادی روح یا ذات اور آتما کا مطلب ہے روح یا خدا۔ ہندو ازم کے عقائد کے مطابق آتما برہمن کا کچھ حصہ ہے جو ہمارے اندر آ گیا ہے اور روح برہمن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے یعنی یہ خدا کا سر ہے۔

بدھسٹ کے عقائد بھی آتما اور پرماتما سے مماثلت رکھتے ہیں۔

۱۳۔ عقیدۂ تناسخ

تناسخ کا عقیدہ ہندو مذہب کا خصوصی شعار ہے جو اس کا قائل نہیں وہ ہندو دھرم کا فرد نہیں۔ باس دیو، ارجن کو عقیدہ تناسخ کی حقیقت سمجھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ موت کے بعد اگرچہ جسم فنا ہو جاتا ہے لیکن روح باقی رہتی ہے اور وہ اپنے اچھے اعمال کی جزاء اور برے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے دوسرے اجسام کے لباس پہن کر اس دنیا میں لوٹ آتی ہے اور یہ چکر غیر متناہی مدت تک جاری رہتا ہے۔

(موت کے بعد روح کے دیگر لباس پہن کر اپنے اعمال کے مطابق سفر کی روداد کو دیگر زندگیاں یا بار بار زندگی تصور کر لیا گیا حالانکہ یہ ایک ہی زندگی کے سفر کی روداد ہے جسے غلط معنوں میں لیا جا رہا ہے اور اسی تاریخی غلطی کو کرما کا نظریہ کہا جاتا ہے )۔

۱۴۔ کرما کا نظریہ KARMA

ہندو ازم اور بدھ ازم کے عقائد کے مطابق اس بار بار کے جینے مرنے کے تسلسل سے اس وقت ہی انسان کو نجات مل سکتی ہے جب وہ وجود حقیقی میں کھو جاتا ہے جب بھی روح مادہ کے قفس کو توڑ کر آزاد ہوتی ہے تو ہر قسم کے رنج و الم سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ اس عقیدے کی رو سے ایک بار مرنے کے بعد انسان دوسرے جنم میں کسی اور وجود میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ وجود انسانی، حیوانی بلکہ نباتاتی بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے جنم میں اس سے جو غلطیاں سر زد ہوئیں تھیں اس کے مطابق اس کو نیا وجود دیا جاتا ہے جس میں ظاہر ہو کر وہ طرح طرح کی مصیبتوں، بیماریوں اور ناکامیوں میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اگر اس نے اپنی پہلی زندگی میں نیکیاں کی تھیں تو اس کو ان کا اجر دینے کے لئے نئے وجود کا کوئی ایسا قالب بخشا جاتا ہے جس میں ظاہر ہونے سے اس کو اس کی گذشتہ نیکیوں کا اجر ملتا ہے اور اس طریقہ کار کو کرما (Karma) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔

کم بیش اہل یونان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔

داتا گنج بخش علی ہجویری اپنی کتاب کشف المحجوب میں اس نظر یے پر یوں تبصرہ کرتے ہیں۔

ملحد جو روح کو قدیم کہتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں اور سوائے اس کے کسی اور شے کو فاعل و مدبر نہیں سمجھتے ارواح کو معبود قدیمی اور مدبر ازلی قرار دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ہی روح ایک شخص کے جسم سے دوسرے شخص کے جسم میں چلی جاتی ہے اور یہ ایک ایسا شبہ ان لوگوں کا ڈالا ہوا ہے کہ جتنا اجتماع اور اتفاق اس پر ہوا ہے اتنا اور کسی شبہ پر خلق کا نہیں ہوا اس لئے کہ سچ پوچھو تو عیسائی بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اگرچہ بظاہر کہتے کچھ اور ہیں اور ہندو چین و ماچین میں تو سب کے سب لوگ اسی بات پر متفق ہیں، شیعوں قرامطیوں اور باطنیوں کا بھی یہی عقیدہ رہا ہے اور حلولیوں کے دونوں گروہ بھی اسی کے قائل ہیں۔

(جب کہ آج جب روح کا مشاہدہ کیا جاتا ہے روحانی مشقوں کے ذریعے یا آج سائنس دان جو تجربات و مشاہدات کرتے ہیں وہ بھی یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ روح یونیورسل روح کا حصہ ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے کہ روح یونیورسل روح کا حصہ ہے لیکن روح رب نہیں ہے۔ کرما کے نظریے کی بھی تصدیق کی جاتی ہے روح و باطنی اجسام کا مشاہدہ کرنے والے ان باطنی اجسام کی موجودگی کو کرما یا آواگون کے نظریات کی صدیق تصور کرتے ہیں

اور یہ غلط فہمیاں روح اور باطن سے لاعلمی پر مبنی ہے ہم جب روح اور باطن کی شناخت اور اس کی مسلسل وضاحت کریں گے تو خود بخود یہ غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔

۱۵۔ یہودی

ترجمہ:۔ اﷲ نے انسان کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا (Genesis 2:7) ، HEBREW BIBLE

بائبل میں روح کی کچھ خاص تعریف موجود نہیں روح کی بہت سی وضاحتیں کلاسیکل لٹریچر میں ملتی ہیں۔ مثلاً

Kabba Lah (esoteric jewish mysticism) کے کام Zohar کے مطابق روح کو تین حصوں میں دیکھا گیا۔

(1) NEFESH – (2) – RUACH (3) NESHAMA-

۱۔ NEFESH۔ روح کا سب سے نچلا حیوانی حصہ یہ انسان کی جسمانی خواہشات سے تعلق رکھتا ہے۔ تمام انسانوں میں پایا جاتا ہے اور جسم میں پیدائش کے وقت داخل ہوتا ہے۔ باقی کے دو حصے پیدائش کے وقت داخل نہیں ہوتے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ بنتے ہیں۔ اور ان کا بننا انسان کی حرکات اور اس کے اعتقادات پر منحصر ہوتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے یہ انہی لوگوں میں پائے جاتے ہیں جو روحانی طور پر بیدار ہوں۔

۲۔ روح RUACH۔ یہ درمیانی روح یا Spirit ہے۔ اس میں اخلاقی پہلو پایا جاتا ہے اور یہ اچھے اور برے میں تمیز کرتی ہے اور اس کو ہم سائیکی (Psyche) اور Ego بھی کہتے ہیں۔

۳۔ NESHAM۔ سب سے اونچی درجے کی روح سب سے برتر حصہ۔ یہ انسان کو تمام تر زندہ چیزوں سے منفرد بناتی ہے اس کا تعلق انر سے ہے۔ یہ انسان کو زندگی کے بعد کے فائدوں سے لطف اندوز ہونے میں مدد دیتی ہے۔ روح کا یہ حصہ یہودیوں اور غیر یہودیوں دونوں کو پیدائش کے وقت دے دیا جاتا ہے یہ کسی بھی فرد کو اس کی موجودگی اور خدا کی موجودگی کا علم دیتا ہے۔ موت کے بعد نفس NEFESH ختم ہو جاتا ہے۔ روح (RUACH) کو ایک عارضی جگہ بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کی پاکیزگی کے عمل کے لئے ایک عارضی جنت میں بھیج دیا جاتا ہے۔ NESHAMA کو واپس پلاٹونک ورلڈ میں اپنے محبوب سے وصال کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔

۱۶۔ قرآن مجید

قرآن و حدیث میں نہ صرف روح، نفس جسم کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے بلکہ ان کی انفرادی شناخت اور تخلیقی و فنائی مراحل کا تذکرہ بھی ہے۔ مثلاً

(1) روح :۔ (رب امر ہے ) یہاں قرآن نے روح کو رب نہیں بلکہ رب کا حکم قرار دیا ہے۔ یہ تعریف دراصل روح کی واحد اور صحیح تعریف ہے۔

(2) نفس:۔ خواہش و ارادے سے منسوب ہے اس کی دیگر تفصیلات بھی موجود ہیں جنہیں سمجھنے کی یا جن سے استفادے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

(3) جسم :۔ جسم عمل سے منسوب ہے جسم کے مختلف تخلیقی مدارج کا ذکر قرآن میں تفصیلاً موجود ہے۔

تبصرہ، تجزیہ، موازنہ

تمام مذاہب (قدیم ہوں یا جدید) میں انسانی باطن (روح، نفس )کا تصور پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ کوئی ایسا نیا یا انفرادی تصور نہیں ہے جیسا کہ آجکل کچھ ماڈرن لوگ روح و نفس کے ذکر کو توہم پرستی قرار دیتے ہیں۔ روح و نفس سے متعلق یہ رویہ انتہائی احمقانہ رویہ ہے۔ کیونکہ روح تو ہم خود ہیں لہذا خود کو توہم پرستی قرار دے کر خود کا انکار کرنا محض حماقت نہیں اس سے بڑی غلطی ہے۔

تمام مذاہب نے روح و نفس کی ایک سی تعریفیں کی ہیں لیکن تمام مذاہب میں ان روح، نفس سے متعلق مختلف عقیدے پائے جاتے ہیں۔ درحقیقت روح و نفس مذہبی آفاقی اطلاعات ہیں اور یہ آفاقی اطلاعات اپنی جگہ درست ہیں لیکن ہر دور میں اور آج بھی ان آفاقی اطلاعات کو کوئی بھی پورے طور پر سمجھ نہیں پایا اس کی دو وجوہات ہیں۔

(1) آفاقی اطلاعات کو پورے طور پر سمجھا نہیں گیا دوسرے ان آفاقی اطلاعات میں فلسفیانہ اضافوں نے انہیں مزید الجھا دیا ہے۔ یعنی روح و نفس کی تعریف کرنے کی کوشش (جو کہ غلط کوششیں رہی ہیں ) نے ان اطلاعات کو خلط ملط کر دیا ہے۔

(2) دوسرے اکثر مذاہب میں انہیں سوامیوں اور فلسفیوں نے ترمیم و اضافے کر ڈالے ہیں۔ اور انہیں ترمیم و اضافوں نے روح و نفس کی تعریفوں کو بھی متاثر کیا ہے جس سے نت نئے فلسفوں اور روح سے متعلق نت نئے عقیدوں نے جنم لیا ہے جب کہ ان عقیدوں کا تعلق مذاہب سے نہیں بلکہ یہ عقیدے سوامیوں یا فلسفیوں کے قلم کا شاخسانہ ہیں اور ان عقیدوں (یعنی نظریات) میں وہی غلطیاں پائی جاتی ہیں جو کسی بھی فلسفی کے فلسفے میں متوقع ہوتی ہیں۔

ان بڑی اور بنیادی غلطیوں نے ہی دراصل روح و نفس کو ایسا گھمبیر مسئلہ بنا ڈالا ہے کہ آج تک نہ تو روح و نفس کی صحیح تعریف ممکن ہو سکی ہے نہ ہی مجموعی انسان کی تعریف ہی ممکن ہو سکی ہے۔ لیکن تمام تر ترمیم و اضافوں کے باوجود آج تک روح و نفس کی سب سے بڑی اور اہم تعریف مذاہب ہی نے کی ہے اس کے علاوہ تمام تر برسوں کے تجربوں اور مشاہدوں کے باوجود آج تک روح و نفس کی کوئی تعریف یا شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔ مذاہب نے روح و نفس یا مجموعی انسان کی جو صحیح تعریف دی ہے اسی تعریف کو فلسفی یا روحانی پیشوا خلط ملط کرتے چلے آئے ہیں اور آج بھی یہی کر رہے ہیں۔ لہذا ہر مذہب میں روح، نفس، جسم کا تذکرہ تو موجود ہے لیکن ان تمام کو اور ان تمام کے اعمال و افعال کو گڈمڈ کر دیا گیا ہے۔ روح کے حصے بیان کئے گئے ہیں جب کہ یہ محض فلسفیانہ اطلاع ہے مذاہب نے روح کو حصوں میں تقسیم نہیں کیا یہ محض فلسفیانہ فکر ہے جو برسوں سے چلی آ رہی ہے۔

جن اجسام کو روح کے حصے بتا یا گیا ہے وہ اپنے علیحدہ انفرادی تشخص رکھتے ہیں وہ دراصل کیا ہیں۔ ان کی انفرادی حیثیت کیا ہے ، ان کی خصوصیات و اعمال کیا ہیں ان تمام تفصیلات کا ذکر آگے آئے گا۔

روح کے مادی دنیا سے جانے کے بعد عالم برزخ سے سفر آخرت تک کو صحیح طور پر نہیں سمجھا گیا اور اس غلطی نے باطل عقیدوں کی صورت اختیار کر لی۔

نفس کی بھی انفرادی شناخت نہیں کی گئی نفس کے بعض اجزاء کو روح کے حصے قرار دیا گیا ہے اور نفس کو انفرادی حیثیت میں شناخت کرنے کے بجائے روح کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس غلط فہمی کو آگے دور کر کے نفس کی انفرادی شناخت قائم کی جائے گی۔

اکثر عقائد میں روح اور خالق کو ایک ہی شے تصور کیا گیا ہے جب کہ یہ مذہبی یا کائناتی اطلاع نہیں ہے یہ کوئی عقیدہ نہیں ہے بلکہ کائناتی اطلاع کو سمجھنے کی غلطی نے اس فلسفے کو جنم دیا ہے۔ مختلف اقوام میں روح کی پوجا کا رواج عام ہے اور اس عقیدے نے بھی اس غلط فہمی سے جنم لیا ہے کہ روح اور رب ایک ہی شے کے دو نام ہیں۔

صرف قرآن نے نہ صرف ہر روح، نفس و جسم کی انفرادی تعریف اور شناخت قائم کی ہے بلکہ ان تمام کے تخلیقی و فنائی مدارج کا بھی ذکر کیا ہے لیکن قرآن سے لاعلمی اور علم میں پختگی نہ ہونے کے سبب آج تک کوئی عالم و فاضل ان آفاقی اطلاعات کو پورے طور پر سمجھ نہیں پایا۔ اگرچہ تھوڑا تھوڑا علم چند عالم و فاضل رکھتے ہیں لیکن یہ مجموعی انسان کا پورا علم نہیں ہے نہ ہی ہر روح، نفس و جسم کا انفرادی علم ہی موجود ہے۔ حالانکہ قرآنِ مجید نے انسان کے ہر انفرادی جز کی نشاندہی کی ہے تعریف اور تعارف بھی کیا ہے۔ لیکن ترجمہ کرنے والے حضرات اس فرق کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے لہذا روح و نفس کا ایک ہی ترجمہ کرتے ہیں یا دونوں کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں یا روح و نفس کا ترجمہ جان کر دیتے ہیں۔ یہ محض لا علمی پر مشتمل غلطیاں ہیں۔ قرآن نے روح کو رب نہیں کہا بلکہ رب کا حکم قرار دیا ہے۔ یہی تعریف روح کی صحیح تعریف ہے۔ روح کی یہ واحد تعریف ہے جو اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔ لہذا تمام مذاہب کی آفاقی اطلاعات درست تھیں اور درست ہیں لیکن ان اطلاعات کو سمجھنے میں غلطی کی سوامیوں، روحانی پیشواؤں اور فلسفیوں نے اور اسی غلطی نے غلط عقائد کو جنم دیا جس کی وجہ سے آج تک انسانی تعریف ممکن نہیں ہو پائی۔ درج ذیل بحث سے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

نتائج

(1)۔ تمام مذاہب میں انسانی باطن (روح و نفس) کا تصور پایا جاتا ہے۔

(2)۔ مذاہب نے روح کی انفرادی شناخت اور تعریف کی ہے۔

(3)۔ مذاہب نے نفس کی بھی انفرادی شناخت اور تعریف کی ہے لیکن آج تک نفس کی انفرادی تعریف موجود نہیں اور اسے روح کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے۔

(4)۔ مذاہب میں ترمیم و اضافوں سے روح و نفس کی تعریفیں متاثر ہوئی ہیں۔

(5)۔ روح و نفس کی مذہبی اطلاعات کو سمجھنے میں غلطی کی گئی ہے جس سے مختلف عقیدوں نے جنم لیا ہے۔

(6)۔ روح کو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

(7)۔ روح و رب کو ایک ہی شے تصور کیا گیا ہے۔

(8)۔ اکثر مذاہب میں ارواح کی پوجا کا رواج ہے۔

(9)۔ جب کہ قرآن میں یہ مذہبی معلومات اپنی صحیح حالت میں موجود ہیں لہذا قرآن نے نہ صرف روح و نفس، جسم کی انفرادی تعریف کی ہے بلکہ ان کی تخلیقی و فنائی ترتیب کو بھی بیان کیا ہے لیکن اسے آج تک سمجھا نہیں گیا یا اس علمی ذخیرے سے استفادے کی کوشش نہیں کی گئی۔

(10)۔ آواگون یا کرما کے غلط نظریے نے بنیادی عقیدے کی شکل اختیار کر لی ہے جب کہ اس غلط نظریے نے بھی مذاہب کی صحیح اطلاعات کو سمجھنے کی غلطی سے جنم لیا ہے۔ در حقیقت یہ بھی آفاقی نظریہ نہیں ہے۔

نوٹ: یہ مضمون روبینہ نازلی کی کتاب “علم الانسان “سے لیا ہے ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *