آئیوڈین والا نمک اور گاندھی۔۔۔وہارا امباکر

کہا جاتا ہے کہ تاریخ فاتح لکھتے ہیں لیکن نہیں، تاریخ وہ لکھتے ہیں جو بچ جاتے ہیں۔ بچتا تو آخر میں کوئی بھی نہیں۔ تو پھر تاریخ شاید وہ لکھتے ہیں جو زندہ ہوتے ہیں۔ یا پھر شاید کئی بار ہم ان چیزوں کے لئے ماضی سے راہنمائی لینے کی کوشش کرتے ہیں جن کا تعلق گزرے کل سے نہیں، بلکہ آج سے ہوتا ہے۔ یہ انڈیا میں آئیوڈین کی کہانی ہے۔

آئیوڈین ہمارے جسم کا لازمی جزو ہے اور بڑی تھوڑی مقدار میں پایا جاتا ہے یعنی پورے جسم میں بیس ملی گرام کے قریب۔ یہ ایک مائیکرو نیوٹرنٹ ہے اور اس کی کمی جسم میں مسائل پیدا کرتی ہے۔ ہمارے جسم میں تھائیرائیڈ گلینڈ دو ہارمون ٹی تھری اور ٹی فور پیدا کرتا ہے جس کے بائیوسنتھیسز کے لئے اس کا ہونا ضروری ہے۔ اس کی کمی سے ذہانت میں کمی اور ڈویلپمنٹ میں کمزوری ہو سکتی ہے۔ دنیا کے دو ارب افراد میں اس کی کمی ہے لیکن اس کا حل انتہائی آسان ہے۔ عام کھانے والے نمک میں اس کا اضافہ کر دیا جائے۔ آئیوڈائزڈ نمک سے یہ کمی پوری ہو جائے گی۔ یہ طریقے بھی نہایت سستا ہے۔ صرف ایک روپیہ فی فرد سالانہ لاگت آتی ہے۔ اس سے 150 مائیکروگرام آئیوڈین روزانہ ہر شخص لے سکتا ہے اور اس کا مطلوبہ لیول ہمیں مل جاتا ہے۔ 1922 میں سوئٹزرلینڈ پہلا ملک تھا جس نے آئیوڈائزڈ نمک لازم قرار دیا۔ اس کے بعد اب بہت سے ممالک میں یہ ضروری قرار دیا جا چکا ہے۔ آئیوڈائزڈ نمک کے استعمال سے دنیا میں پچھلے سو برس میں آئی کیو میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس کی کمی کے شکار افراد میں نمایاں کمی آئی ہے اور برتھ ڈیفیکٹس میں بھی۔

لیکن انڈیا میں یہ متنازعہ رہا ہے۔ وہ کیوں؟ اس کی وجہ ماضی میں ہے۔

برطانوی حکومت نے 1930 میں برِصغیر میں نمک کی فروخت پر آٹھ فیصد ٹیکس لگایا۔ پسماندہ برِصغیر میں نمک ان چند چیزوں میں سے تھا جو مقامی طور پر پیدا ہوتا تھا۔ سمندر کا پانی اکٹھا کیا،اس کی تبخیر سے بچنے والا نمک تھیلوں میں بھر کر بیچ دیا۔ یہ اس طرح تھا جیسے اسکیموز پر برف پر یا صحرا میں ریت اٹھانے پر ٹیکس لگا دیا جائے۔ اس ٹیکس کے خلاف گاندھی نے نمک مارچ شروع کیا۔ 78 لوگوں سے شروع ہونے والے ڈھائی سو میل لمبے مارچ کے آخر تک ان کے پیچھے دو میل لمبا مجمع تھا۔ آخر میں نمک والی مٹی ہاتھ میں اٹھا کر اعلان کیا کہ “اس نمک سے میں برطانوی راج کی بنیادیں ہلا دوں گا۔” سب کو نمک خود بنانے کا کہا جس پر ٹیکس نہ لگ سکے۔ یہ تحریکِ آزادی کا اہم واقعہ تھا۔ اس سے سترہ سال بعد انگریز دور کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ واقعہ قومی یاد کے طور پر محفوظ ہو گیا کہ کبھی مغرب سے آئے حکمرانوں نے نمک کے استعمال کو چھیڑا تھا۔

انڈیا میں آئیوڈین والا نمک پچاس کی دہائی میں آیا۔ اس پر مزاحمت ہوئی۔ یہ صوبائی معاملہ رہا اور تین صوبوں نے اسے نہ اپنانے کی ضد جاری رکھی۔ 1998 میں انڈیا کی وفاقی حکومت نے پورے انڈیا میں عام نمک کی فروخت پر پابندی لگا دی۔

ہندو قوم پرستوں کی طرف سے اس پر ردِعمل آیا۔ اس بحث کی دو سائیڈز تھیں۔ ایک کا کہنا تھا کہ یہ مغربی سائنس ہے۔ یہ نمک کینسر اور ٹی بی پھیلاتا ہے اور مغربی سازش یہ ہے کہ اس کو کھانے سے قوم بزدل ہو جائے گی اور ہاں، مردانہ کمزوری کا شکار بھی۔ ان سب خیالات کے پیچھے کوئی سائنسی بنیاد نہیں تھی لیکن تاریخ سے لے کر اپنی بنائی کہانی تھی۔ ان کا کہنا تھا گاندھی ہوتے تو کبھی برداشت نہ کرتے کہ آلودہ نمک ہمیں کھلایا جائے گا۔ ہمیں ہمارے دیش کا اصلی نمک اصلی حالت میں کھانا ہے۔ دوسری سائیڈ نے بھی اپنی تاریخ بنا لی تھی کہ گاندھی کا خواب ایک صحتمند انڈیا تھا اور اگر وہ ہوتے تو آئیوڈین والے نمک پر زور دیتے۔

اس بحث میں حکومت قوم پرستوں کی آ گئی اور نئی حکومت نے وہ کام کیا جس سے انڈیا کے ڈاکٹرز اور عالمی ادارہ صحت کے منہ کھلے رہ گئے۔ بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت نے 2000 میں عام نمک سے پابندی اٹھا لی۔ آئیوڈین کی سطح نیچے جانا شروع ہوئے اور پیدائش کے ڈیفیکٹ اوپر۔ اس فیصلے کو 2005 میں واپس بدل دیا گیا لیکن گاندھی کے نام پر ہونے والی یہ بحث جاری ہے۔ انڈیا کی آبادی کے پچاس کروڑ افراد تک آئیوڈین والا نمک باقاعدگی سے نہیں پہنچتا۔۔

گاندھی کو آئیوڈین پسند تھی کہ نہیں؟ یہ گاندھی کو خود تو معلوم نہیں تھا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ کبھی ان کی پسند یا ناپسند کا فیصلہ بھی لوگ کر ہی لیں کیونکہ تاریخ کی کچھ چیزیں زندہ رہنے والے لکھتے ہیں۔ لیکن یہ سوال کہ کیا انڈیا میں آئیوڈین ملا نمک استعمال ہونا چاہیۓ یا نہیں؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کی جگہ گزرا کل نہیں بلکہ آج ہے۔ اس کا جواب بالکل واضح ہے۔ اگر انڈیا کو اپنے شہریوں کی صحت اور برتھ ڈیفیکٹس کی حالت بہتر کرنا ہے تو صرف ایک روپیہ فی شہری سالانہ کے خرچ سے یہ بڑی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔

اس پر آرٹیکل
https://www.salon.com/2001/08/20/salt/

انڈیا میں آئیوڈین کے مسئلے پر
https://www.ncbi.nlm.nih.gov/pmc/articles/PMC3818611

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *