• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خاندانی منصوبہ بندی کے تصور پر چند گذارشات ۔۔۔ ظفرالاسلام سیفی

خاندانی منصوبہ بندی کے تصور پر چند گذارشات ۔۔۔ ظفرالاسلام سیفی

SHOPPING

 گزشتہ دنوں اسلام آباد میں لاء اینڈ جسٹس کی طرف سے ” آبادی میں خطرناک اضافہ “کے عنوان پر منعقدہ ایک روزہ قومی سمپوزیم بہت سے حلقوں میں تحریکی ،علمی وشرعی اعتبار سے زیر بحث ہے ۔ یہ امر پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ ” خاندانی منصوبہ بندی ” کا تصور شرعا~  دو الگ زاویوں سے موضوع بحث بنایا جا تا ہے ، ایک زاویہ بحث فرد کا اپنے گھروخاندان کے دائرے میں کسی ضرورت واحتیاج کی بناء پر فیملی پلاننگ کرنا ہے جبکہ دوسرا اسے قومی تحریک بناکر پورے سماج کو ” برتھ کنٹرول پروگرام ” کی طرف متوجہ اور آمادہ کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں تک اول الذکر کا تعلق ہے تو اسکے جواز میں کوئی دو رائے ہیں نہ ہوسکتی ہیں چنانچہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ “مانع حمل کی صورتین خواہ وہ عزل وغیرہ کی صورت میں ہوں یا کسی دوا اور انجکشن یا خارجی تدابیر کے  ذریعے ۔۔۔۔۔

شخصی حالات کو دیکھ کر خا ص خاص ضرورتوں کےتحت وقتی طور بقدر ضرورت انکا استعمال کر لینے کی گنجائش ہے اور وہ بھی اسوقت جبکہ اس عمل کا مقصد کوئی ناجائز نہ ہو” ( ضبط ولادت کی عقلی و شرعی حیثیت ،مفتی محمد شفیع ص 20 ) صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں کہ ’’الصحيح الجواز ۔۔۔۔۔۔ ففی الصحيحين عن جابر کنا نعزل والقرآن ينزل وفی المسلم عنه کنا نعزل علی عهد رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم فبلغ ذالک النبی صلی الله عليه وآله وسلم فلم ينهنا‘‘ (فتح القدير، 3 : 273 طبع سکهر) ’’صحیح یہ ہے کہ عزل جائز ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن نازل ہو رہا ہوتا، انہی سے مسلم میں ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں عزل کیا کرتے تھے، پس یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی اور آپ نے ہم کو منع نہ فرمایا‘‘ علامہ شامی فرماتے ہیں کہ “’للسيد العزل عن امته بلا خلاف وکذا الزوج الحرة باذنها‘‘ (در المختار شامی 3 : 175 طبع کراچی) ’’ اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ آقا لونڈی سے عزل کر سکتا ہے۔ یونہی آزاد بیوی سے بھی عزل کر سکتا ہے مگر اس کی اجازت سے‘‘۔۔۔۔۔

پس معلوم ہوا کہ انفرادی طور پر کوئی فرد اپنے گھر وخاندان کے دائرے میں کسی مجبوری وضرورت کی بناء پر بیوی کی اجازت کے ساتھ فیملی پلاننگ کی کوئی بھی تدبیر کرتا ہے تو وہ نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض مواقع پر مستحسن وپسندیدہ بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جہاں تک تعلق ہے ثانی الذکر زاویہ بحث کا یعنی اسے اجتماعی تحریک بناکر قومی سطح پر اسکی ترغیب دینا اور سارے سماج کو اس پر آمادہ کرنا تو لاریب کہ اسکے عدم جواز میں بھی کوئی دورائے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مفتی اعظم مفتی شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ “اسکو قومی اور اجتماعی شکل دینا شریعت و سنت کا مقابلہ ہے۔اسکو قوم و ملت کے لیے نہ صرف جائز بلکہ ذریعہ فلاح و ترقی قراردینا جس کو اللہ تعالی اور اسکے رسول نے ملک و قوم کےلیے مضر یا کم ازکم ناپسندیدہ بتلایا ہو ہرگز جائز نہیں خصوصا جبکہ اسکی بنیاد فقروافلاس کے خوف یا اقتصادی بدحالی کے خطرہ پر رکھی گی ہو”(ضبط ولادت کی عقلی و شرعی حثیت مفتی محمد شفیع ص 20) مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ نے ” ضبط ولادت ” ص ۴۲،ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور ۱۹۶۰ء میں اس عنوان پر نہایت خوبصورت بات ارشاد فرمائی ۔

 مولانا لکھتے ہیں کہ عزل کی اجازت کے متعلق جو روایات ہیں ان کی حقیقت بس یہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے محض اپنی مجبوری اور حالات بیان کیے اور آنحضرت نے انھیں اپنے سامنے رکھ کر کوئی مناسب جواب دے دیا ،انکا تعلق صرف انفرادی ضروریات اور استثنائی حالات سے تھا۔ضبط تولید کی عام دعوت و تحریک ہرگز پیش نظر نہ تھی،نہ ایسی تحریک کا مخصوص فلسفہ تھا،جو عوام میں پھیلایا جا رہا ہو۔عزل سے متعلق جو باتیں آئحضرت سے منقول ہیں ان سے اگر عزل کا جواز بھی ملتا تھا تو ہرگز ضبط ولادت کی اس عام تحریک کے حق میں اسے استعمال نہیں کیا جا سکتا ،جس کی پشت پر ایک باقاعدہ ،خالص مادہ پرستانہ فلسفہ کارفرما ہے۔ایسی کوئی تحریک اگر آئحضرت کے سامنے اٹھتی تو مجھے یقین ہے کہ آپ اس پر لعنت بھیجتے اور اسکے خلاف ویسا ہی جہاد کرتے جیسا آپ نے شرک اور بت پرستی کے خلاف کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں ثانی الذکر زاویہ بحث پر یہ وہ آخری بات ہے جسے مولانا مودودی نے نہایت صفائی وخوبصورتی سے بیان کردیا ۔

SHOPPING

خاندانی منصوبہ بندی کی پشت پر بقول مولانا مودودی جو خالص مادہ پرستانہ فلسفہ کارفرما ہے اسکے متعلق عرض ہے کہ معاشرتی ومعاشی مسائل کا حل یہ نہیں کہ آپ کسی نئے نفس کے دنیا میں آنے کا راستہ روکیں بلکہ اسکے لیے ان دیگر عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے دولت کو چند ہاتھوں میں محصور اور دنیا کو ان چند ہاتھوں میں گروی بنا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپکے فلسفے کے مطابق ان مسائل کا سب سے درست حل یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا پر سے جملہ افراد انسانیت کو ختم کردیا جائے تو مسائل خود بخود ختم ہوجائینگے ، ہم اس مسئلے کو سازشی تھیوری سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر محض عقل ودرایت کی بنیاد پر موضوع بحث بنائیں تو بھی قطعی طور کہا جاسکتا ہے کہ دنیا مسائل کے اصل محور سے توجہ ہٹا کر ان فروعی وضمنی امور میں اپنے آپ کو الجھانے میں لگی ہے جو ان مسائل کا کسی طور درست حل نہیں قرار دیے جاسکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب بحثیت مسلماں ہم خلاق ورزاق کو خدائے وحدہ لا شریک کی صفت جان کر مان چکے تو یہ سطحی حربے چہ معنی دارد؟ ہمیں فراخ دلی سے تسلیم کرلینا چاہیے کہ ہم دنیا کو مسائل کے بھنور سے نکالنے میں ناکام ہیں اور اب ان امور میں اپنا اور دنیا کا جی بہلا رہے ہیں جنہیں ہم بالیقین جانتے ہیں کہ یہ انکے مسائل کا بہرحال حل نہیں ہیں ۔۔

SHOPPING

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *