گھٹیا افسانہ نمبر 11۔۔۔۔فاروق بلوچ

میرے ذہن میں ابھی تک نیاز بھائی کی کہانی گھوم رہی ہے. نیاز بھائی ابھی کنوارے تھے، شاید اٹھارہ انیس سال عمر تھی جب وہ اسلام آباد گئے تھے. بس پھر وہیں کے ہو رہے. مجھے کہتے تھے کہ خوش نصیب ہوں گے وہ لوگ جو جنت میں جائیں گے، لیکن خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اسلام آباد میں رہتے ہیں. آج اُن کا فون آیا، تب سے میں مسلسل اُن ہی کے بارے میں سوچ رہا تھا. سامنے بڑے سارے سائن بورڈ پہ شہر کے ایم این اے اور وزیراعظم   کی تصاویر سجی ہوئی ہیں، یہ شاید شہر میں ہونے والی کسی تقریب کا اشتہار ہے. خیر نیاز بھائی نے اسلام آباد میں جاکر کسی پراپرٹی نیٹ ورک میں ملازم ہو گئے تھے. مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب نیاز بھائی نے چہکتے چہکتے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنا پراپرٹی آفس کھول لیا ہے. میرے لیے نہ صرف خوش کن خبر تھی بلکہ باقی لوگوں کو تو دھچکہ لگا کہ اندھے مولوی کا بیٹا اسلام آباد میں دفتر بھی کھول سکتا ہے جو خود ایک میٹرک پاس چھوکرا ہے. میں اُس کو ملنے اُس کے دفتر گیا. وہ بہت خوش تھا. کہہ رہا تھا کہ کہیں سے کوئی ایف ایکس یا مہران کر لی تو بس پھر مزے ہیں. میں نیاز بھائی کی شادی پہ گیا تھا. مزہ اُس دن آیا جب اُس نے بتایا کہ مہران ڈھونڈنے کے چکر میں ہنڈا سیوک کا دس ماڈل وارے کا مل رہا تھا لے لیا ہے. اگلے دن پھر کال کر کے بتایا کہ مجھے ساری رات خوشی سے نیند نہیں آئی.
آج دن کو فون کرکے ساری بات تفصیل سے سنائی. انہوں نے بتایا کہ ایک کارنر کا پلاٹ جس کو فرنٹ پہ مشہور چوک لگتی ہے. تین اطراف میں بازار ہے. وہ پلاٹ ہم لوگ بڑے عرصے سے خریدنے کی کوشش میں تھے. بہت کمال کی لوکیش ہے. خیر تین ماہ قبل وہ بندہ تین سال کی کوششوں کے بعد پلاٹ بیچنے پہ راضی ہو گیا. ہم تین پارٹنر کے پاس اتنے پیسے دستیاب نہ تھے کہ ہم فوری پلاٹ خرید لیتے. خیر نیاز بھائی نے بیوی کے زیور، اپنا ذاتی چھ مرلے کا گھر اور ہنڈا کار بیچ دی. جو رقم دستیاب تھی وہ بھی شامل کرکے کپڑے جھاڑ کر اللہ اللہ کرتے وہ پلاٹ خرید لیا. باقی پارٹنر بھی میری ہی طرح کے ہیں. انہوں نے بھی مشکلوں اور دوڑ دھوپ کے بعد پیسے ارینج کر لیے. ہم نے اُس پلاٹ پہ دونوں دوکانیں گرا دیں. پلاٹ پہ ہی قرضہ لیکر پارکنگ ہاؤس تعمیر کر دیا. یہ سارا کام ہم نے مکمل پلاننگ کرکے بہت ہوشیاری سے اور برق رفتاری سے کیا. بھائی کام تو چل نکلا. ہم تو یہ سوچ رہے کہ جو کچھ بیچا ہے یہ سب ڈیڑھ دو سال بعد ہم اپنی سرمایہ کاری واپس نکال لیں گے. لیکن ابھی کَل سرکاری لیٹر مِلا ہے کہ یہ پلاٹ ناجائز تجاوزات میں آ رہا ہے لہذا پرسوں ہمارا پلازہ گرایا جا رہا ہے. میں تب سے مسلسل سوچ رہا ہوں کہ نیاز بھائی کے دل پہ نجانے کیا گزر رہی ہو گی. اپنی ساری زندگی کی کمائی بےبسی سے ہاتھوں سے نکلتے ہوئے دیکھنا کیسا دردناک احساس ہو گا. اندھے مولوی کا بیٹا کیسے کیسے سفر کرتا ہوں دوبارہ وہیں آن رُکا ہے جہاں سے سفر شروع کیا تھا.
“ایسے کیسے ممکن ہے، دلے کا بچہ کھاتا میرا ہے ملتا کسی دوسرے کو ہے، آنتیں نہ باہر نکال لوں گا”
“لیکن وہ گیا کیوں؟”
“کتے کا بچہ لالچی تو ہے ہی” میں جواب دیکر گاڑی کو نازی کے گھر والی گلی میں موڑ دیا ہے. نازی کے گھر کے باہر جبران، عاطف، جوجی، تاری، ملنگی اور مجید بھی کھڑے ہیں جو ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے ہیں. جوجی نے دیوار پھلانگ کر گیٹ کھولا تو ہم سارے اندر آ چکے ہیں. جوجی گیٹ بند کر رہا ہے اور میں نے پینٹ سے اپنی بیلٹ نکالنا شروع کر دی ہے. منہ سے جھاگ کے ساتھ گالیوں کا انبار نکل رہا ہے اور نازی کی چیخوں سے کمرہ گونج اٹھا ہے. کتے کے بچے کی جرات کیسے ہوئی ہے.
“کیوں مار رہے ہو. خان بتاؤ تو  سہی ” بس بار بار نازی کے منہ سے یہی نکل رہا ہے.
“سالے حرامی کھسرے تو نے تو کہا کہ گرو بیمار ہے اُس کے پاس جا رہی ہوں، مگر تم کتے کے بچے ہو، نصیر سے کتنے پیسے لیے تھے”. میرا غصہ پھر جاگ اٹھا ہے. حرامی کا بچہ ماہانہ خرچہ مجھ سے لیتا ہے. مکان کا کرایہ اور بجلی کا بل میں دیتا ہوں. وقت نصیر ملک کے ساتھ گزارتا ہے. چمڑی ادھیڑ دوں گا اس کی. قمیض پھٹ چکی ہے. میرے اپنے ہاتھ درد کر رہے ہیں مگر میرا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا. گھونسے، تھپڑ، لاتیں اور بیلٹ کی مار کھا کھا کر نازی لہولہان ہے. ناک منہ سے بھی خون نکل رہا ہے. جوجی کی آخری لات سالے کو صحیح جگہ پہ لگی ہے. اَدھ موا ہو کر پڑا ہوا ہے. دل کرتا ہے اِس کی آنتیں نکال کر کتوں کو ڈال دوں. کھوتی کا بچہ ہیجڑا. مکان کوئی کرائے پہ نہیں دیتا تھا. سارا دن ٹکے ٹکے کے بندوں کے آگے کپڑے اتارتا تھا. میں نے آرام سے گھر لے دیا. عزت کی روٹی دی، مگر حرامی ہے جو کھسرا، اپنی اوقات دیکھا دی ناں.
رضیہ اور رقیہ دو عورتیں ہیں. دونوں ایک ہی محلے کی ایک ہی گلی میں پیدا ہوئی ہیں. دونوں کے ناک ستواں ہیں اور دونوں کے ہونٹ مِیر کی گلابی پنکھڑیوں جیسے ہیں. رضیہ بائیس اکتوبر جبکہ رقیہ انیس نومبر کو پیدا ہوئی تھیں. جب جب یہ دونوں محلے میں باہر کھیلنے کے لیے نکلتیں تو چند فرق چھوڑ کر ایک جیسی ہی لگتی ہیں. بچپن میں تو نئے دیکھنے والے لوگ اِن کو بہنیں سمجھتے تھے. خدا کا کرنا دیکھیں دونوں کے بائیں ہاتھوں میں چھ چھ انگلیاں ہیں. رضیہ کا باپ دھوبی گھاٹ سے ملحقہ غلہ منڈی میں پرانی آڑھت چلاتا ہے. ماہانہ اخراجات آسانی سے حاصل ہو جاتے ہیں. ایک کلٹس کار جس کا ماڈل تقریباً ہر دوسرے سال تبدیل ہو جاتا ہے. کروڑوں کا کاروبار مسلسل اچھے سے چل رہا ہے. جب رضیہ سکول جانے کے قابل ہوئی تو کیمبرج کے کورس والے سکول میں داخل ہوئی. اے او لیول کی تعلیم پانے کے بعد سیلز اینڈ مارکیٹنگ میں گریجویشن اور بعد میں پاکستان کی مشہور سرکاری جامعہ سے ہیومن ریسورس میں ایم بی اے کیا. آج رضیہ ملک کے مقبول ترین نجی بینک میں ایچ آر مینیجر کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہی ہے. جس دن رضیہ کی نوکری کا بلاوا آیا تو باپ نے نوکری جائن نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کہ کیا اٹھارہ بیس ہزار کے لیے صبح آٹھ سے لیکر شام آٹھ بجے تک گھر سے باہر مزدوری کہ کیا ضرورت ہے. رضیہ نے اُس وقت بجا طور پہ کہا تھا کہ میں اِس بینک تنخواہ کے لیے نوکری نہیں کر رہی. سی وی میں اچھے ادارے کا ٹھپہ مجھے آگے بڑھ کر اپنا لوہا منوانے کی موقع فراہم کر رہا ہے. رضیہ کے دلائل اور اُس کا انداز واقعی جامع اور متاثر کن ہوتا ہے. شاید محلے کا کوئی ایسا ہو گا جو رضیہ کی متانت اور ذہانت کا دم نہ بھرتا ہو.
رقیہ کا باپ محلے کے سکول میں اکاؤنٹنٹ ہے. بچوں کی تعلیم تربیت کو اولین ترجیح دینے والا افضل رات کو ایک ہوٹل کے اکاؤنٹ کو بھی سنبھالا دیتا ہے. رضیہ اُسی محلے کے سکول سے میٹرک کے بعد ایف ایس سی کے لیے کالج جانا چاہتی تھی. کالج قدرے اچھے خاصے فاصلے پہ تھا جس کی وجہ سے روزانہ ڈیڑھ گھنٹہ کا سفر کرنا بھی رضیہ کے لیے ڈراونا نہیں تھا. مگر بابا کا مشورہ یہی تھا کہ فاصلاتی نظام تعلیم سے فائدہ اٹھایا جائے. رضیہ اب شماریات میں ماسٹر کرنے کے بعد وہیں محلے کے سکول میں پڑھا رہی ہے. آج ناصر صاحب کی بیٹی کی شادی ہے. رضیہ اور رقیہ کوئی چھ ماہ بعد ملی ہیں. ایک ہی گلی میں رہنے کے باوجود اپنی اپنی مصروفیات میں گم دو لڑکیاں اکٹھی ہوئی ہیں. عندلیب ابھی آکر دونوں سے گلے ملی ہے. رضیہ سے کہنے لگی کہ میرے بھائی کی بینک گارنٹی جلد از جلد بنوا دو ہمیں اشد ضرورت ہے. اور اُس کی شادی پہ آنے کے لیے بار بار اُس کو کہہ رہی ہے. پھر کہنے لگی کہ اُس کو وقت نہیں ملا ورنہ اسے بھی رضیہ کا پہنا ہوا ایمبرائیڈڈ سوٹ پسند آیا تھا. خیر یہ لباس ہے بھی ایسا کہ دلکشی کی حدود پامال ہوئی جاتی ہیں. عندلیب اٹھ کر گئی اور پلٹ آئی. رقیہ سے کہنے لگی وہ اُس کے بھتیجوں پہ توجہ نہیں دے رہی ہے. گھر میں جب بیس بیس بچوں کو بیک وقت ٹیوشن پڑھاؤ گی تو یہی حال ہونا ہے. کم از کم ہمسایوں کے ساتھ تو کاروباری استانی نہ بنو. رضیہ سے کہنے لگی کہ رقیہ کو کچھ سمجھاؤ، بچوں کی پڑھائی پہ توجہ دے. مجھے بڑے بھائی نے کہا بھی کہ رقیہ کے بس کی بات نہیں ہے استانی تبدیل کرو، مگر قسم سے مجھے ہمسائیگی کا خیال آتا ہے، لحاظ آتا ہے.
رقیہ نے سوچا کیوں نہ ایک کوشش کر دیکھوں. مگر یہ قصہ ہے تو بہت طویل اور بہت اعصاب شکن ہے. مگر ساجد بضد ہے کہ تمہارے پاس وقت بھی ہے اور موقع بھی ہے. رقیہ بھی سوچ رہی ہے کہ کسی کسی خوش نصیب کو ایسا خاوند میسر آتا ہے جو خود سے اپنی بیوی کو مقابلے کے امتحان کی تیاری پہ اکسا رہا ہے. وقت گزرنے اور بدلنے میں دیر نہیں لگتی. رقیہ آج فارن آفس میں سی ایس پی گروپ کی نمائندگی کرتے ہوئے ازبکستان میں پاکستانی سفارت خانے سے منسلک ہے. پچھلے ہفتے وہ گھر والوں سے ملنے محلے میں آئی تو ناصر صاحب کی بیوی کا انتقال ہو گیا. رقیہ بھی آئی ہوئی تھی، سوچا ہو گا کہ منہ دکھا آؤں. رضیہ سے بھی بہت عرصہ بعد ملاقات ہو گئی. وہیں عندلیب بھی آ گئی. رقیہ سے بہت ادب سے ملی، تھوڑا سا فاصلے پہ بیٹھ گئی. فوتگی والے گھر میں بیٹھے اب کیا باتیں ہو سکتی ہیں. عندلیب رقیہ کے پیچھے پیچھے چل پڑی، اُن کے گھر آ کر کہنے لگی کہ اُس کے بڑے بھائی جان نے ابھی بلدیاتی الیکشن میں بطور یونین ناظم کامیابی حاصل کی ہے. وہ آپ سے ملنا چاہتے تھے، مجھے سپیشل ذمے لگایا ہے کہ آپ سے وقت لیکر بتاؤں. رقیہ نے پوچھا کہ آپ کے یہ بھائی وہی والے ہیں جنکے بیٹے عمر اور یسین میرے پاس ٹیوشن پڑھتے تھے. اب کیا کر رہے ہیں وہ دونوں؟ عندلیب نے بتایا کہ ایک کی پولیس میں کانسٹیبل کی نوکری ہے اور دوسرا وکالت کے پہلے سال میں کلاسسز لے رہا ہے. رقیہ نے کہا کہ اپنے بھائی سے کہنا جمعرات مجھے اسلام آباد میرے دفتر میں ہی آ کر مل لیں.

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *