• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • میاں صاحب اور مشرف کے درمیان تنازعہ کی اصل وجہ۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

میاں صاحب اور مشرف کے درمیان تنازعہ کی اصل وجہ۔۔۔۔عبدالحنان ارشد

جب جنرل آصف نواز کو گھر بھیج کر نئے آرمی چیف کا انتخاب کرنا تھا تو تین نام جو زیرِ غور تھے۔۔۔۔

1 جنرل علی قلی خان

2 جنرل خالد نواز خان

3- پرویز مشرف

آرمی چیف بننا جنرل علی قلی خان کا استحقاق تھا۔ لیکن اُس وقت کے سکیورٹی    دفاع افتخار علی خان اور ان کے بھائی (سابقہ وزیرِ داخلہ) نثار علی خان کا جنرل علی قلی خان سے کوئی ذاتی جھگڑا تھا۔ ان دونوں بھائیوں نے میاں صاحب کو ڈکٹیٹ کیا کہ علی قلی خان مخالف جماعت کا بندہ ہے میاں صاحب آپ کے مخالفین کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ اس لیے علی قلی خان کو آرمی چیف بنانا آپ کے لیے مناسب نہیں ہوگا۔

پھر بھولے میاں صاحب نے راجپوتوں کے بالوں کی باتوں میں آ کر علی قلی خان اور جنرل شمیم کو نظرانداز کرتے ہوئے ہمارے کمانڈو “جو کہ  ڈرتے ورتے کسی سے نہیں تھے” انہیں آرمی چیف مقرر کردیا۔ اور میاں صاحب کو خیال تھا میرا لایا ہوا آرمی چیف، صرف بیرونی ممالک سے آئے ہوئے سربراہان مملکت کو ہی سیلوٹ مارنے میں فخر محسوس نہیں کیا کرے گا۔ اور جنرل آصف نواز کی طرح مجھے سلیوٹ مارنے سے بچنے کے لیے اپنی ٹوپی اندر ہی نہیں چھوڑ کر آیا کرے گا۔

اور راجپوتوں کے سپوت کی ہدایت پر جو آرمی چیف لگایا تھا کہ ہمارا کمانڈو میاں صاحب کے لیے مسائل  پیدا نہیں کرے گا۔ اسی جنرل مشرف نے میاں صاحب کو مسائل سے نکلنے کا موقع نہیں دیا۔ میاں صاحب حکومت سے نکل گئے، ملک سے نکل گئے، لیکن مسائل سے نہ نکلے۔ شاید اسی کے لیے کہا گیا ہے “ماروں آنکھ پھوٹے گھٹنا”۔

بعد میں میاں صاحب مانے بھی علی قلی میں کوئی خامی نہیں تھی اور نہ ہی وہ کسی جماعت کا بندہ تھا بلکہ انہیں غلط  گا ئیڈ کیا گیا۔

تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں میاں صاحب پر جب جب برا وقت آیا ہے وہ چوہدری نثار علی خان کی مرہونِ منت ہی آیا تھا۔ شاید پرانے لوگ چوہدری نثار کے لیے ہی کہہ گئے ہیں ۔

ہوئے دوست تم جس کے

دشمن اس کا  آسماں  کیو ں ہو  !

میاں صاحب نے سینئر   کو چھوڑ کر جس جونئیر کو آرمی چیف کے عہدہ پر براجمان ہونے کا موقع دیا تھا۔ اس آرمی چیف نے میاں صاحب کی دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود ان کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا۔کبھی جب کشمیر کا مسئلہ بھارت میز پر حل کرنے کی طرف آ رہا تھا، وزیراعظم سے پوچھے یا بتائے بغیر چار کے سوا کسی بھی کور کمانڈر کو اعتماد میں لیے بغیر ہی کارگل کا محاذ چھیڑ دیا۔ جس میں پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہونے کے  ساتھ ساتھ 2700 جوان شہید کروا دئیے گئے، اور آدھی پاکستانی چوکیوں پر بھارت اپنا جھنڈا لہرا گیا۔ سپلائی لائن کٹ گئی اور فوجی جوان بنکروں میں بند برف اور گھاس کھا کر کہتے تھے “کھانا بیشک نہ دو لیکن ہمیں لڑنے کے لیے ہتھیار تو دو”۔

جب کارگل کا اونٹ کسی سمت بیٹھا تو چوہدری نثار صاحب کے بنائے  گئے چیف نے میاں صاحب کو ایک اور امتحان میں ڈال دیا۔ فوج میں ہر جگہ یہ اعلان کیا جاتا ہم تو کشمیر لینے چلے تھے میاں صاحب نے فوجیں بلا کر کارگل بھی ہروا دیا۔ ابھی یہ مسئلہ کسی منطقی  انجام تک نہ  پہنچا تھا کہ ISPR کی جانب سے شوشہ چھوڑ دیا گیا۔

کور کمانڈر کوئٹہ کو وزیراعظم سے ملاقات کرنے پر برطرف کیا گیا ہے۔ جب وزیراعظم صاحب نے اس کی تردید مانگی تو تین دن تک آئیں بائیں شائیں ہوتا رہا۔ وزیراعظم کو اپنی تضحیک محسوس ہوئی تو سوچا اب چوہدری نثار کے بتائے بندے نے مشکلات سلجھانے کی بجائے بڑھانے کی طرف اپنا رخ کیا ہوا ہے۔ اور اس سے واپسی کا بھی کوئی راستہ نظر نہیں آیا اور پانی سر سے اوپر گزر گیا۔ تو ISI چیف جنرل ضیاالدین کو آرمی چیف بنا ڈالا۔ کہ ISI بھی کنڑول میں رہے گی اور آرمی چیف بھی نیچے لگ کے رہے گا۔ لیکن تب تک بہت کچھ ہو چکا تھا۔ 111برگیڈ کا اسلام آباد میں کمانڈر تبدیل ہو چکا تھا۔ وزیراعظم ہاؤس کی ریکی  شروع ہو چکی تھی۔ نواز شریف پر طیارہ سازش کیس لگ کر 300 بندوں کے قتل کا مقدمہ درج ہونا اور جج پر پھانسی کے لیے زور پڑنا رہ گیا تھا۔

عبدالحنان ارشد
عبدالحنان ارشد
عبدالحنان نے فاسٹ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ملک کے چند نامور ادیبوں و صحافیوں کے انٹرویوز کر چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ سو لفظوں کی 100 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *