ہمیشہ کے لیے زندہ۔۔۔محمد شہزاد قریشی

ہمیشہ کے لیئے زندہ رہنے( immortality) کی خواہش دنیا کا تقریباً ہر انسان ہی رکھتا ہے۔۔ ماضی میں دنیا کے بہت سارے لوگوں نے اس خواہش کو حاصل کرنے کی خاطر وقت سے پہلے ہی اپنی جان دے دی۔۔ بڑے بڑے بادشاہوں نے اس چیز کو پانے کے لیے کئی  انسانوں کا خون کیا، وسائل کا بے پناہ استعمال کیا لیکن وہ اسے حاصل نہ کرپائے۔۔
میں آپکو تاریخ کے چند ایسے ہی واقعات سے روشناس کرارہا ہوں
1۔ الزبتھ نامی ایک ہنگیرین عورت تھی جو سولہویں صدی میں ایک انتہائی  امیر گھرانے میں پیدا ہوئی ۔۔ اس کا شوہر ہنگری کی فوج کا سپہ سالار بھی تھا۔۔ جب اسکی عمر بڑھنا شروع ہوئی  تو اس نے عجیب و غریب کام کرنا شروع کردئیے، یہ جوان لڑکیوں کو اپنے محل میں منگوا کر اپنے سامنے ذبح کرواتی اور انکے خون سے نہاتی۔۔ یہ سمجھنے لگی کہ ایسا کرنے سے اسے کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا، اس جنون میں اس پاگل عورت نے 700 کے قریب نوجوان لڑکیوں کو جان سے مار ڈالا،
جب یہ بات ہنگری کے بادشاہ تک پہنچی تو اس نے اس عورت کو ایک قید خانے میں ڈال دیا جہاں یہ تڑپ تڑپ کے ہلاک ہوگئی۔

2۔ کن شی ہوائنگ متحدہ چین کا پہلا بادشاہ گزرا ہے۔۔ اسے بھی ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش تھی۔۔ اس نے کئی بار اپنے سپاہیوں کو ایسی بوٹیوں کی تلاش کے لئے ہزاروں میل دور بھیجا جن کے بارے میں اس نے سنا تھا کہ وہ اسے ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔ جب اس سے کام نہ بنا تو اسے اسکے حکماء نے بتایا کہ آپ مرکری پینا شروع کردیں ۔۔ اس سے آپکو امیمورٹیلٹی مل جائے گی۔۔ اس احمق بادشاہ نے بے تحاشا  مرکری پینا شروع کردی۔۔ جس سے اسکے جسم میں زہر بننا شروع ہوگیا اور وہ 49 سال کی عمر میں چل بسا۔۔

3۔ الیگزینڈر بوگدے ناف نامی ایک روسی ڈاکٹر نے بھی ہمیشہ کی زندگی کے لیئے بھی کچھ ایسے ہی احمقانہ تجربات کیے۔ انہی تجربات میں سے ایک بلڈ ٹرانسفیوژن یا انتقال خون بھی تھا۔( اس عمل میں جسم کے سارے خون کو تبدیل کیا جاتا ہے)۔اس نے پیسوں کے عوض بے تحاشاانتقال خون کیے۔ اس نے بڑی مقدار میں یہ تجربات کیے، جوں جوں وقت گزرتا اس کا جنون بڑھنے لگا۔۔ اسی جنون میں وہ ڈونر کے خون کا معائنہ بھی نہیں کرتا تھا۔۔ ایک دفعہ اس نے پیسوں کے عوض ایک سٹوڈنٹ کا خون بھی اپنے جسم میں منتقل کیا، اس سٹوڈنٹ کو ملیریا اور ایک دوسری خطرناک بیماری بھی تھی۔۔ اور الیگزینڈر 55 سال کی عمر میں اس متاثرہ خون کی وجہ سے ہلاک ہوگیا۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *