خود کو بیدار کریں۔۔۔عبدالرؤف خٹک

زندگی اسی سوچ اور کشمکش میں گزار دی کہ آگے بڑھنے کے لئیے ہمارے پاس کوئی  ذرائع نہیں ،لہذا ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ،اور اسی محدود اور کمزور سوچ نے ہمیں   آگے نہیں بڑھنے دیا اور ہم محدود ہی ہوکر رہ گئے ،سوچ میں تبدیلی کیسے لائی جائے ؟ آگے بڑھنے کے لئیے کیا  ذرائع بروئے کار لائیں؟ تاکہ ہم بھی خود کو جدید دنیا سے جوڑ سکیں ۔۔۔

سب سے پہلی وجہ ہمارا سوشل لائف سے دور رہنا، ہم لوگوں کے ساتھ روابط نہیں رکھتے اٹھتے بیٹھتے نہیں ،لوگوں کے ساتھ لنک نہیں رکھتے، نجی محفلوں سے خود کو دور رکھتے ہیں ، خود کو گھر میں قید کر کے رکھ لیتے ہیں ،یہ وہ وجہ ہے جو ہمیں آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔
جب تک ہم خود کو سوشل لائف میں داخل نہیں کریں گے ہم اس وقت خود کو کھلے میدان میں نہیں اتار سکتے ،کیونکہ جب ہم اپنی سوشل لائف کو کاٹ کر گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ہیں تو ہم عوامی رابطے سے کٹ جاتے ہیں ،اور یہی تنہائیاں ہمیں آخر میں ڈسنے لگتی ہیں،اور ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اکیلے رہ گئے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ، آگے بڑھنے کے لئیے خود کو بدلنا پڑتا ہے زندگی میں تبدیلی لانی پڑتی ہے ۔جو لوگ وقت یا اپنی کسی اور کمزوری کا رونا روتے ہیں تو میں ان باتوں کو خاطر میں نہیں لاتا ، آپ کوشش کریں تگ دو کریں، ہمت نہ ہاریں ،آپ  نے اک اسٹینڈ لے لیا ہے اب آپ اس پر کاربند رہیں اس پر چلتے رہیں وہ وقت دور نہیں جب کامیابی آپ کے قدم چومے گی ۔

tripako tours pakistan

اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں کہ یہ سب نصیب کی باتیں ہیں ،جی ہاں ! بہت سارے معاملات میں نصیب کا عمل دخل ہے لیکن نصیب کو جواز بنا کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جانا یہ دانشمندی نہیں ،آپ کی محنت ہی آپ کو نصیب کے زینے کے قریب لے جاتی ہے ،انسان کی محنت ہی اسے لاکھوں لوگوں کا محبوب بناتی ہے ۔
ہم میں سے بہت سارے لوگ خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں اور وہ صلاحیتیں ان کے لئیے  خدا داد  ہیں ،کچھ صلاحیتیں انسان میں قدرتی پہلے سے موجود ہوتی ہیں اس پر انھیں زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ،اس کی سیدھی سی مثال میں یوں دیتا ہوں کہ مجھے پڑھائی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن کتابوں کا بڑا رسیاء تھا ،کتابیں لالا کر جمع کرتا لیکن کسی بھی کتاب کے دو چار صفحوں سے زیادہ نہیں پڑھ پاتا ، اردو سے کافی انسیت تھی ،لیکن کبھی اردو کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ،لیکن میں نے محسوس کیا کہ مجھ میں ادب اور لکھنے کی خداداد صلاحیت موجود ہے ،اور میں نے اس خداداد صلاحیت کا فائدہ ضرور اٹھایا ،حالانکہ میں اردو گرائمر کی الف ب بھی نہیں جانتا ۔

اسی طرح ہمارے اک دوست ہیں انھیں انگلش زبان پر مکمل گرفت ہے میں مانتا ہوں کہ اس نے اس زبان کو سیکھنے پر محنت کی لیکن اک خداداد صلاحیت اس نوجوان میں موجود تھی جو اسے حاصل ہوئی ،ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے جو کبھی علمی ماحول میں پروان نہیں چڑھے لیکن وہ بہت اچھا پڑھ بھی لیتے ہیں اور علم کی خوب جانکاری بھی رکھتے ہیں ،لہذا انسان کی کامیابی کو نصیب سے نتھی کرلینا خود کو دھوکہ دینے والی بات ہے یا پھرمحنت سے راہ فرار اختیار کرنا۔کہنے کا  مقصد صرف اتنا ہے کہ اپنی سوچ اور  ذہنوں کو وسیع کریں ، اس میں دنیا کو سمونے کی کوشش کریں ،محدود مت رہو اور نہ ہی خود کو محدود رکھو ، زندگی کا بیشتر حصہ سوشل لائف میں گزارو ، تاکہ آپ میں  آگے بڑھنے کی صلاحیتیں بیدار ہوں ۔

یہ انٹرنیٹ کا دور ہے ،دنیا کی تمام تر رعنائیاں   آپ کی دسترس میں ہیں ، آپ خود کوا س دنیا سے جوڑ لیں ،اب اس سے آپ نے جو بھی سیکھنا ہے  آپ سیکھیں اس کی اچھائی اور برائی بھی   آپ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ نے مثبت سوچ کے ساتھ   آگے بڑھنا ہے تو یہ آپ کے لئیے اک کتاب ہے اک مشعل راہ ہے ، جو آپ کی قدم قدم پر راہنمائی کرتا ہے ،لیکن اگر    آپ نے اس کے الٹ جانا ہے تو یہ اپ کا دشمن بھی ہے یہ آپ کے لئیے زہر بھی ہے ،لہذا اس کا استعمال آپ پر ہے کہ   آپ اس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں ،اپنی سوئی ہوئی صلاحیتیوں کو بیدار کریں ، کند    ذہن کو نکال کر باہر پھینکیں ،اپنی کاوشوں کا  لوہا منوائیں خود کو  مشہور  کریں ،آخر میں اتنا کہوں گا کہ اپنی سستی کاہلی کو اپنی صلاحیتوں پر مسلط نہ کریں بلکہ اٹھنے کی ہمت کریں ،اور خود کو استعمال کریں۔

Avatar
Khatak
مجھے لوگوں کو اپنی تعلیم سے متاثر نہیں کرنا بلکہ اپنے اخلاق اور اپنے روشن افکار سے لوگوں کے دل میں گھر کرنا ہے ۔یہ ہے سب سے بڑی خدمت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *