حسیات۔۔۔ وہارا امباکر

ہم اس وقت اپنے گرد ایک تھری ڈی فلم دیکھ رہے ہیں جو ہمارا اس دنیا کو محسوس کرنے کا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ ہے کیا؟

ہم اپنے گرد دنیا میں رنگ دیکھتے ہیں لیکن یہ رنگ اس دنیا میں موجود نہیں۔ جب الیکٹرومیگنیٹک شعاعیں کسی چیز سے ٹکراتی ہیں تو ان کا کچھ حصہ پلٹ جاتا ہے۔ یہ ہماری آنکھ سے ٹکراتا ہے۔ اس کی کئی ملین ویولینتھ کے ملاپ کو ہم الگ الگ کر لیتے ہیں اور یہ صرف ہمارے ذہن میں آ کر رنگ بنتا ہے۔ رنگ ویولینتھ کی ایک ترجمانی ہیں۔ یہ اس دنیا میں باہر نہیں، صرف ہمارے اندر موجود ہیں۔

اور یہ اس سے بھی کچھ عجیب ہو جاتا ہے کیونکہ ہم ابھی صرف نظر آنے والے سپیکٹرم کی بات کر رہے ہیں۔ سرخ سے بنفشی تک۔ لیکن یہ اس سپیکٹرم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس کا دس ٹریلینواں۔ باقی سپکٹرم بھی ایسا ہی ہے۔ جیسا کہ ریڈیو ویوز، مائیکروویوز، ایکس ریز، گاما ریز، موبائل فون کی باتیں، وائی فائی سگنل بھی یہیں اسی میں ہے۔ ہمارے اندر سے گزر رہا ہے لیکن ہم اس کو بغیر آلات کے نہیں جان سکتے۔ ہماری بائیولوجی میں اس کے ریسپٹر ہی نہیں۔ حقیقت کا جو ٹکڑا ہم دیکھتے ہیں، اس کا تعلق ہماری بائیولوجی سے ہے۔

ہر مخلوق حقیقت کا اپنے لئے مفید حصہ اٹھاتی ہے۔ ایک چچڑی کے اندھی اور بہری دنیا میں جو سگنل اس کو پتا ہیں، وہ درجہ حرارت اور جسم کی بو ہے۔ چمگادڑ کے لئے ہوا کی کمپریشن کی ویوز سے ایکولوکیشن۔ سیاہ گھوسٹ نائف فِش کیلئے برقی فیلڈ میں تبدیلیاں۔ یہ ان کے ایکوسسٹم میں حقیقت کے حصے ہیں۔ ہر ایک اس کو بس اتنا جانتا ہے جو اس کی زندگی چلانے میں مدد دے۔ ہر مخلوق کے لئے اس کا ٹکڑا معروضی دنیا ہے۔

تو پھر یہ باہر کی دنیا کیسی لگتی ہے؟ نہ صرف اس میں رنگ نہیں بلکہ آواز بھی نہیں۔ آواز تو بس ہوا کا پھیلنا اور سکڑنا ہے جس کی ایک رینج کو کان پکڑ لیتے ہیں۔ اس میں کوئل کی نغمگی، بادل کی گرج اور بچے کی ہنسی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ باہر کوئی خوشبو بھی نہیں۔ ہوا میں کچھ مالیکیول پھر رہے ہیں۔ یہ ناک تک پہنچتے ہیں تو ہم انہیں بو کے طور پر شناخت کرتے ہے۔

بائیولوجی ایک ٹرانسلیشن کرنے والی مشین ہے۔ اندرونی کانوں کے ہیئر سیلز، زبان پر ذائقے کے بڈ، سونگھنے کے بلب میں مالیکیولر ریسپٹر اور آنکھ کے پیچھے فوٹوریسپٹر، یہ ہمارے پاس ترجمہ کرنے والی کچھ مشینیں ہیں۔ ماحول سے آتے طرح طرح کے سگنل دماغی خلیوں میں الیکٹروکیمیکل سگنل کے طور پر پہنچتے ہیں۔ یہ بیرونی دنیا سے انفارمیشن لینے کا پہلا قدم ہے۔ آنکھیں فوٹونز کو برقی سگنل میں بدلتی ہیں۔ اندرونی کانوں کا مکینزم ہوا کی کثافت سے برقی سگنل بناتا ہے۔ جلد پر ریسپٹر (اور جسم کے اندر بھی) پریشر، کھنچاوٗ، درجہ حرارت اور مضر مادوں سے برقی سگنل بناتے ہیں۔ ناک ہوا میں پھرتے بو والے مالیکیولز سے اور زبان ذائقے کے مالیکولز کو برقی سگنل میں بدلتی ہے۔

ایک شہر جہاں پر ملک ملک سے لوگ آئے ہوں، اس تمام فارن کرنسی کو ایک مشترک کرنسی میں تبدیل ہونا ہوتا ہے تا کہ لین دین ہو سکے۔ یہی دماغ کا حال ہے۔ الیکٹروکیمیکل سگنل یہ کرنسی ہے۔ دماغ بنیادی طور پر ایک کاسموپولیٹن شہر ہے، جو ہر طرف سے آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

بصارت دماغ کے کسی اور حصے میں پراسس ہوتی ہے، سماعت کسی اور میں، خوشبو کہیں اور چھونے کی حس کہیں اور۔ ان سب کو ملا کر دماغ دنیا کی ایک اکٹھی تصویر ایسے بناتا ہے کہ کچھ بھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔ تالی بجاتے ہوئے ہاتھ جیسے ہی ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، ویسے ہی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ کیسے ہوتا ہے؟ نیوروسائنس میں وہ مسئلہ ہے جو ابھی حل نہیں ہوا اور بائنڈنگ پرابلم کہلاتا ہے۔ اگرچہ یہ حل نہیں ہوا لیکن نیورون کی مشترک کرنسی اور ان سب کا آپس میں گہرا ربط اس کے پیچھے ہیں۔

اس سب کی مدد سے ہم اپنے گرد یہ رنگین، خوشبودار، آوازوں بھری دنیا کو محسوس کر رہے ہیں۔ سگنل کے ایک سے دوسری شکل میں بدلنے کو سنسری ٹرانسڈکشن کہا جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *