چیف جسٹس ثاقب نثار کے نام ایک کھلا خط۔۔۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

محترم المقام جناب ثاقب نثار صاحب
چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان

درخواست بعنوان :‌ انصاف کی رو سےسانحہء ماڈل ٹاؤن سے پہلے شہدائے پکا قلعہ حیدرآباد کا قصاص لیا جائے
—————-

جناب عالی :

ایک بار پھر 17 جون 2014 کو وقوع پذیر ہوئے سانحہء ماڈل ٹاؤن کے سانحے پہ سپریم کورٹ نے پھر از خود نوٹس لیتے ہوئے غیرجانبدار جے آئی ٹی بنانے دینے کا حکم دیدیا ہے لیکن 28 برس بیت جانے کے باوجود پکا قلعہ کے درجنوں مقتولین کے پسماندگان انصاف سے یکسر محروم ہیں اور مئی 1990 کو رونماء ہوئے اس کھلی بربریت اور قتل عام کے واقعے کو رونماء ہوئے اب تیسری دہائی بھی مکمل ہونے کو ہے اور اس بھیانک المیے  کے ذمہ داران میں تو ا  ب تک نجانے کتنے ہی راہیء ملک عدم بھی ہوچکے لیکن چند بڑے ذمہ داران ابھی تک نہ صرف بقید حیات ہیں بلکہ دنیاوی طور پہ ممتاز حیثیتوں کے حامل ہیں اور اگر ان سے اس خون ناحق کا حساب نہ لیا گیا تو سانحہء پکا قلعہ کے متاثرین اور انکی نسبت سے اردو بولنے والے طبقے میں یہ سوچ مستحکم تر ہوجائے گی کہ ریاست اور اسکے اداروں کے نزدیک انکی جان کی کوئی وقعت نہیں اورانہیں پاکستانی تو کیا انسان کا رتبہ بھی نہیں‌دیا جاتا ۔۔۔۔

جناب عالی :- یہاں آپ سے میرا سوال یہ ہے کہ اب تک 27 مئی 1990 کو حیدرآباد کے پکا قلعہ میں کیے گئے بہیمانہ آپریشن میں‌ درندہ صفت پولیس کے ہاتھوں مارے گئے درجنوں بے گناہ افراد کا قصاص پیپلز پارٹی سے کیوں نہیں لیا گیا اور آج آپکے دور میں بھی یہ معاملہ کیوں نہیں اٹھایا گیا ۔۔۔ آیا وہ مقتولین انسان نہیں تھے کہ جنہیں بینظیر کے پہلے دور حکومت کے اس رسوائے زمانہ و بہیمانہ آپریشن میں جانوروں کی طرح ماردیا گیا تھا ۔ پولیس کی پچاس سے زائد موبائلوں‌ کے دو روز سے جاری شدید ترین محاصرے کے خلاف عورتیں مبینہ طور پہ سروں پہ قرآن رکھ کے احتجاج کرتی گھروں سے نکل آئی تھیں اور ان کے ساتھ مرد بھی تھے ، کیونکہ ان کے گھروں کا پانی بجلی و گیس کا کنکشن تک کاٹ دیا گیا تھا اور نوبت انتہائی بھوک اور پیاس تک پہنچ گئی تھی۔ لیکن ایک خاتون کے دور حکومت میں اس احتجاج کو کچلنے کے لیے اس مجمع پہ وحشی پولیس نے زبردست و شدید فائرنگ کر کے درجنوں خواتین کو بھون کے رکھ دیا تھا اور ان کا ساتھ دینے والے کئی مردوں کو بھی خاک و خون میں نہلادیا تھا۔ رپورٹوں میں ان مرنے والوں‌کی تعداد 100 سے 200 کے درمیان بتائی جاتی ہے ۔ اس وقت پرنٹ میڈیا پہ بدترین جبر کا دور تھا اور الیکٹرانک میڈیا صرف ایک ہی چینل یعنی پی ٹی وی پہ مشتمل تھا جو کہ سرکاری تھا اور اس نے اس ضمن میں خبروں کو مکمل طور پہ دبائے رکھا تاہم پھر بھی کئی اہم قومی اخبارات میں اس قتل عام سے متعلق خبریں شائع ہوئی تھیں۔

جناب عالی :- یہ عین ممکن ہے کہ کچھ نسل پرست لوگ پکا قلعہ کے مقتولین کے قصاص کے اس مطالبے کو بے وقت کی راگنی قرار دیں لیکن آپ سے و دیگر ارباب عدل سے ، اہم ریاستی اداروں سے اور قوم کے اجتماعی ضمیر سے میرا سوال یہ ہے کہ آخر کیسے دن دہاڑے ایک نسل پرست حکومت کے حکم پہ پولیس کی وردی پہنے متعصب جنونیوں نے ان کی جانوں کا یوں جی بھر کے شکار کھیلا، اور ان سے اس بربریت کا حساب کیوں نہیں لیا گیا ۔۔۔۔ لیکن کیا اس سے کلمے کے نام پہ بنے اس ملک کے ادارے خصوصاً  ارباب عدل اپنے اس فرض سے سبکدوش ہوگئے کہ جس کے تحت ان پہ اس وحشت و درندگی کا حساب لینا فرض ہے کہ جسکی کی ادائیگی آج بھی اسی شدت سے ان پہ لازم ہے ۔ اس سوال کا جواب سب سے زیادہ عدلیہ گردن پہ ہے ۔ اس سے بچنے کی کو ئی راہ ہے اور نہ ہی اس سوال کی گردن مروڑی جاسکتی ہے کیونکہ اس سے یہ سوال مرے گا پھر بھی نہیں کیونکہ یہ سوال پاکستانیوں کے ایک قوم ہونے کے دعوے اور قانون کے یکساں اطلاق کے مطالبے پہ مبنی طرز احساس سے جڑا ہے –

جناب عالی :- یہاں میرا سوال یہ بھی ہے کہ کیا اہل انصاف کے معیارات دوہرے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ پکا قلعہ کا قتل عام ماڈل ٹاؤن کے واقعے سے 24 برس پہلے ہوا تھا اور 4 برس پرانے اس سانحے کے 14 مقتولین کا حساب لینے کے لیے کس قدر واویلا مچا ہوا ہے اور انکےخون کا حساب مانگنے کے لیے طاہرالقادری کے پہلو میں سیاسی جماعتوں کے جغادری پہلو بہ پہلو بیٹھے ہیں حتیٰ کے پیپلز پارٹی بھی۔ وہ جماعت کہ جس کے اپنے ہاتھ پکا قلعہ کے درجنوں شہدا کے لہو سے رنگے ہوئے ہیں۔ لیکن تاریخ کا سبق یاد رکھیے کہ اشرف المخلوقات کا قتل خواہ نیا ہو کہ پرانا ، کف قاتل پہ لہو کے وہ داغ چھوڑ جاتا ہے کہ انصاف ملنے تک یہ داغ کسی صورت نہیں چھوٹ پاتے ، کیونکہ ہر بےگناہ کا قتل اپنا قصاص مانگتا ہے ۔ اور پھر یہاں تو معاملہ کئی درجن افراد کے خون کے قصاص کا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اس معاملے میں اس لیے دم سادھ لیا تھا کیونکہ یہ ظلم اردو بولنے والوں پہ کیا گیا تھا اور اگر اس آپریشن کا دسواں حصہ بھی کسی اور صوبے میں کیا گیا ہوتا تو ان سیاسی گرو گھنٹالوں نے بھونچال برپا کردینا تھا – اس زمانے میں ان اردو بولنے والوں‌ کی منتخب جماعت ایم کیوایم کے اکابرین و کارکنان کی پکڑ دھکڑ جاری تھی اور پھر اس سے بچنے کے لیے الطاف حسین خود تو لندن فرار ہوگئے اور ان کے ایماء پہ پیچھے موجود دوسرے درجے کی قیادت نے نہایت شرمناک بزدلی کا ثبوت دیتے ہوئے چند وزارتوں کی خیرات کے عیوض پی پی پی حکوت کے سامنے سر جھکا لیا اور دھڑلے سے ان شہیدوں کے خون کا سودا کرکے وزارتیں حاصل کرلیں ۔پھر اس جماعت نے اگلی مزیداڑھائی دہائیاں کسی نہ کسی طرح اقتدار سے چمٹے رہ کے گزار دیں لیکن ان شہداء کے قصاص کے معاملے پہ نہ تو خود کوئی پیش رفت کی اور نہ ہی کسی اور فرد یا انجمن کو اس معاملے میں آگے آنے دیا ۔

جناب عالی :- میں یہاں‌ یہ بھی واضح کردوں کہ آخر میں نے یہاں کراچی میں1986 – 87 میں قصبہ و علی گڑھ کے اردو بولنے والوں کے قتل عام کا تذکرہ کیوں‌ نہیں کیا یا 30 ستمبر 1988 کو حیدرآباد کے گلی کوچوں میں جگہ جگہ فائرنگ کرکے دو ڈھائی سو افراد کے قتل عام کے بھیانک واقعے کو کیوں بھلا دیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان واقعات کو دو نسلی گروہوں ‌کے تصادم کی ذیل میں لیا جاتا ہے اور انہیں سرکار بمقابلہ عوام کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاسکتا، صرف یہی دو واقعات یعنی 27 مئی 1990 کو پکا قلعہ حیدرآباد میں ایگل اسکواڈ کے ہاتھوں عوام کا قتل عام اور 24 برس بعد 17 جون 2014 کو ماڈل ٹاؤن لاہور کی وحشیانہ فائرنگ ہی ایسےواقعات  ہیں کہ جہاں حکومت عوام پہ اس درندگی سے چڑھ دوڑی ۔ پکا قلعہ کے متاثرین انصاف پانے کے لیے بلبلاتے رہے ہر در کھٹکھٹاتے رہے لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی اور اب جبکہ خدا خدا کرکے گزشتہ برس وہ دور وحشت تمام ہوا ہے تو ان مظلومین کی داد رسی کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں –

جناب عالی :-اسی لیے  میرا آپ سے یہ مطالبہ ہے کہ 28 برس پرانے اس نسل کشی کے بھیانک المیے کا قرار واقعی نوٹس لیں اور مظلومین کی دادرسی کرنے کا اہتمام کریں تاکہ بینظیر دور کے اس لرزہ خیز سانحے کے ذمہ داروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ دیکھیے اور سمجھیے کہ انصاف کا تقاضا ہے جو جرم پہلے سرزد ہوا ہے اس کو پہلے جانچا جائے اور انجام تک پہنچایا جائے ۔ ورنہ کسی بھی انصاف پسند شخص کو 28 برس پرانے اس قتل عام کو بھلادینے اور 24 برس بعد کے 14 مقتولین کو انصاف دلانے کا یہ عمل نہایت متعصبانہ اور انسانی تکریم و حرمت کے تصور کے برعکس معلوم ہوگا-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *