چھال کی ڈھال ۔ ایلین کی آمد۔۔۔۔۔۔۔۔وہارا امباکر

اس جگہ پر قبیلے آباد تھے اور قومیں۔ آپس میں اتحاد، جنگیں، قتل، محبت، انتقام، دکھ، آرٹ، تجارت۔ غرض وہ جو انسان کرتے آئے تھے۔ پچاس ہزار سال سے اس زمین پر آباد لوگ اس زمین پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ پھر دور افق سے “وہ” آ گئے۔ ایسی سواریوں پر جنہیں انہوں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ایسی زبان بولنے والے جسے کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔ یہ بے ضرر نہیں تھے۔ دیکھنے میں انسان لگتے تھے لیکن پیلی پڑی ہوئی بے رنگ سی جلد۔ 29 اپریل 1770 کو آنے والے یہ لوگ زیادہ دیر نہیں رہے۔ جیسے کوئی سراب ہو۔ لیکن یہ اصل تھے۔ ان کا آنا اس پچاس ہزار سال سے بسی دنیا کے مکینوں کے لئے ایک خوفناک خبر تھی۔ یہ ان پرانے مکینوں کے اختتام کا آغاز تھا۔ پھر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ کبھی بھی پہلے جیسا نہیں رہا کیونکہ ایلین پہنچ گئے تھے، جنہوں نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ یہ کہانی چھال سے بنی ڈھال کی ہے، جس کی بازگشت عالمی سیاست پر ابھی بھی باقی ہے۔ یہ کیپٹن کُک کی آسٹریلیا پہنچنے کی کہانی ہے۔

سڈنی سے جنوب میں بوٹنی بے کے مقام پر آج سے ڈھائی سو سال پہلے کیپٹن کُک کا جہاز اتوار کی دوپہر کے صاف موسم میں لنگرانداز ہوا۔ کیپٹن کُک کی کتاب میں یہ لکھا ہے۔
“مجھے کچھ جھونپڑیاں اور کچھ مقامی لوگ نظر آئے۔ جب ہم ساحل کے قریب گئے تو وہ بھاگ گئے۔ لیکن دو لوگ وہاں پر کھڑے رہے۔ وہ ہمیں یہاں پہنچنے سے روکنا چاہتے تھے۔ میں نے ملاحوں کو کہا کہ چپو روک دیں۔ ہمیں ان سے بات کرنی ہے۔ لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ نہ وہ ہمارا ایک بھی لفظ سمجھ سکتے تھے، نہ ہم ان کا۔ مجھے پہلے لگا کہ وہ ہمیں بلا رہے ہوں، لیکن میں غلط تھا۔ وہ جارحانہ موڈ میں تھے۔ میں نے ہوائی فائر کیا لیکن ان پر اثر نہ ہوا۔ وہ اپنے ہتھیار لے آئے۔ ان میں سے ایک نے پتھر اٹھا کر ہماری طرف پھینکے۔ پھر تیر چلانے شروع کر دئے۔ اب میں نے ان کی طرف گولی چلائی جو ایک کی ٹانگ پر لگی۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں پکڑی ڈھال نیچے گر گئی، وہ ہم نے اٹھا لی۔”

یہ چھال سے بنی ڈھال اب لندن کے میوزیم میں ہے۔ سڈنی مقامی آبادی کے لئے خوشحالی کا شہر تھا۔ مچھلیاں وافر تھیں۔ موسم اچھا تھا۔ زندگی آسان تھی۔ ان کی آپس میں ہونے والی جنگوں کی کہانی ان کے ہتھیاروں سے ملتی ہے۔ یہ ہتھیار جو آپس میں جنگوں کے لئے استعمال ہوتے تھے۔ جو ڈھال سب سے پہلے روز ملی، وہ بھی ایک نیزے سے زخمی تھی یعنی لڑائی میں اس کے استعمال کے نشان تھے۔

کک کو مقامی رسم و رواج کا علم نہ تھا۔ کسی بھی یورپی کو نہ ہوتا۔ اس پہلی ملاقات میں ایک دوسرے کو سمجھنے میں غلطی کا امکان بہت زیادہ تھا۔ دونوں اطراف ایک دوسرے کو قتل نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ مقامی لوگ جن کی زندگی کا انحصار اچھے نشانے پر تھا، ان کے پھینکے گئی تیر اور پتھر نشانے پر نہیں لگے تھے۔ یہ صرف وارننگ کے لئے پھینکے گئے تھے۔ ان اجنبیوں کو پیغام دینے کے لئے کہ ان کو تنہا چھوڑ دیں اور چلے جائیں۔ کُک کو زہریلے تیروں کا خطرہ تھا جس وجہ سے گولی چلائی تھی۔

اس سے پہلے کک نے بحرالکاہل کے جزائر پر یہ سیکھا تھا کہ تجارت دوستی کا تعلق بنانے کا آسان طریقہ ہے۔ اور یہ سمجھنے کا کہ مقامی معاشرہ کیسے کام کرتا ہے لیکن یہاں پر لوگوں کو اس سے دلچسپی نہ تھی۔ بچوں کے کھلونے ان کے گھروں کے پاس رکھے، ان کو ہاتھ پورا دن کسی نے ہاتھ نہیں لگایا گیا۔ وہ لوگ ان سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایسا نہیں کہ یہاں رہنے والے تجارت نہیں کرتے تھے۔ تصویر میں لگی ڈھال جس لکڑی سے بنی ہے، وہ سڈنی سے 320 میل دور کے علاقے میں اگنے والے درخت سے آئی تھی۔

کک نے ان سے تعلق بنانے کی امید چھوڑ دی۔ اگلے ایک ہفتے میں کچھ پودے اکٹھے کئے اور آگے بڑھ گئے۔ آسٹریلیا کے شمال میں پہنچ کر اس پر برطانیہ کا جھنڈا گاڑ دیا۔ اس کا نام نیو ساوٗتھ ویلز رکھا (یہ ویلز کے نام پر رکھا گیا)۔ اور اس زمین پر شاہ جارج سوئم کے نام پر کر لیا گیا۔

برطانیہ واپس پہنچ کر بینکس اور دوسروں نے بوٹنی بے کو برطانوی سلطنت کا باقاعدہ حصہ بنانے کی سفارش کی جسے پارلیمنٹ نے منظور کر لیا۔ ان مقامی لوگوں کا خوف درست نکلا۔ ان اجنبی ایلینز کے ہاتھوں یہاں بسنے والی تہذیبوں اور معاشروں کا صفایا ہو گیا۔

کک کو بہت عرصے تک آسٹریلیا میں founding father کی حیثیت حاصل رہی۔ 1970s میں ایب اوریجنل آسٹریلویوں کے احتجاج پر یہ سرکاری حیثیت ختم ہو گئی۔

چھال کی یہ ڈھال آسٹریلیا کے بڑے سوالوں میں سے ہے جو آج بھی جاری ہیں۔ کیا تاریخ بدلی جا سکتی ہے؟ نہیں۔ لیکن اس تاریخ کی یاد بدلی جا سکتی ہے۔ جب یہاں پر رہنے والوں اور ان یورپ سے آنے والے ایلینز کی آپس میں ڈھائی سو سال قبل پہلی ملاقات ہوئی، تو دونوں ایک دوسرے کی بات نہیں سمجھ سکے تھے۔ یہ ڈھال ایک نڈر نوجوان کی کوشش تھی۔ وہ اپنی تہذیب کو ان نوواردوں سے محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے لئے محض جذبہ کافی نہ تھا۔

دور افق سے آنے والے نووارد، جن کا ہمیں علم نہیں۔ اگر آ گئے تو ہماری تہذیب کو ہی مٹا دیں، یہ بہت سی علاقوں میں بہت سی لوک کہانیوں میں ہمیں نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہ اصل رہا ہے۔ ایسی کہانی تاریخ میں دہرائی جاتی رہی ہے، بار بار دہرائی جاتی رہی ہے۔ ایشیا میں، یورپ میں، افریقہ میں، آسٹریلیا میں اور امریکا میں۔ بہتر سواریوں، بہتر ہتھیاروں اور بہتر ٹیکنالوجی سے لیس ایلین کبھی خشکی کے راستے آئے، کبھی پانی سے۔ کبھی یہ کسی علاقے کے تھے، کبھی کسی اور کے۔ جب یہ ایک بار آ گئے تو پھر کچھ بھی پہلے جیسا نہ رہا۔ یہ چھال کی ڈھال ڈھائی سو سال پہلے ہونے والے ایسے ہی ٹکراوٗ کی ایک یادگار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *