روشنی اور گرہیں (3)۔۔وہاراامباکر

فزکس کی تاریخ کی ایک بہت بڑی یکجائی میکسویل نے 1860 میں حاصل کی۔ یہ برقیت اور مقناطیسیت کی تھی۔ میکسویل نے ایک طاقتور تصور استعمال کیا جو فیلڈ کا تھا۔ یہ تصور فیراڈے نے دیا تھا۔ اور اس وقت کی دریافتوں میں برقی فیلڈ اور مقناطیسی فیلڈ میں مماثلت تھی۔ میکسویل نے اس سے اندازہ لگایا کہ ان کو ملایا جا سکتا ہے۔ ان کو ملانے کے لئے مساوات بدلنے کی ضرورت ہے۔۔ صرف ایک چیز کے اضافے کے ساتھ انہوں نے اس کو حاصل کر لیا۔ اور اس کے بہت ہی اہم نتائج تھے۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں فیلڈ ایک دوسرے کو پیدا کر سکتے تھے۔ اس کا مطلب لہروں کی صورت میں نکلتا تھا۔ بدلتے مقناطیسی فیلڈ کی وجہ سے بدلتا الیکٹرک فیلڈ جس کی وجہ سے بدلتا مقناطیس فیلڈ اور یوں یہ اکٹھے سپیس میں سفر کر سکتے تھے۔ اور یہ لہریں توانائی کو ایک جگہ سے دوسرے جگہ لے جا سکتی تھیں۔
سب سے حیرت انگیز چیز یہ کہ میکسویل نے مساوات کی مدد سے لہروں کی رفتار نکال لی اور معلوم ہوا کہ یہ روشنی کی رفتار تھی اور پھر یہ خیال ان کو ٹکرایا۔ “یہ تو روشنی ہی ہے!!”۔ روشنی برقی اور مقناطیسی فیلڈ کی لہریں (الیکٹرومیگنیٹک ویو) ہے۔ میکسویل روشنی کی تھیوری کی تلاش میں نہیں نکلے تھے۔ مقناطیسیت کا برقی فیلڈ سے ملاپ کروانے کی کوشش کر رہے تھے اور بہت بڑا کام کر ڈالا۔ اچھے خیال کے یہی اثرات ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے نئی پیشگوئیوں کا سلسلہ کھل گیا۔ میکسویل کو پتا لگا کہ الیکٹرومیگنیکٹ ویوز ہر فریکوئنسی پر ہوں گی۔ صرف نظر آنے والی روشنی پر نہیں۔ اور اس سے ریڈیو، انفراریڈ، الٹراوائلٹ وغیرہ کی دریافت ہوئی۔ صرف فریکوئنسی کا ہی فرق ہے۔ یہ اچھی یکجائی کے نتائج تھے۔ اور بڑی دریافتوں اور ایجادات کی وجہ بن گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بڑی کامیابی کے ساتھ ہی ایک رکاوٹ آ گئی۔ انیسویں صدی کے وسط میں زیادہ تر فزسسٹ یہ خیال کرتے تھے کہ فزکس یکجا اس لئے ہے کہ ہر شے مادہ ہے۔ (اور ایسا ہونا، نیوٹن کے قوانین کے لئے بھی ضروری تھا)۔ یہ اس وقت کی فزکس کا میکانسٹ تصور تھا۔ اس میں لہروں والے فیلڈ کا تصور نگلنا مشکل تھا۔ ان کے لئے میکسویل کی تھیوری کی تّک نہیں بن رہی تھی۔ لہروں کو میڈیم درکار تھا جو کھینچا جا سکے اور موڑا جا سکے۔ ورنہ لہر کیسے بنے گی؟ الیکٹرک اور میگنیکٹ فیلڈ کی اصل حقیقت کے لئے یہی ہونی چاہیے تھی۔ پھول سے آنکھ کا سفر کرتی روشنی کچھ تو سکیڑ اور پھیلا رہی تھی۔
فیراڈے اور میکسویل بھی میکانسٹ تھے۔ اور انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بہت وقت لگایا۔ وہ اس میں اکیلے نہیں تھے۔ اچھے نوجوان سائنسدانوں نے اچھے اداروں میں اس پر وقت صرف کیا۔ خوردبینی گئیر، پلیاں اور بیلٹ کے تصور بنائے گئے جو میکسویل کی مساوات کی وضاحت کیلئے تھیں۔ اس کو حل کرنے کے لئے انعامات رکھے گئے۔
اس مسئلے کا ایک اور بڑا سوال یہ تھا کہ سورج اور ستاروں کی روشنی ہم تک کیسے سفر کرتی ہے۔ خلا میں تو مادہ ہی نہیں۔ اگر یہ مادہ ہوتا تو پھر اس کی فرکشن کی وجہ سے سیاروں کی حرکت سست ہو جانی تھی۔ اور توانائی کھوتے ہوئے سیاروں نے سورج میں جا گرنا تھا۔ خلا میں یہ فیلڈ کیسے رہ سکتے ہیں؟
میکانسٹ سائنسدانوں نے اس کو حل کرنے کیلئے ایک اور نئی قسم کے مادے کا تصور ایجاد کیا۔ یہ ایتھر تھا اور اس سے خلا بھری ہوئی تھی۔ اس کی عجب خاصیتیں تھیں۔ ایک طرف یہ انتہائی کثیف اور سخت تھا۔ ورنہ روشنی اس کو نہ ہلا پاتی۔ روشنی اور آواز کی رفتار کا میں بے انتہا فرق ایتھر کی بے تحاشا کثافت کی وجہ سے تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ ایتھر عام مادے کیلئے کوئی مزاحمت نہیں کرتا تھا۔ اس سے تضاد پیدا ہو جاتا تھا۔ عام مادہ پھر کیسے روشنی کو ڈیٹکٹ کر سکتا ہے؟ یا مقناطیسی اور الیکٹرک فیلڈ کو ڈیٹکٹ کر سکتا ہے، اگر یہ صرف ایتھر پر سٹریس ہیں؟ اس پر نئے خیالات پر پروفیسرشپ دی جاتی تھی۔
کیا ایتھر تھیوری سے زیادہ خوبصورت یکجائی ہو سکتی تھی؟ اس نے روشنی، بجلی اور مقناطیسیت کو یکجا کر دیا تھا اور ان سب کو مادے کے ساتھ یکجا کر دیا تھا۔
لیکن جس طرح ایتھر تھیوری ڈویلپ ہو رہی تھی، فزسسٹ کا مادے کے بارے میں تصور بھی تبدیل ہو رہا تھا۔ انیسویں صدی کے اوائل میں مادہ مسلسل شے سمجھا جاتا تھا۔ اس صدی میں الیکٹرون دریافت ہوئے۔ ایٹم کا تصور سنجیدگی سے لیا جانے لگا۔ لیکن ایک اور سوال پیدا ہو گیا۔ ایتھر کی دنیا میں ایٹم اور الیکٹرون کیا تھے؟
مقناطیسی فیلڈ شمالی سے جنوبی پول کے درمیان بند دائرے بناتا ہے اور یہ دائرے گرہیں بن سکتے ہیں۔ کیا ایٹم مقناطیسی فیلڈ لائنز میں گرہ تھے؟ ملاح جانتے ہیں کہ گرہیں کئی اقسام کی لگائی جا سکتی ہیں۔ لارڈ کیلون نے 1867 میں تجویز کیا کہ مختلف ایٹموں کا مطلب مختلف طرح کی گرہیں ہے۔
یہ عجیب لگے لیکن یاد رہے کہ اس وقت ہم ایٹم کے بارے میں بہت کم جانتے تھے۔ نیوکلئیس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور کسی نے پروٹون اور نیوٹرون جیسے الفاظ نہیں سنے تھے۔ (گرہوں کا یہ خیال اگر پڑھنے میں عجیب لگا تو صرف اس لئے کہ آپ 2021 میں ہیں)۔
اور اس وقت ہمیں گرہوں کے بارے میں بھی زیادہ علم نہیں تھا۔ گرہوں کے کتنے طریقے ہیں؟ ان کو الگ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ریاضی دانوں نے اس مسئلے پر کام شروع کر دیا کہ مختلف ممکنہ گرہوں کو الگ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ریاضی کا نیا فیلڈ بنا جس کو ہم knot theory کہتے ہیں۔ جلد ہی ثابت ہو گیا کہ گرہوں کے لامتناہی طریقے ہیں۔ لیکن اس پر بہت زیادہ وقت لگا کہ گرہوں کو الگ پہچانا جا سکے۔ 1980 کی دہائی میں کچھ پیشرفت ہوئی لیکن اس وقت بھی ہمارے پاس کوئی معلوم طریقہ نہیں کہ دو پیچیدہ گرہوں کو پہچان کر بتا سکیں کہ یہ ایک ہی ہیں کہ الگ ہیں۔
ایتھر کے تصور نے انکوائری کے نئے راستے کھول دئے۔ لیکن یہاں پر ایک اور اصول کا بھی پتا لگتا ہے۔ بہترین اور باربط ریاضی بھی فزیکل تھیوری کے درست ہونے کی ضمانت نہیں۔ ناٹ تھیوری کی خوبصورت کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ ایٹم مقناطیسی فیلڈ کی گرہیں ہیں۔
(جاری ہے)

Avatar