نبی کریم بحیثیت معلم ومربی

[نوٹ: اس تحریر میں عبد الفتاح أبو غدة کی تصنیف "الرسول المعلم واسالیبہ في التعليم" سے مدد لی گئی ہے]
اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم اس دنیا میں اس وقت آئے جب جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے ہر سو چھائے ہوئے تھے اور انسانیت کےقافلے کی یہ حالت تھی کہ ہلاک ہوا کہ ہوا۔ ہر طرف مایوسی تھی، جانور اور انسان میں امتیاز ان کی ظاہری ہیئت کے ذریعے ہی ممکن تھا ورنہ رویے اور کام ان سے بھی گئے گزرے تھے، رسول عربی صلى الله عليه وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور علم، معرفت، اللہ کے ساتھ تعلق کا ایک دیپ جلایا جس نے اس تیرہ فضا کو نور ہی نور سے بھر دیا اور اب قیامت تک کے لئے جب بھی انسانیت کا قافلہ تاریکی وظلمت میں دھنس جائے، تو اسے نکالنے کے لئے اسی چراغ سے روشنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ رسول عربی صلى الله عليه وسلم کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں، آپ اگر ایک شوہر، ایک بھتیجے، ایک بیٹے تھے، تو میدان جنگ میں سپہ سالار، جھگڑوں میں ثالث، نماز میں امام بھی تھے۔ ذیل میں ہم قرآن، حدیث و تاریخ کی روشنی میں یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ ان سب گوشوں میں "معلمی" کا کیا درجہ ہے۔
قرآن:: اللہ تعالی اپنی کتاب میں عرب پر ایک اپنے احسان کا ذکر ہوتے فرماتے ہیں کہ:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (سورة الجمعة، ۲)
{ترجمہ: وہی (یعنی اللہ تعالی) تو ہے جس نے امی لوگوں میں ان ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا، جو انہیں اس (اللہ) کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں (کفر، شرک اور گناہوں سے) پاکیزہ بنائے، اور انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے، جب کہ وہ (ان رسول کے بھیجنے سے) پہلے کھلی گمراہی میں تھے}
اس آیت پاک میں نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی ایک رسول کی حیثیت سے ذمہ داریاں بیان کی گئی ہیں جو چار ہیں: قرآن کی تلاوت کرنا، تزکیہ واصلاح کرنا، کتاب کی تعلیم دینا اور حکمت کی تعلیم دینا۔ ان چاروں کاموں پر غور کیا جائے تو یہ "تعلیم وتربیت" ہی کے گرد گھومتے ہیں، ان سے باہر نہیں۔ اس آیت سے یہ بات کھل کر واضح ہوتی ہے کہ کار نبوت دراصل کار "تعلیم وتربیت" ہے جس میں بگڑی ہوئی قوموں اور بھٹکے ہوئے لوگوں میں حکمت وبصیرت کے ذریعے حق کی تلاش کا شوق پیدا کر ، انہیں حق کی راہ دکھلا کے اس پر چلنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس لئے نبی ہی کی ذات اقدس "معلم" کا واحد نمونہ بننے کی حقدار ہے جس پر دنیا کے تمام معلمین ومعلمات کو پرکھا جا سکتا ہے۔

حدیث:: نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی زندگی ایک بھرپور زندگی تھی جس میں گوناں گوں حالات وواقعات پیش آئے اور آپ نے جس طریقے سے ان کا سامنا کیا اور ان کے لئے جو نقطہ نظر و لائحہ عمل اپنایا وہ امت کے لئے قیامت تک کے لئے ایک روشنی کے ستون ہے، انہیں واقعات میں سے ایک اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کا ناراض ہو کر، ایک ماہ کے لئے اپنی ازواج مطہرات سے دوری اختیار کرنا ہے جس کا ایک مخصوس پس منظر تھا، اس جگہ ہمیں جس بات سے سروکار ہے وہ آپ کا ایک ماہ کے بعداپنی گھر والیوں کے پاس جانے کے بعد، اماں عائشہ رضی الله تعالى عنها سے مکالمہ ہے۔ چناچہ جب آپ اماں عائشہ رضی الله تعالى عنها کے پاس تشریف لائے اور انہیں اللہ تعالی کا حکم سنایا جس کا ذکر سورة الأحزاب میں ہے کہ:
يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا (۲۸-۲۹)
{اے نبی (ص)، آپ اپنی گھر والیوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت کی خواہاں ہو، تو آو میں تمہیں کچھ تحفے تحائف دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں! اور اگر تم اللہ ، اس کے پیغمبر اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو، تو بلا شبہ اللہ نے تم میں سے نیک خواتین کے لئے شاندار انعام تیار کر رکھا ہے}
لیکن ساتھ اللہ کے نبی کو اس چیز کا خیال ہوا کہ یہ کم عمر ہیں، ایسا نہ ہو کہ فیصلہ کرنے میں جلدی کر لیں اور وہ غیر مناسب ہو، اس لئے یہ آیت سنانے سے پہلے فرمایا : "میں تمہیں ایک معاملے سے آگاہ کرنے لگا ہوں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم اس میں جلدی نہ کرو بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر لو"، اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے جب یہ آیت سنائیں تو اس پر اماں عائشہ رضی الله تعالى عنها نے فرمایا: "اے پیغمبر خدا، کیا آپ کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں! (یہ ہو نہیں سکتا) میں تو اللہ اور اس کے رسول کی طلبگار ہوں" اس کے بعد اماں عائشہ رضی الله تعالى عنها نے اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا کہ میری بھی آپ سے ایک درخواست ہے کہ آپ اپنی دوسری بیبیوں کے سامنے جب یہ آیت پیش کریں تو انہیں یہ نہ بتائیں کہ میں نے کیا کہا اور یہ کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کا چناؤ کیا، اور اس کہ وجہ بظاہر یہ تھی کہ بی بی عائشہ رضی الله تعالى عنها سوکن تھیں تو فطری غیرت کے پیش نظر انہوں نے سوچا کہ شاید اس طرح ان میں سے کوئی اللہ کے نبی سے جدائی اختیار کر لے، لیکن اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے اس پر ایک جملہ فرمایا جو اس جگہ اس ساری بات کے ذکر کرنے سے مقصود ہے کہ:
"إن الله لم يبعثني معنتا ولامتعنتا، ولكن بعثني معلما ميسرا"(صحيح مسلم، كتاب الطلاق، باب بيان أن تخيير امرأته لا يكون طلاقا إلا بالنية، حديث جابر بن عبد الله)
ترجمہ: اللہ تعالی نے میری بعثت اس لئے نہیں کی کہ میں (لوگوں کو) مشکل میں مبتلا کروں یا یہ چاہوں کہ دوسرے مشکل میں مبتلا ہوں، بلکہ اللہ نے مجھے (دوسرے کے لئے) آسانیاں پیدا کرنے والا معلم بنا کر بھیجا ہے"
اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے اس واقعہ میں اپنی "بعثت" کا مقصد ہی "معلمی" بتایا اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ معلم کی کیا خوبی ہوتی ہے۔

تاریخ:: اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کی بعثت سے پہلے عرب کے بادیہ نشین تہذیب وتمدن سے دور زندگی بسر کر رہے تھے، ان میں بہت سے لوگ خانہ بدوش تھے جو آب وگیاہ کی تلاش میں سرگرداں رہتے اور جہاں یہ میسر آتے وہاں اپنے خیمے گاڑ کر رہنا شروع کر دیتے یہاں تک کہ کسی دوسری جگہ جانے کی ضرورت پیش آئے۔ ان لوگوں میں بہت سے خوبیاں تھیں جیسے سخاوت، بہادری، سچائی، جفا کشی وغیرہ وغیرہ لیکن اسی کے ساتھ ان کی طبیعتوں میں سختی اور درشتی تھی، کسی امیر کے سامنے جھکنا ان کے لئے دشوار تھا اور ان کی طبیعتوں کا رام کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا جس کہ وجہ سے یہ لوگ کسی امیر کی اطاعت میں نہیں آتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں "كتاب الإمارة" میں ایسی کئی حدیثیں ہیں جن میں اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے امام اور امیر کی اطاعت پر انتہائی زور دیا۔ مثلا اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
من خلع يدا من طاعة، لقي الله يوم القيامة لا حجة له، ومن مات وليس في عنقه بيعة، مات ميتة جاهلية (صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب الأمر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة إلى الكفر)
{ترجمہ:جس نے (امیر کی )اطاعت سے ہاتھ کھینچے، روز محشر خدا کے سامنے اس کا کوئی عذر نفع بخش نہ ہو گا، اور جس کی گردن میں بوقت مرگ (امام وقت کی) بیعت (کا عہد وپیماں )نہ ہو تو اسے زمانہ جاہلیہ کی سی موت آئی}
یہاں اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے ایسے شخص کےعمل کو، جس کا امام وقت کے ساتھ عہد وپیماں نہ ہو، زمانہ جاہلیت کے عمل سا قرار دیا جو اسلام سے پہلے کے حالات کی بہترین ترجمانی ہے اور جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ کسی امام وقت کے ہاتھ میں ہاتھ دینے سے کس طرح ناک بھوں چڑھاتے تھے اور ان کے مزاجوں میں بچوں کی سی ضد اور ہٹ دھرمی تھی، اور جب ہم احادیث مبارکہ کے ذخیرے میں غور کرتے ہیں تو امیر کی اطاعت کے بارے میں بہت سنگین اور سخت ارشادات ملتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہی تھے جیسے:
عليك السمع والطاعة في عسرك ويسرك، ومنشطك ومكرهك، وأثرة عليك " (صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية، وتحريمها في المعصية، حديث أبي هريرة)
{ترجمہ: تم (ولی الامر) کی اطاعت تھامے رکھو ، خواہ دشواری ہو خواہ آسانی، خواہ خوش گواری ہو خواہ ناگواری، اور چاہے (دنیا کے معاملات میں) تم پر دوسروں کو ترجیح دی جا رہی ہو}
بلکہ اللہ کے نبی – صلى الله عليه وسلم – نے یہاں تک فرما دیا کہ امیر کی اطاعت، شرعی حدود میں، میری اطاعت ہے (صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية، وتحريمها في المعصية، حديث أبي هريرة)
لیکن اس سب کے باوجود، اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک مختصر عرصے میں ان طبعیتوں کو رام اور ان مزاجوں کو نرم کر دیا ، جس سے اتفاق ویگانگت کی ایک حسین بدلی نے انہیں ڈھانپ لیا اور وہ باہم شیر شکر ہو گئے اور وہ اپنے "امیر" کے اس طرح تابع ہوئے کہ اپنے خونی رشتوں سے بھی امیر کا حکم بجا لانے کی خاطر لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ یہ معجزہ اثر تبدیلی دراصل اس لئے آ گئی کہ اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کے اندر "معلمی" اپنے کمال کے ساتھ جلوہ افروز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کہنے والے نے کہا جیسا کہ علامہ قرافی نے اپنی مشہور کتاب "الفروق" میں نقل کیا:
لو لم يكن لرسول الله – صلى الله عليه وسلم – معجزة إلا أصحابه لكفوه في إثبات نبوته (أنوار البروق في أنواء الفروق لأبي العباس شهاب الدين المعروف بالقرافي)
{ترجمہ: اگر پیغمبر خدا کے صحبت یافتگان کے بجز اور کوئی معجزہ رسول اللہ کا نہ ہوتا، تو نبوت کے ثبوت کے لئے یہی کافی تھے۔}
اس لئے رسول اللہ ، حضرت محمد صلى الله عليه وسلم معلم کی ایسی اعلی مثال تھے جس سے دنیا کا ہر معلم رہنمائی لے سکتا ہے اور ایسی کسوٹی کہ اس دنیا کی بستی میں بسنے والے ہر مربی کو اس پرکھا جائے گا، اسی لئے اگر کوئی شخصیت اس کی حقدار ہے کہ اسے "معلم اول" کا لقب دیا جائے تو سرور کائنات محمد عربی کی شخصیت ہے۔

Avatar
مشرف بیگ اشرف
اسلامیات کا طالب علم اور کمپیوٹر پروگرامر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *