انعام رانا ،سوشل میڈیا اور حقائق۔۔۔۔عثمان حیدر

ہمارے لیے وہ وقت اچھا تھا جب فیسبک صرف اس لیے تھی کہ اس پہ تصویر چپکاتے ہیں اور لوگ آ کے لائیک دیتے ہیں اس کے ساتھ ایک خوبصورت احساس اہم ہونا جڑا تھا۔۔تب دوستوں کی فہرست میں جو تھے وہ سبھی اپنے تھے ان کو گلہ بھی ہوتا تو تنہائی میں کرتے یا کہیں ٹاکڑا ہوتا تو اک دوسرے پہ فقرہ کس دیتے لیکن کیا مجال جو فیسبک پہ کبھی اظہار تک ہوا ہو۔ایک دو نہیں پورے آٹھ سال یوں گزر گئے۔

پھر ایک دن بیٹھے بٹھائے ہمیں پتہ چلا فیسبک پہ دانشوری بھی ہوتی ہے ۔۔ بس پھر ہم نے ڈھونڈ ڈھونڈ کے دانشور اپنے ساتھ ایڈ کرنے شروع کیے۔۔ہر رنگ و نسل کے ایک سے بڑھ کے ایک نام وہ جو معاشرے کی تربیت کے خود ساختہ ٹھیکے دار تھے اخلاقیات کے درس ایسے کہ ہم ایسوں کو لگتا یہاں چرنوں کو چھو کے ہی ہم اخلاقیات کی ان بلند قدروں تک پہنچ سکتے۔لیکن ان چند مہینوں میں ہی یہ سارے کے سارے بت ڈھے گئے ایک ایک کر کے نہیں دھڑام سے ایک ساتھ؛ جلد ہی جان لیا یہاں زیادہ تر اپنے اپنے گنبد کے ہی قیدی ہیں اور مخالفین کے لیے ننگی تلوار دلائل میں کم مغلظات میں زیادہ ہیں۔
چلو یہاں تک بھی سب ٹھیک تھا کہ انسان کم ہی کسی سے اتفاق کرتا اور مخالفین کو معاف کر دینا ہر کسی کے نصیبے میں کہاں۔فیسبک پہ جن دھما چوکڑیوں کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا ان کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا سوشل میڈیا پہ لکھا کسی کا سخت کمنٹ عام زندگی سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور پھر جواب الجواب کی ایسی گندگی میں اترا جاتا ہے کہ عزت سادات بھی ہاتھ سے جاتی ہے۔
شاید وجہ یہ کہ یہاں اختلاف کو بے عزتی زیادہ محسوس کیا جاتا  ہے کہ بات زیادہ لوگوں تک پہنچی اور سب کے سامنے ہوئی اب جواب الجواب سے ہی صفائی ستھرائی ہو سکتی بس اسی کوشش میں بڑے بڑے ناموں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ گرتے دیکھا ہے۔

دوسرا پہلو یہ رہا کہ فیسبک پہ حقائق اور جھوٹ کی ایسی آمیزش ہے کہ آپ یہاں سے علم و دانش کی کوئی رمق حاصل نہیں کر سکتے اگر آپ کے اپنے پاس تنقید اور تحقیق کے ذریعے حقائق تک پہنچنے کی صلاحیت نا ہو۔یا کم از کم یہ صلاحیت کہ بازار کی گرما گرمی میں آپ لا تعلق رہ کر اونٹ کے کسی کروٹ بیٹھنے کا انتظار کر سکتے ہیں ۔۔نہیں یہ ذرا سا مشکل اس لیے بھی  ہے کہ دھول گرد بیٹھ گئی تو  معاملہ صاف ہو کے سب کے سامنے آگیا تب آپ کی دانشوری مارکیٹ میں نہیں چلے گی، بازار کی ڈیمانڈ کے ساتھ بھی تو بہرحال چلنا پڑتا ہے۔
جھوٹ جتنا زیادہ گرا ہوا اور نفرت انگیز ہوگا اتنی ہی اس کے لائیک  اور شئیر ہونے کی رفتار زیادہ ہو گی، بس اب آپ کا اتنا سا کام موچھوں کو تاؤ  دیتے ہوئے اپنی دانشوری کے نتائج سے لطف اندوز ہونا ہے ۔

ہارون ملک وہ پہلا حادثہ تھا جس میں سکرین شاٹ سے توہین صحابہ کا  کیچڑ اچھالا اور وہ بھد اڑائی گئی کہ الامان آخر میں پتہ چلا سکرین شاٹ ہی جھوٹے لیکن کسی کی زندگی خطرے سے دوچار کر دی گئی تھی۔
حالیہ حادثہ آسیہ مسیح کیس کے ساتھ جڑا ہوا ہے ، اس کیس میں حدت اور گرمی ایسی کہ کئی ہائی پروفائل قتل ہو چکے لیکن اس کے باوجود جھوٹ اور بدگمانی کی دانشوری کرنے والے دونوں ہاتھوں سے لائیک اور شئیرنگ سمیٹتے  رہے۔
اب کی بار شکار لندن کے وکیل اور مکالمہ کے  چیف ایڈیٹر انعام رانا تھے ۔انعام رانا کو گزشتہ ایک سال سے پڑھ رہا  ہون ۔ان کی پروفائل اور کمنٹس سے یہ تو جان لیا کہ وہ ایک زندہ دل انسان جس نے اپنے گرد  لبرل اور کٹر مذہبی سبھی کو اکٹھا کیا ہوا ہے ۔
ادھر سپریم کورٹ میں آسیہ مسیح کا فیصلہ ہوا ادھر ایک آئی ڈی سے ان کی تصویر پر آسیہ مسیح کے وکیل کی حیثیت سے ان کو  ملعون ٹھہرا کر پوسٹ وائرل کر دی گئی۔گرد بیٹھی، گرفتاریاں ہوئیں، جو چہرہ سامنے آیا اس نے جو بات کی وہ حیران کر دینے والی تھی۔۔۔
کہنے لگا  “میں صرف یہ دکھانا چاہتا تھا کہ مولوی کس طرح بغیر تحقیق کے  لٹھ لے کر پیچھے پڑ جاتے ہیں “۔۔۔۔

یہ بات کہنے والا کوئی عام فرد نہیں کہ ہم یہ کہہ کر آگے بڑھ جائیں “چاچا کیدو” ایسے کئی کردار ہمارے معاشرے میں  موجود ہوتے ہیں ۔یہ ہمارے دانشور قمر نقیب خان ہیں جی ہاں ہمارے دانشور جو انعام رانا کے دوست بھی ہیں اور اپنی دوست ہی کی پشت میں چھڑا گھونپا وہ بھی ایسے کہ جتنی تفصیلات سامنے آتی جا ر ہی ہیں، حیرت بڑھتی جا رہی کہ یہ تو گہرے حسد اور کینہ کا شاخسانہ لگتا ہے ۔لیکن اک سبق اور بھی ہے کہ یہ لبرل صرف مولوی کی ذات کو ہدف بنانے کے لیے جس انتہا تک گِر سکتے  ہیں ،وہاں تک کوئی مولوی شاید بہت گِر کے بھی نا گِر سکے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *