فوج اور بیوی۔۔۔۔ فہیم اکبر

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں انسانوں کی سوچوں کے راہ طاقتور کی طرف سے متعین کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ طاقتور کا طاقت کا بے جا استعمال تو فطری ہے لیکن جب طاقتور کو طاقت کے غلط استعمال پر بهی تحفظ عام عوام دینے لگے تو یہ معاشرے کا المیہ ہوتا ہے. اداروں پر سوال اٹھانا تو ناممکن بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہم انسانوں کے بنائے اداروں کو اتنا پاکیزہ بنا دیتے ہیں کہ ان اداروں پر تنقید کو کافرانہ حرکت گردانا جانے لگتا ہے.

دو تین دن پہلے آرمی افسران کی طرف سے موٹروے پولیس افسران پر مبینہ تشدد کیا گیا۔ میں نے ایک پوسٹ لگائی تو متاثرین کا ردعمل دیکھ کر ایک بات میری سمجھ میں آ گئی ہے کہ پاکستان میں فوج کا عوام کی نظر میں وہی مقام ہے جو ایک بیوی کا شریف شوہر کی نظر میں ہوتا ہے.

مثال کے طور پر؛

بیوی اور ملکی فوج کچھ بھی کر لے تنقید کسی صورت جائز نہیں .

دونوں ہمارے خرچے پر ہماری حاکم ہیں لیکن سوال ہم نہیں کر سکتے .

دونوں کے کسی عمل پر اصلاح کی غرض سے تنقید کی جائے تو جواب ملتا ہے ہم تو آپ کی خدمت کی خاطر ہلکان ہیں اور آپ کو قدر نہیں ہماری.

اگر بیوی گھر میں کوئی قیمتی چیز توڑ دے یا فوج قانون توڑ دے، تو دونوں کے اوپر سوال اٹھانے کی صورت ایک ہی جواب ملتا ہے؛ ہم تو آپ کی خاطر گھر بار چھوڑ کر بیٹھے ہیں اور ایک آپ کہ ہم سے خوش ہی نہیں.

سوال اٹهانے کی صورت بیوی کا جواب ہوتا ہے کہ میں نے آپ کا گھر سنبھالا ہوا ہے اور فوج کا جواب، ہم نے آپ کا ملک سنبھالا ہوا ہے۔

بیوی ایک طرف تو اپنے شوہر کی سستی اور کاہلی کا رونا روتی ہے اور دوسری طرف خود سستی کا شکار ہوتی ہے۔ فوج ایک طرف تو عوام اور سیاستدانوں کی قانون شکنیوں کو بنیاد بنا کر مارشل لا تک لگا دیتی ہے اور دوسری جانب خود قانون شکن ہے۔

اگر بیوی کی وجہ سے گھر ٹوٹ جائے،  ماں باپ ناراض ہو جائیں اور الگ ہو جائے؛ تو پھر بھی کسی صورت جائز نہیں کہ بیوی سے اس کا سوال کیا جائے۔ اگر فوج سے ملک ٹوٹ جائے تو بھی کسی صورت جائز نہیں کے ان سے کسی قسم کی جواب طلبی ہو۔

عوام اور شوہر مرے جئیں لیکن فوج اور بیوی کے اخراجات پورے کرنے اولین ترجیح ہے۔ اور ہاں یاد رکهیں کبھی غلطی سے بھی ان اخراجات کا حساب نا مانگا جائے نہیں تو فوج کے بوٹ اور بیوی کے طعنے سخت اذیت کا باعث بنیں گے. بیوی منہ بنا کے کہے گی کہ ہاں میں تو میکے والوں کو کهلاتی ہوں، آپ کو میرا کھایا تو نظر آ جاتا ہے مگر خود جو گل شرے اڑاتے ہیں ان کا حساب کون دے گا. بلکل ایسے ہی آرمی کو مقدس گائے سمجھنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ہاں ہاں آپ کو سیاست دانوں کی کرپشن اور عیاشی نظر نہیں آتی اور فوج کی نظر آ جاتی ہے۔

جیسے بیوی اور شوہر کی بحث میں سچی صرف بیوی ہوتی ہے ایسے ہی عوام اور فوج کی بحث میں سچی صرف فوج ہوتی ہے.

گھر اور ملک چلانے کے لیے بیوی اور فوج سے کمپرومائز کرنا وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیوی اپنے اختیارات استعمال کر کے جیسے گھر کو یرغمال بنا سکتی ہے، ایسے ہی فوج کسی بھی وقت مارشل لا نافذ کر کے ملک کو اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔  اور مزے کی بات کہ یہ ایکشن گھر اور ملک کے وسیع تر مفادات کی خاطر لیا جاتا ہے۔

اور ہاں یاد رکھیے، ظالم ہے، بری ہے، جیسے بھی ہے؛ فوج ہو یا بیوی، ہے تو اپنی۔

لیکن ایک بات میں فوج بیوی سے سبقت لے جاتی ہے۔  وہ ہے بیوی کو طلاق کی اور دوسری شادی کی دھمکی دی جا سکتی ہے۔ لیکن فوج پر ایسی کوئی دھمکی اور اختیار استعمال کرنا ملک سے غداری شمار ہوتا ہے اور اگر آپ خود سابقہ فوجی نہیں تو یہ مقدمہ ضرور چلے گا۔

رہے بیچارے شوہر اور عوام، تو وہ تو ہیں ہی، ” ظالم شوہر اور بلڈی سویلینز”

بیوی خاندان کا ایک اور ذمہ دار ستون ہے جس کے بغیر خاندان کسی صورت سلامت نہیں رہ سکتا۔ ایسے ہی فوج بھی ملک کا ایک طاقتور اور ذمہ دار ستون اور ایک اہم ترین ادارہ ہے جس کے بغیر ملک کا بحال رہنا ممکن نہیں رہتا. لیکن بیوی اور فوج دونوں کو اپنی حدود کو پہچاننا چاہیے، نا کہ اپنی حدود سے تجاویز کریں اور نا ہی خود کو اس مقام پر سمجهیں کہ ان سے سوال نہ کیا جا سکے۔

بیوی اور فوج دونوں سے محبت اور انکا احترام لازم ہے۔ لیکن ان پر گھر کے اندر تنقید جائز سمجھی جائے۔ اگر دونوں اپنے گھر میں اور ملک میں شوہر اور عوام کی زبان کو تالے لگا دینگے تو پھر شوہر پڑوسیوں کے گھر اور عوام بیرون ملک شکایتیں لگانے لگ جائیں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *