پیارے خدا وند،بندہ بن جا

جون ایلیاء جب بھی کبھی امروہہ کا تذکرہ کرتے تو آبدیدہ ہو جایا کرتے تھے اور اس عہد کو ہمیشہ ’غیر منقسم ہندوستان کا عہد کہتے تھے۔ اس رات بھی ہم تلخی ء مئے میں تلخیء دل گھولے رات گئے تک امروہہ اور خانیوال کو یاد کرتے رہے تھے۔ خصوصاً ایک صاحب کے فقرے سے تو خوب لطف اندوز ہوئے۔ وہ فقرہ یہ تھا کہ ’پیارے خداوند،بندہ بن جا‘۔

خیر،ابھی بوجھل پلکوں پر نیند کی بھول بھلیاں بھی مکمل ظاہر نہیں ہوئی تھیں کہ بوسیدہ چوبی دروازے پر دستک ہوئی۔ یہ ذرا غیر معمولی اس لیے لگا کہ رات کے بیچوں بیچ کا پہر تھا اور کمرے سے باہر لاہور کی نئے سال کی سرد مہر ہوا کی سرسراہٹ میں کسی درِغریب پر دستک دینا صرف ہنگامی حالات ہی میں ممکن تھا اور حالات واقعی ہنگامی نکلے۔ خانیوال سے چھوٹی بہن کا فون تھا، جس نے بتایا کہ ہمارے گھر کو مشتعل ملاؤں نے گھیر لیا ہے۔ اہلِ محلہ مزاحمت کے ساتھ ساتھ ملاؤں سے مذاکرات بھی کر رہے ہیں اور گھر میں کوئی ’مرد‘ موجود نہیں تھا۔ یعنی والدِ محترم بھی لاہور آئے ہوئے تھے۔

صورتحال کی سنگینی کا تخمینہ لگاتے ہوئے، میں نے سفر کے لیے ریل گاڑی کا انتخاب کیا اور نکلتے ہوئے دوست کو ہدایت کی کہ صبح ہوتے ہی جون صاحب کو بحفاظت منور سعید صاحب کے ہاں چھوڑ آیئے گا۔ یادش بخیر، یہ یکم فروری سن انیس سو چھیانوے کے ایک طویل دن کا اغاز تھا، اتنا طویل دن کہ آج تک ڈھل نہیں پایا۔

ریل گاڑی کی رفتار ہمیں کچھ زیادہ ہی کم لگ رہی تھی۔ پیرووال کے اسٹیشن سے پہلے ریل کو روک دیا گیا کہ آگے مشتعل مسلمان مظاہرین ریل کی پٹڑی اکھاڑ کر اپنے سچے عاشقِ رسولؐ ہونے کا ثبوت اہلِ عالم کو دے چکے تھے اور ریاست حسبِ سابق بے بس تھی۔ ریل کے ایک اسپیشل ٹکٹ ایگزامنر نے ہمیں پہچان لیا اور ایک نسبتاً غیر آباد کونے میں ہمیں لیجا کر جنگ اخبار دکھایا، جس کی شہہ سرخی میں ان حالات کو ’مسیحی مسلم فساد‘ بتلایا گیا تھا جو میرے وہم و گمان سے اس لیے باہر تھا کہ ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی تو میں جون ایلیا صاحب سے تذکرہ کر رہا تھا کہ ہمارا خانیوال مذہبی تعصبات سے پاک ایک ایسا پر امن شہر ہے جہاں ہم چاروں قریبی دوست مختلف بلکہ مخالف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ شیخ مشہود احمدی ہیں، مسرور احمد خان بختیاری شیعہ ہیں، شفیق اللہ خان سنی ہیں اور میں مسیحی اور ہمارے مابین مذہب کو لے کر کبھی کوئی بحث مباحثہ نہیں ہوا۔

مسلمان ایس ٹی ای صاحب نے ہمیں ریل سے اتارا اور ایک موٹر سائیکل سوار مسلمان کے ساتھ روانہ کر دیا۔ راستے میں جگہ جگہ لگی ہوئی آگ دیکھ کر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ شخص جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھے مجھ مسیحی کو گھر چھوڑنے جا رہا ہے یہ سچا عاشقِ رسولؐ ہے یا وہ جو جگہ جگہ مسیحیوں کی املاک کو جلا جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا رہے ہیں۔ اتنے برس بیت گئے، کئی کتابیں کھنگال ڈالیں، کئی خبریں تازہ کیں، مگر یہ معمہ ہم آج تک حل نہیں کر پائے۔ اس ضمن میں ہماری جہالت آج بھی ویسی ہی مستحکم ہے۔

سول لائنز پہنچے تو گھر کو فوج نے ایسے گھیر رکھا تھا گویا والد صاحب خدا نخواستہ یہاں وزیرِاعظم رہ چکے ہیں۔ صد شکر کہ ان کا تعلق ٹرپل ون بریگیڈ سے نہ نکلا اور وہاں متعین فوجی افسر کو جلد ہی یقین آگیا کہ ہم اسی گھر کے باسی ہیں، جس کی حفاظت وہ سینہ اور بندوق تانے فرما رہے ہیں۔ ہمارے سرگشتہِ خمارِ رسوم وقیود اہلِ خانہ کو ہم سے مل کر بے حد اطمینان ہوا کہ چلیے اب گھر میں ’مرد‘ آ گیا ہے۔ تاہم میں یہ بات جانتا تھا کہ مرد بھی اگر مشتعل مظاہرین کے ہتھے چڑھ جائے تو اسے بھی درد ہوتا ہے اور کئی دنوں تک ہوتا رہتا ہے۔

اہلِ خانہ کے لفظی امام ضامن، جو مذہبی حوالے سے تو مسیحی امام ضامن تھے مگر ثقافتی حوالے سے راجپوت، انہیں اپنے دل سے باندھے شانتی نگر پہنچا۔ لیکن کیسی شانتی اور کیسا نگر۔۔۔۔۔ ایک راکھ کا ڈھیر تھا، جس کی تپش آنسوؤں سے کسی طور کم ہونے میں نہ آتی تھی۔ گِردوپیش کے گاؤں سے آئے ہوئے نچلے طبقے کے مسلمان کسان اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو جلتے ہوئے گھروں سے باہر نکال رہے تھے۔ گاؤں سے باہر کچھ ہی فاصلے پر مذہبی منافرت کا دیو “اللہ ہو اکبر” کے نعرے بلند کرتا ہوا منہ سے شعلے برسا رہا تھا اور میرے ذہن میں وہی سوال پھن پھیلائے کھڑا تھا کہ ان میں سے شاتمِ رسولؐ کون ہے؟ یہ نچلے طبقے کے مسلمان کسان یا نعرۂ تکبیر اور نعرۂ رسالتؐ بلند کرتا ہوا کئی ہاتھوں والا، منہ سے آگ برساتا یہ انسانوں کا عفریت؟؟

ساتھی صحافیوں نے مطلع کیا کہ صرف شانتی نگر نہیں بلکہ خانیوال شہر کے تمام گرجا گھر، مسیحی بستیاں، ارد گرد کے گاؤں اور آبادیاں۔۔۔۔ سب کو منافرت کا عفریت نگل چکا ہے۔ مگر کیوں؟ اس کا اندازہ لگانے کے لیے مجھے ایک کیمرہ درکار تھا۔ میں کیمرے کے حصول کے لیے محمد ندیم اقبال کے ہاں پہنچا۔ محمد ندیم اقبال مجھ سے آنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا۔ میرے لڑکپن کا دوست اپنے ہم مذہب ساتھیوں کے منافرت پر مبنی رویے کے باعث بے حد شرمندہ تھا اور فقط ندیم اقبال کیا، سب مسلمان دوست اپنے مسلمان ہونے کی شرمندگی کو طرح طرح کے کھسیانے بیانوں سے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے جس سے میں خود پانی پانی ہوا جا رہا تھا کہ جانتا تھا کہ وہ اس گھناؤنے گھیراؤ جلاؤ کے حصہ دار کب تھے؟ وہ تو صرف مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے کے باعث مسلمان شناخت رکھتے تھے، جیسے میں ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے مسیحی کہلاتا تھا۔ پھر بھی مجھے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ اس واقعے کے بعد میرے بے تکلف دوستوں نے مجھے ’چوڑھا‘ کہنا چھوڑ دیا تھا۔

عزیز الرحمان ڈوگر کوئی معمولی ایس ایچ او نہیں تھے۔ خانیوال میں ان کی حیثیت ایک پنجابی دیو مالائی کردار کی سی تھی۔ پنجابی دیو مالائی کردار۔۔۔ یہ کیسا ہوتا ہے؟ عہدِ ضیاع میں (کہ مشتاق احمد یوسفی نے اس “عہدِ زیاں” کو ایسا ہی لکھا ہے اور با لکل درست لکھا ہے) ہمارے فلمی کردار بھی کلاشنکوف کلچر کی نمائندگی کرنے لگے تھے۔ اس عہد کے ہیرو نے غیرت کے نام پر اتنے قتل کیے کہ تب اگر سوشل میڈیا ہوتا تو ’اچھو302 ‘کے علاوہ کوئی اور موضوع زیرِبحث نہ آ پاتا۔ ڈوگر صاحب کی وجہِ شہرت ہمیں یہ بتلائی گئی کہ حضرت نے کسی آنے والے چیف منسٹر کے لیے پہلے جہاں گیر ملوکہ سے ’حاضر سروس‘ چیف منسٹر مروایا اور پھر جہاں گیر ملوکہ کو بذاتِ خود پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا۔ وہ حاضر سروس چیف منسٹر غلام حیدر وائیں تھے۔
ہمارے ایک جاگیردار دوست کو ان کی یہ ادا اس حد تک بھائی کہ ڈوگر سے ملاقات سے پہلے تو وہ اپنے ذوقِ رندانہ کی تسکین ہمارے غریب خانے پر ہی کر لیا کرتے تھے مگراچانک غائب ہوئے تو پتہ چلا کہ اب وہ عزیز الرحمان ڈوگر کے ساتھ تھانہ صدر میں شوق فرماتے ہیں جو ان کے لیے خاصا باعثِ فخر ہے۔ راوی نے تو اس حد تک بھی کہا کہ خاندانی ٹاؤٹ ہیں، ان کے لیے تھانہ صدر میں ڈوگر کی صحبت میں ہی پینا بہتر ہے کہ یہ ان کے لیے معاشی فائدہ بھی ہے اور سماجی رتبہ بھی۔ دروغ بہ گردنِ راوی ایک قومی اخبار کے نمائندے نے بتایا کہ تھانہ صدر ڈوگر کے آنے کے بعد بدمعاشی کا اڈہ بن گیا تھا۔ جہاں نور نبی اور رانا رمضان نام کے دو اہلکار ڈوگر کے دستِ راست تھے۔ رانا رمضان کو اس کے فنِ تشدد کے پیشِ نظر عرفِ عام میں ’رانا دھوڑ پٹ‘ کہا جاتا تھا۔

جبکہ بابا راجی ایک عام تانگہ بان تھا۔ وہ مذہب کا مسیحی تھا اور کہا جاتا ہے کہ شانتی نگر سے ڈوگر پارٹی کے لیے شراب کی ٹرانسپورٹ بابا راجی کے تانگے پر ہی کی جاتی تھی۔ ایک دن بابا راجی نے شانتی نگر کے مسیحی شراب فروش کے کہنے پر ڈوگر سے شراب کے پیسوں کا مطالبہ کر دیا اور یہ مطالبہ ڈوگر بہادر کی انا پر ایک پتھر کی طرح لگا۔ اور یہ مکمل فطری تھا۔۔۔ ایک تانگہ بان چوڑھے کی یہ مجال کہ ڈوگر بہادرسے پیسے مانگے؟
اگلے دن بابا راجی کے گھر ایک چھاپہ پڑا اور بابا راجی جواء کروانے کے جرم میں گرفتار ہو کر خانیوال کے حوالات میں بند کر دیا گیا۔

یہ 1996تھا۔ رسولِ پاکﷺ کی حرمت کی حفاظت کے لیے امیر المومنین حضرت جنرل ضیاء الحق14سال پہلے ہی تکفیری قوانین اس ملک پر مسلط کر چکے تھے۔ ان تکفیری قوانین کا علم تھانے کو بھی تھا اور مسیحی شراب فروشوں کو بھی۔ کچھ لوگ تھانے میں بابا راجی کو ملنے گئے جنھیں معلوم پڑا کہ جب بابا راجی کو گرفتار کیا گیا تو وہ بائبل ہاتھ میں لیے دعا کر رہا تھا۔ جی ہاں، بابا راجی بیشک ان پڑھ تھا مگر ایک انجانے احترامِ الٰہیہ میں جب دعا کرتا تو بائبل ہاتھ میں پکڑ لیتا۔ مسیحی شراب فروشوں کے لیے تکفیری قوانین کے غلط استعمال کا اس سے بہتر موقع کیا ہو سکتا تھا؟ انہوں نے بذریعہ عدالت ڈوگر پارٹی پر زیرِ دفعہ 295بی پرچہ درج کروا دیا اور عدالت نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم بھی دے دیا۔

یہ ایک مضحکہ خیز انصاف تھا۔ عزیز الرحمان ڈوگر، رانا دھوڑ پٹ اور نور نبی ایک ایسے تھانے میں زیرِ حراست تھے جہاں کے مالک بھی وہ خود ہی تھے۔ وہ آزادانہ کہیں بھی جا سکتے تھے، شراب بھی مسلسل مہیا تھی اور کڑاھی گوشت کا بھی مناسب اہتمام تھا۔ مگر یہ پرچہ ڈوگر کی انا پر ایک کاری ضرب تھا۔ متذکرہ بالا سیمی جاگیردار جو ہمارے دوست بھی تھے انہوں نے ڈوگر کے ساتھ ہونے والے ظلم کا تذکرہ کئی دوستوں سے کیا اور صبح، دوپہر، شام ڈوگر کی دلجوئی کے لیے تھانے میں موجود رہتے۔

یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ ہمارے دوست چونکہ اسلامی جمیعت طلبہ سے بھی منسلک رہ چکے تھے لہٰذا مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو خوب سمجھتے تھے۔ ہمیں آن ریکارڈ بتایا گیا کہ ڈوگر پارٹی کو ’ایکشن‘ کی تاریخ انہی نے بتائی۔ ۔۔ڈوگر 295 بی کا کراس ورژن بنانے کے لیے بےتاب تھا۔ وہ اس تانگے والے چوڑھے کو جلد از جلد سزا دینا چاہتا تھا۔ وہ تمام چوڑھوں کو نشانِ عبرت بنانے کے لیے پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ اس عالم میں ہمارے دوست اور دیگر افراد پر مبنی ڈوگر ٹولے نے ایک سازش تیار کی اور ڈوگر کو باور کروایا گیا کہ وہ ایس ایچ او ڈوگر ہے، ان چوڑھوں کی کیا اوقات کہ اس کے آگے چوں بھی کر سکیں۔ مسیحی برادری کو بہت جلد وہ سزا دی جانے والی تھی کہ ان کی سات پشتوں کے ذہنوں سے بھی ڈوگر بہادر کی دہشت نہ نکل سکے۔

بلآخر وہ دن آن پہنچا جس کا ڈوگر کو شدت سے انتظار تھا۔ یہ ستائیسویں رمضان کی مبارک رات تھی، جب علاقے بھر کی مساجد میں اعلان کروایا گیا کہ ناپاک عیسائیوں نے شانتی نگر کے نزدیک قرآنِ پاک کو شہید کر دیا ہے۔ ستائیسویں رمضان کی شب، جب بیشتر مسلمان شدتِ ایمان سے لبریز ہوتے ہیں، اس ناپاک عمل کو کیسے برداشت کرتے؟ اور یہ خبر علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

خانیوال کے ایک مضافاتی علاقے پیرووال میں ان دنوں جماعت الدعوۃ کا ایک کیمپ لگا ہوا تھا، جہاں فدائن کو آزادی کشمیر کی جنگ کے لیے تربیت دی جا رہی تھی۔ لہٰذا جب مشتعل مظاہرین نے مسیحی گھروں اور عبادت گاہوں پر حملہ کیا تو وہاں کلاشنکوف اور پلاسٹک بموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ یہ پلاسٹک بم پاکستان کے ایک طاقتور ادارے کی سٹریٹیجک منصوبہ بندی کو بے نقاب کر سکتے تھے اور یوں بھی اب معاملہ پولیس کے بس سے باہر تھا۔ لہٰذا فوج آئی اور صورتحال کو بظاہر کنٹرول کر لیا گیا۔

مگر تب تک خانیوال کے صحافیوں اور سول سوسا ئٹی کی انتھک جدوجہد کے باعث پاکستان پر بین الا قوامی دباؤ بہت بڑھ چکا تھا۔ جب نواز شریف خانیوال آئے تو سول سوسا ئٹی کی پہلی مانگ یہی تھی کہ شانتی نگر اور ملحقہ مسیحی دیہاتوں کو ’آفت زدہ‘ علاقہ قرار دیا جائے۔ خوش قسمتی سے تب کے ڈپٹی کمشنر اور دیگر انتظامیہ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ آفت زدہ علاقے کو کیا کیا سہولیات دی جاتی ہیں، مگر تب تک اعلان ہو چکا تھا۔ آفت زدہ علاقہ ڈکلئیر ہونے کے بعد یہاں تعمیرِنو کا کام جلد از جلد مکمل کرنا حکومتی ذمہ داری بن چکی تھی اور جب تک تعمیرِ نو کا کام مکمل نہ ہو جاتا، حکومت کوئی مالیہ، کوئی آبیانہ، کوئی بجلی کا بل، کوئی گیس کا بل غرضیکہ کسی قسم کا کوئی ٹیکس اس علاقے کے باسیوں سے نہیں مانگ سکتی تھی۔ دنیا بھر کے مسیحیوں نے امداد کے دروازے اہلیانِ علاقہ پر کھول دیے تھے۔ میلوں تک ریلیف کے ٹرک ہی ٹرک کھڑے نظر آتے تھے۔

سماجی سطح پر ہر مسلک کے مسلمان عالمِ دین، مفتیان اور قاری صاحبان نہ صرف اپنے منبر سے رواداری پر وعظ دے رہے تھے بلکہ وہ راہ چلتے کسی بھی مسیحی کو دیکھتے ہی گلے لگا لیتے۔ وہ سب چوڑھے جنہیں ڈوگر بہادر سزا دینا چاہتا تھا خانیوال بھر کی آنکھ کا تارہ بن چکے تھے۔ ازسرِ نو آباد کاری کے تحت علاقہ بھر کو پہلے سے کہیں بہتر سہولیات مل چکی تھیں جبکہ دوسری طرف عزیز الرحمان ڈوگر، رانا رمضان المعروف رانا دھوڑ پٹ اور نور نبی اسی حوالات میں زیرِتفتیش تھے جہاں کبھی ان کے نام کا طوطی بولتا تھا۔

انصاف کے حوالے سے ایک مسیحی وکیل نے تمام معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ وہ وکیل دو مرتبہ اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کے باعث اپنی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر اور جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہو چکا تھا۔ اس کے اور اس کے ساتھی وکلاء کے اثر و رسوخ کی وجہ سے حکومت اس واقعے کی تفتیش ہائی کورٹ کے ٹربیونل سے کروانے پر مجبور ہو چکی تھی۔

وہ وقت زیادہ دور نہیں تھا کہ ڈوگر ٹولے کو قرار واقعی سزا ہو جاتی، مگر حکومت نے ان کے سامنے ’چوائس‘ رکھ دی ۔۔۔۔ معاوضہ یا انصاف۔ وہ وکیل جانتا تھا کہ منقسم ہندوستان کے اس حصے میں اگر لوگوں نے اپنے لیے انصاف کا انتخاب کیا تو آنے والے وقت میں ایسے کئی واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔ مگر شانتی نگر کے خود ساختہ چوھدریوں کا ویژن یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا۔ ان کے گھر تعمیر ہو چکے تھے، سڑکیں پختہ ہو چکی تھیں، عبادت گاہیں از سرِ نو تعمیر کر دی گئیں تھیں بلکہ ایک نجی ہسپتال جو طویل عرصے سے نامکمل تھا، سرکاری خرچ پر مکمل ہو چکا تھا۔ یوں بھی ان کا کہنا تھا کہ دشمنیوں میں کچھ نہیں رکھا۔اس لیے انہوں نے معاوضہ لینے پر اپنے خداوند کا شکر ادا کیا۔ اس وکیل نے بلند آواز میں کہا، ’یا خداوند،بندہ بن جا‘ اور اس کے بعد وہ کبھی شانتی نگر نہیں گیا، بس جب کبھی کسی مسیحی بستی کے مسمار ہونے کا یا کسی اقلیت کے قتل کا سنتا ہے تو اتنا ہی کہتا ہے کہ ’پیارے خداوند، بندہ بن جا‘۔

فہیم عامِر
فہیم عامِر
ایک عرصے سے صحافت سے منسلک ہیں اردو اور انگریزی زبانوں میں کالم نگاری کرتے ہیں۔ بقیہ تعارف تو ہماری تحریریں ہی ہیں، جِن میں سے کچھ ہماری فیس بُک پر موجود ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *