حصہ سوئم (پرسپیکٹو کیا ہے)۔۔۔۔۔۔محمد جواد عمر

افق کیا ہے ؟
افق کیسے بنتا ہے ؟
افق Horizon
1:
The horizon or skyline is the apparent line that separates earth surface line from sky at any distance.
2:
The line at which the sky and Earth appear to meet at almost eye level.
3:
The range of view that can be anticipated from a specific distance.
4:
A specific layer or stratum of soil or subsoil in a vertical cross section of land from any distance.
5:
The great circle on the celestial sphere whose plane passes through the sensible horizon and the center of the Earth.
عام اصطلاح میں افق سے مراد وہ فاصلاتی خط جہاں آسمان اور زمین کی سطح آپس میں ملتی دیکھائی دیتی ہیں افق کہلاتا ہے.
افق کے تین عناصر ہیں : فاصلہ ،اونچائی اور پرسپیکٹو .
افق انھیں تینوں عناصر کے عمل سے بنتا ہے ہے افق کی نوعیت کا انحصار انھیں پر رہتا ہے .


اگر بلندی بڑھے گی تو پرسپیکٹو کی وجہ سے وینیشنگ پوائنٹ بڑھے گا اگر پرسپیکٹو بڑھے گا تو اس وجہ سے افق کا فاصلہ بھی بڑھ جائے گا .
اگر ہم غور کریں تو افق ہمیشہ ہماری آئی لیول پر ہی بنتا ہے آئی لیول پر اس لیے بنتا ہے کیوں کہ ہمارے دیکھنے کا نظام پرسپیکٹو کے اصولوں پر چلتا ہے تو افق کا تعلق اس بات سے ہرگز نہیں کہ جیسا کہ فلیٹرز کا خیال ہے کہ افق ہمارے محدود حد نظر کی وجہ مخصوص فاصلہ پر بنتا ہے.
اب غور کریں…
جب ہم سمندر پر سمندر کی سطح کو دیکھتے ہیں تو وہ ہمیشہ ہماری آئی لیول تک اوپر بڑھی ہوئی نظر آتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس کی وجہ یا اصول وہی ہے جو پرسپیکٹو کا ہے ، یہ پرسپیکٹو کا دوسرا رخ ہے ، ہم پرسپیکٹو میں دور جاتی چیزوں کو ہمیشہ آئی لیول پر آنے تک وینش ہوتا نہیں دیکھتے یعنی جو چیز جتنا چھوٹی ہوگی وہ اتنا ہی آئی لیول تک پہنچنے سے پہلے ہی وینش ہوجائے گی یوں سمجھیے کہ پرسپیکٹو ہمیشہ دور بھاگتی چیزوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے کرتا جاتا ہے جیسے اگر ایک ٹرین آپ کے دائیں جانب ایک سیدھی بغیر موڑ والی پٹڑی پر آپ سے دور جارہی ہے تو آپ مشاہدہ کریں گے کہ وہ آہستہ آہستہ آپ کی آنکھوں کی سیدھ کی سمت میں آرہی ہوگی مطلب یہ پرسپیکٹو کی خوبی ہی ہے کہ وہ آپ سے دور جاتی چیزوں کو آپ کی آنکھ کی سیدھ کے سامنے لاتا ہے مگر یہ اس چیز کے size حجم پر منحصر ہے کہ وہ کتنا ہے کیا وہ آپ کی آنکھ کی سیدھ میں آنے سے پہلے چھوٹا ہوتے ہوتے غائب ہوتا ہے یا سیدھ میں آنے کے بعد،اس ہی طرح چھوٹی چیز آئی لیول پر آئے بغیر پہلے ہی چھوٹی ہوتی ہوتی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے اس کے برعکس بڑی چیز دور جاتے ہوئے پہلے آپ کی آئی لیول پر آئے گی اس کے بعد اگر وہ اب بھی اتنی بڑی ہے کہ اسے وینش ہونے کے لیے مزید دوری چاہیئے تو وہ آئی لیول پر ہی چلتے ہوئے دور جائے گی نہ ہی اوپر بلند ہوتی دیکھائی دے گی اور نہ ہی نیچے ہوتی کیونکہ یہ پرسپیکٹو کا قانون ہے جو خالق نے ہمارے دماغ ،دیکھنے کے عمل اور روشنی کے عمل سے تیار کیا ہے(کبھی کبھار دوسرے کچھ فیکٹرز کی وجہ سے ہمیں پرسپیکٹو کے قوانین کے برعکس دیکھنے کو بھی مل سکتا ہے)


مگر کچھ نام نہاد فلیٹ ارتھرز پرسپیکٹو کے قوانین کے برعکس بعض اوقات ایسے نظارے پیش کرتے نظر آتے ہیں جو عام افراد کو ورغلانے میں انھیں مدد دیتے ہیں .
جب بڑے پیمانے پر دور جاتی بڑی چیزوں کو پرسپیکٹو کی وجہ سے افق کے پار جانے کے بعد غروب ہوتا دیکھا جاتا ہے اور اس ہی لمحہ کسی طاقتور دوربین سے دوبارہ اسے دیکھا جاسکتا ہے تو فلیٹ ارتھرز اسے ایک ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ چیزیں افق میں زمین کے خم کی وجہ سے غروب نہیں ہوتیں بلکہ پرسپیکٹو کی بنا پر غروب ہوجاتی ہیں اور ٹیلی سکوپ یا دور بین سے انھیں دوبارا واپس دیکھا جاسکتا ہے ،یہاں ایک بار پھر فلیٹ ارتھرز اپنی کم علمی کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں کیوں کہ وہ ،وینشنگ پوائنٹ ،پرسپیکٹو ،سائز ،فاصلہ ، ایٹموسفیرک ریفریکشن اور افق کے فاصلہ سے ناواقف ہوتے ہیں .


جیسا کہ ہم اس تحریر کے سابقہ حصوں میں سمجھ آئے ہیں کہ چیزوں کے دور جانے میں پرسپیکٹو کے اصول اور عوامل کیا کردار ہے اس لیے انھیں یہاں دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں ، جب ہم ساحل سمندر پر کسی بڑے بحری جہاز کو دور جاتے دیکھتے ہیں تو چھوٹا ہوتے ہوئے اس کا پیندا ہماری آئی لیول پر آتا ہے نیز پانی کی سطح بھی ہماری آئی لیول پر آتی جاتی ہے جہاں پانی کی سطح ہماری آئی لیول پر پہنچتی ہے وہاں افق بنتا ہے ،اس افق کے مقام کے بعد جب بحری جہاز جو بڑا ہونے کی وجہ سے ابھی تک وینیشن نہیں ہوا ہوتا وہ اس کے پار پرسپیکٹو ہی کی وجہ سے اس پانی کے بننے والے افق کے پار ہمیں غروب ہوتا دیکھائی دیتا ہے( یاد رہے اس کی وجہ دو دور جاتی چیزوں کے درمیان پرسپیکٹو کے موازناتی مقابلہ کی وجہ سے ہے ) جسے ہم دور بین سے سے دوبارہ دیکھ سکتے ہیں لیکن کب تک یہ سوال آپ خود کسی بڑے فلیٹ ارتھر سے پوچھ لیں، ہم اس بڑے بحری جہاز کو اس وقت تک دوربین سے دوبارا دیکھ سکیں گے جب تک وہ ایٹما سفیرک ریفریکشن کے عمل کو مات دے کر زمین کے خم میں غروب ہونا شروع نہ ہوجائے.


شاید اکثر لوگ بشمول زمین کو فلیٹ نہ ماننے والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ افق کا بننا صرف زمین کے سفیرک ہونے کی وجہ سے ہے ،حالنکہ افق پرسپیکٹو ،زمین کا سفیرک خم اور بشمول دوسرے چھوٹے چھوٹے عوامل سے بنتا ہے.
اسٹیبلشڈ سائنس کے مطابق افق سمندر کی سطح پر ایک سیدھے کھڑے شخص کے لیے تقریباً 4.7 کلو میٹر ددر ہوگا مگر اس میں دو اہم فیکٹرز یعنی پرسپیکٹو اور ایٹمو سفیرک ریفریکشن کو شامل نہیں کیا جاتا اس لیے اس ظاہری افق اور اصل افق میں تقریباً چودہ فیصد کا فرق پایا جاتا ہے جسے تمام دوسرے فیکٹرز کو کلکولیٹ کرنے کے بعد درست کیا جاتا ہے.


اگر آپ غور کریں توسمندر پر ایک سیدھے کھڑے شخص کے لیے افق جو 4.7 کلو میٹر کی دوری کے بعد بن رہا ہے یعنی اس کے قدموں کے برابر نیچے موجود پانی کی سطح 4.7 کلو میٹر دوری پر آئی لیول پر آرہی ہے اس طرح اگر کوئی چیز جو آپ کی آنکھوں سے آپ کے قد برابر اوپر بلند ہے وہ بھی 4.7 کلو میٹر کی دوری کے بعد آپ کے لیے آئی لیول پر آئے گی ،دوسرے لفظوں میں میں آپ کی ایک مثال کے ذریعے اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں فرض کریں آپ ایک پرسکون سمندر میں پانی پر سیدھے کھڑے ہوئے ہیں آپ کا قد 5.7 فٹ ہے ایک کشتی جس کی انچائی سمندر کے پانی کی سطح سے 5.7 فٹ ہے اور اس کی چھت پر تیز روشنی لگی ہے جب وہ آپ سے سیدھی دور ہوگی تو ٹھیک 4.7 کلو میٹر کے بعد آہستہ آہستہ غائب ہونا شروع ہوجائے گی مگر ابھی آپ اس کا غائب ہونے والا پیندہ دوبارہ دوربین سے دیکھ سکے گے اس کے بعد وہ کشتی مزید 4.7 کلو میٹر دور ہوکر مکمل غائب ہوجائے گی جسے آپ کسی بھی دوربین وغیرہ سے دوبارہ نہیں دیکھ پائیں گے .

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *