مہارت؟ (26)۔۔وہاراامباکر

آخر کیا وجہ ہے کہ آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں؟ کیا آپ نے یہ سلسلہ پڑھا ہے؟ اور ابھی تک آپ نے جتنا بھی پڑھا ہے، اس پر آپ کیوں اعتبار کریں گے؟ یقیناً، اس لئے نہیں کہ یہ فیس بک پر ایک آرٹیکل تھا۔ ہزاروں ایسے آرٹیکل ہیں جس میں لکھا ہوا مواد غلط اور جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ اور اس لئے نہیں کہ اس میں کچھ “علمی” الفاظ استعمال کر دئے گئے ہیں اور کتابوں اور شخصیات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ باقاعدہ حوالوں کے ساتھ تحریریں غلط بیانی کرتی ہیں۔ (ژورن لومبورگ کی ماحولیات پر گمراہ کن کتاب میں 2390 سائنسی حوالہ جات ہیں)۔ کئی پی ایچ ڈی ہوں گے جو آپ کو علمِ نجوم پر یقین کرنے کا کہیں گے۔ جبکہ کئی ایسے لوگ ہوں گے جن کی بصیرت بھری کتابیں ہوں گی لیکن کوئی خاص ڈگری نہیں۔ اور اس میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے، آپ کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ ہر شے کو جا کر چیک کریں۔ میرے دلائل کے فائن سٹرکچر کا جائزہ لیں اور کمزوری ڈھونڈیں۔
ہو سکتا ہے کہ آپ نے کچھ باتیں صرف اس لئے سچ مان لی ہوں کہ میں نے کہیں کیونکہ آپ مجھ پر اعتبار کرتے ہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ کچھ باتیں آپ صرف اس لئے مسترد کر دیں کہ وہ میں نے کہیں کیونکہ آپ مجھے بالکل پسند نہیں کرتے۔ سائنس (یا کسی دوسرے شعبے) کے بارے میں پبلک بحث بالآخر اس پر آتی ہے کہ آپ کا ماہر کون ہے؟ کسی بھی بالکل غلط اور یہاں تک کہ احمقانہ پوزیشن کے حق میں بھی ماہرین مل جائیں گے۔ یقین کیجئے کہ یہ کرنا اتنا مشکل نہیں۔ ایک عام آدمی کیا کرے۔ اپنا ماہر کیسے چنیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہارت کے اس مسئلے کا ہمیں ہزاروں سال سے پتا ہے۔ ماہر کو جج کرنے کے لئے ایک اور ماہر ہی درکار ہے۔ سائنس میں پئیر ریویو اسی وجہ سے ہیں۔ سائنسی پیپرز کو ووٹنگ کے لئے نہیں رکھا جاتا۔ اگر میں کوانٹم مکینکس پر پیپر لکھنا چاہتا ہوں تو مجھے ایسے سائنسدانوں سے اس کا ریویو کروانا پڑے گا جو اس میں ماہر ہیں۔ اس آئیڈیا کا یہ مطلب نہیں کہ وہ غلطی نہیں کر سکتے لیکن یہ کہ ٹیکنیکل معاملے میں بہتر فیصلے ماہر ہی کر سکتے ہیں۔
اب یہ ایک اور مسئلے کو کھڑا کر دیتا ہے۔ آپ سمجھتے ہوں کہ میرا خیال ہے (اور ایسا ہی ہے) کہ جب دیپک چوپڑا ہمیشہ کی جوانی کے لئے کوانٹم مکینیکل اکسیر یا دوسرے معجون بیچتے ہیں تو وہ صرف بے تکی باتیں کر رہے ہیں۔ مجھے ان کے بات کو جج کرنے کے لئے کوانٹم صوفیت کا ماہر ہونا پڑے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ (میرے خیال میں) کوانٹم صوفیت جعلسازی ہے۔ اس لئے کوانٹم صوفیت کا ماہر خود ہی غلط اصطلاح ہے، خواہ کوانٹم مکینکس خود سائنس کی بہترین تھیوری ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہی مخمصہ ہے۔ کیسے ایک عام آدمی تفریق کرے کہ کیا چیز سوڈوسائنس ہے۔ ماہر جوتشی، ماہر عامل، ماہر نجومی بھی تو مل جائیں گے۔ کیسے پتا لگے کہ ان کی مہارت ہی نان سینس میں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس سوال سے پہلے کچھ بات اس پر کہ مہارت کیا ہے اور ماہر کون ہے؟ یہ سوال ہے جس پر ایریکسن اور سمتھ نے تحقیق کی ہے۔ اس سے وہ مہارت کے بارے میں کچھ نتیجے اخذ کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایک آدھ بار کی شاندار ترین کامیابی بھی کسی کو ماہر نہیں بناتی۔ دوسرا یہ کہ کسی شعبے میں مہارت کا تعلق یادداشت کو ذہن میں رکھنے کی عمومی صلاحیت سے نہیں۔
ایریکسن اور سمیتھ کی تحقیق کہتی ہے کہ ماہر بننے کا ایک بڑا پہلو وقت ہے اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ وقت کا سرمایہ خرچ کئے بغیر مہارت نہیں آتی۔ شطرنج پر کی گئی سٹڈیز بتاتی ہیں کہ ابتدائی کھلاڑی، ماہر اور ماسٹر میں بہت فرق ہے۔ تین ہزار گھنٹے شطرنج پر لگانے سے ماہر بنا جا سکتا ہے لیکن ماسٹر کو اس سے دس گنا مزید وقت لگانا پڑتا ہے۔ یہی سائنس اور آرٹس میں بھی ہے۔ مہارت پیٹرن دیکھ لینے کا فن ہے۔ معلومات کا ڈھیر اکٹھا کرنے کا نہیں۔ عام یقین کے برعکس شطرنج میں ماسٹر بہت آگے کی چالوں کا حساب نہیں لگاتے لیکن ان کا تجربہ بساط پر وہ پیٹرن شناخت کر لیتا ہے جس سے انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ سسٹم کی موجودہ حالت میں کونسی چال بہترین ہو گی۔
کئی دہائیوں کی تحقیق کے بعد ایرکسن اور سمیتھ مہارت حاصل کرنے کی تین سٹیج کا ذکر کرتے ہیں۔ پہلی کوگنیٹو سٹیج، جس میں اس بات کی سمجھ ڈویلپ کرنا کہ متعلقہ انفارمیشن کونسی ہے اور غیرمتعلقہ کونسی۔ دوسری ایسوسی ایٹو سٹیج، جس میں زیادہ انفارمیشن کو پراسس کیا جاتا۔ کیونکہ انفارمیشن سٹرکچرڈ طریقے سے سٹور ہے۔ تیسری آٹونومس سٹیج، جس میں ماہرین بغیر کسی گہری شعوری سوچ کے، زیادہ تر چیزیں کر سکتے ہیں۔ اس کو intuitive حس کہا جاتا ہے کہ کونسی انفارمیشن اہم ہے اور کونسی نظرانداز کر دینی ہے۔ غیرمتعلقہ انفارمیشن میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔ ماہر اپنے اس وجدان کا عقلی تجزیہ کر سکتا ہے لیکن بجائے گھنٹوں صرف کرنے کے، جوابات فوراً سمجھ میں آ جاتے ہیں۔
ماہر نرس، ڈاکٹر، استاد یا دوسرے شعبوں کے ماہرین اس وجہ سے اپنی مہارت کے شعبے کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
ایک اور تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ ماہرین میں سب سے اہم صلاحیت غیرمتعلقہ انفارمیشن کو نظرانداز کرنے کی صلاحیت ہے۔
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ایک شعبے کی مہارت کا مطلب دوسرے شعبے میں مہارت نہیں۔ کوانٹم مکینکس کی مہارت حاصل کرنے میں کوانٹم مکینکس پر بہت وقت لگانا پڑتا ہے۔ اس شعبے میں اگر کوئی نوبل انعام لے لے تو یہ اعزاز اس کے عالمی سیاست یا اکنامکس کے بارے میں مہارت کا کچھ بھی نہیں بتاتی۔
اور صرف وقت لگانا ہی کافی نہں۔ اس کو effortful study میں انگیج ہونا پڑتا ہے۔ ایک شعبے کے ہیورسٹک دوسرے شعبے میں نہیں جاتے لیکن سیکھنے کی صلاحیت وہ فن ہے جس کو ایک شعبے کا ماہر دوسرے میں جلد مہارت حاصل کرنے میں استعمال کر سکتا ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *