وہ بس میں میرے ساتھ والی سیٹ پر آ کر بیٹھا تھا۔ وضع قطع سے ماڈرن معلوم ہوتا تھا، اور بول چال سے پڑھے لکھے ہونے کا بھی گمان ہو رہا تھا۔
اس نے فون کانوں کو لگایا، منقطع شدہ رابطے کو آگے بڑھایا۔
کسی کو اپنے پیار کی دلیلیں دی جارہی تھیں ، کھانے پر مدعو کیا جا رہا تھا۔ گھر والوں کی ناراضگی کی صورت میں گھر چھوڑنے پر آمادہ کیا جا رہا تھا۔
فون بند ہوتے ہی دوبارہیل بجا۔
فون کے بند ہوتے ہی محترم کی حالتِ زار خراب ہو گئی۔
پتا چلا اُس کی بہن کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں