گھٹیا افسانہ نمبر 5۔۔۔۔۔فاروق بلوچ

ملک کی مشہور ترین یونیورسٹی کی مضبوط ترین مذہبی سیاسی جماعت کے طلباء ونگ کے ناظم الامور کے طور پر صوبائی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کا پہلا موقع ہے. مرکزی ناظم الامور ولادتِ مولانا کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کر رہے ہیں “محسنِ تحریک کی صفت جس نے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا وہ ان کی ثابت قدمی ہے. اپنی زندگی کے آغاز میں ہی انہوں نے جس منزل کا انتخاب کیا، زندگی کی آخری کمزور ترین سانس تک وہ اس پر قائم رہے. مولانا محترم نے دین اسلام کیلئے ثابت قدمی سے جہاد کی عظیم خدمت انجام دی کہ وہ اسلامی جہاد کی ایک علامت بن گئے. یہ ان کا قرآن و سنت سے اصلی تعلق کا اعجاز تھا”. میں اگلی صبح حمیتِ اسلامی اور ملتِ واحدہ کے جذبوں سے سرشار یونیورسٹی لوٹ چکا ہوں، اماں جی سے بات ہوئی تو کہنے لگی “تینوں اللہ نے تحریک دے وچ حصہ پونڑ لئی پسند کیتا اے اللہ دا شکر کیتا کر سِر نو نیواں رکھیا کر پچھلی واری میں سنڑدی آں توں کسے سیکولر منڈے دی بانہہ وَڈ دتی آ، اودی ماں دی بدعا توں ڈر عاجزی لے کے آ، اللہ دی مخلوق نال عاجز ہو”. مجھے رکنیتِ اعلی کے مقبول مذہبی و تنظیمی عہدے کے لیے ایک مخصوص لٹریچر کو پڑھنا ہے، آج تیسرا روز ہے، میں محسنِ تحریک کی کتاب کے پانچوں باب میں یہ درج کی گئی آیت اور اُس کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں:
وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ أَثَاماً (الفرقان:۶۸)
”اور جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو ناحق قتل نہیں کرتے ہیں، اور وہ زنا نہیں کرتے، اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا”.
مولانا اس آیت کی تفسیر میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
“فساد فی الوقت، تعدی فی زمانہ اور فتنہ فی الارض کا مرض جس طرح فرد میں وارد ہو سکتا ہے، اسی طرح معاشرہ اور جماعتیں بھی اس میں مبتلا ہو سکتی ہیں، تسلیم کر لیجیے کہ قصاص کا یہ قاعدہ جیسے ایک فرد کے لیے ہے، معاشروں اور جماعتوں کے لیے بھی ویسا ہی ہوتا ہے. اگر کافروں کا ایک اجتماع جبر اور قوت کے بل بوتے پر مسلمانوں کی مال و متاع اور ملکیت و معیشت کو تباہ کرنے کی تمنا کرے یا کمزور مسلمانوں پر اپنی بالادستی منوانے کے لیے اُن پہ ظلم وستم کرے یا مضبوط ریاستوں میں وسعت کے شوق میں مسلمانوں کی آزادی اور مذہب کو سلب کرے یا امت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ضمیر کے عین مطابق ایک طریقِ حیات کو اختیار کرنے کی آزادی چھین لینے کا خیال بھی دل میں لے آئے تو ہر اس قوت کے خلاف جہاد میں شرکت کرنا اور اس کی حکومت کے خاتمہ کروانا ایک مذہبی فرض کی بن جاتا ہے”. مجھے یاد آیا میں نے تو آج شام رضوان شہید کی محاذ پہ شہادت کی مبارک دینے اور صبر کی تلقین کرنے اُس کی والدہ محترمہ سے ملنے جانا ہے،۔۔۔۔اللہ اکبر اپنی مصروفیات کو ڈائری میں لکھنا کب شروع کروں گا.

میں جتنی سپیڈ سے موٹرسائیکل چلا سکتا ہوں چلا رہا ہوں. اگر سموسے ٹھنڈے ہو گئے تو بیوی نے گولی مار دینی ہے اُس کی سہیلیاں سموسوں کی منتظر ہیں. میں کہاں دفتر میں مصروف تھا اِس کا میسج آ گیا. نوری چوک سے جعفری کے چکن سموسے لیکر نظیر روڈ والے پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوا کر اب بھاگم بھاگ گھر پہنچا ہوں، عجیب عورت ہے، آدھ کھلے دروازے سے سموسوں کا شاپر لیکر چھ بجے سے پہلے آنے سے منع کر رہی ہے. لو جی میں نے کونسا اِس کی سہیلیوں پہ بُری نظر ڈالنی ہے. میں تو اپنی بیوی سے بھی خلوت میں جانے سے گھبراتا ہوں. چلو اِس بہانے جان تو چھوٹی ورنہ شام گئے اِس  کے نخرے اٹھانے پڑ جانے ہیں. میں دل ہی دل میں آج جلد سو جانے کی اجازت سے خوش خوش دفتر واپس لوٹ چکا ہوں. پچھلی جمعرات جب اِسے اِسکی سہیلی کے گھر اِس کو چھوڑنے گیا تو جس لڑکے نے موٹرسائیکل کا ہارن سن کے گیٹ کھولا تھا بس اُس کے بارے میں پوچھ بیٹھا کہ کیا وہ تمہاری سہیلی کا بھائی تھا. اُس کے بعد جو عورت نے جھگڑا کیا کہ تم انتہائی شکی آدمی ہو بہانے بہانے سے سوال جواب کرنا چاہتے ہو. تمہارا اگر یہ خیال ہے کہ میں تم سے خوش نہیں ہوں بلکہ میرے خدا نخواستہ لڑکوں سے چکر ہیں تو اپنے کمزور جسم کی طرح اپنے کمزور دماغ کا بھی علاج کرواؤ. اب ایسی عورت کے سامنے بندہ بس عزت سے وقت گزارتا رہے تو بہتر ہے.

ڈاکٹر ناصر میرا مرض جان چکا ہے، ٹھیک ہے تجربہ کار فزیشن ہے مگر اتنا جلدی معاملہ سمجھ کر الٹا مجھے یہ بتانا شروع کر دیا ہے کہ فلاں مسئلہ بھی ہوتا ہو گا فلاں بات بھی ہوتی ہو گی، حیران کن صلاحیت کا حامل ہے. میں تو یہی بتایا کہ بس سستی اور کاہلی کا دورہ پڑ جاتا ہے اور کمر بھی درد کر رہی ہے. ناصر مخصوص انداز میں بلا رہا ہے
“کبھی کبھار نہاتے ہوئے کپکپا دینے والی سردی کی لہر دوڑ جاتی ہو گی”.
“ہاں کبھی کبھار”، میں سوچ رہا ہوں، “ہاں ہاں ایسا تو پچھلے تین چار ماہ میں کئی بار ہو چکا ہے”.
“سرکار کے دل کی کی کیا حالت ہے”.
“بھائی دل چَکا چَک لگ رہا ہے”.
“سرکار آپ کے دل لگانے کی طرف سے ہمیں تسلی ہے، جناب کا بیہودہ دل کبھی کبھار رفتار کچھ بڑھا لیتا ہو گا”.
“اب آپ مجھے دل کا مریض نہ بناؤ، بس کمر درد ہے”، میں نے منہ بنا کہہ ہی دیا ہے. ناصر نے قہقہہ لگا کر کرارا جواب دیا کہ تجھے غیرت کا مرض ہے دل تیرے میں کوئی مرض نہیں ہے. ویٹر آکر چائے پیش کر رہا ہے، ناصر کچھ خاموش ہوا میں نے ترت پتہ پھینک دیا ہے.
“یار پہیلیاں کیوں بُجھوا رہے ہو”.
“یار پورا حال لے نہیں رہا، بتا رہا ہوں مگر آنجناب کو بہت جلدی ہے، یہ ٹینشن کے مریض کی بڑی نشانیوں میں سے ہے”.
“کیا مطلب تم کہنا کیا چاہتے ہو”.
“اب تم کہو گے کہ نہ تمہیں پسینہ شروع ہو جاتا ہے اور نہ ہی تمہارے پٹھوں میں کھچاؤ محسوس ہوتا ہے، اچھا بلکہ یہ بتاؤ کیا تم بےچینی اور تھکاوٹ محسوس کر رہے ہو ناں”.
“ہاں ایسا بھی گذشتہ تین چار ماہ سے ہو رہا ہے”. میں نے سچ سچ بتانے میں عافیت جانی ہے. ناصر مزید کچھ کہہ رہا ہے:
“تم یقیناً تشویش اور کشیدگی و بےچینی کے احساس میں مبتلا رہتے ہو گے. بلکہ تم تو اپنے ایسی جگہوں سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہو گے جہاں زیادہ سوال جواب کیے جانے کا امکان ہو”. میری آنکھیں حیرت سے باہر آنے کو ہیں، میرے نجی حالات ناصر کو کیسے معلوم؟ ناصر بتا رہا ہے کہ یہ سب ٹینشن اور ڈپریشن کی علامات ہیں. وہ کوئی نسخہ لکھ رہا ہے اور ساتھ ساتھ مجھے ڈپریشن سے بچنے کے روایتی طریقے بتا رہا ہے، مگر میرا دماغ کسی دوسری طرف ہے. میں اُٹھ کر راحیل کے پاس آ گیا ہوں، مگر دماغ میں ناصر کی بات اٹک گئی ہے کہ ٹینشن آپ کے دماغ، آپ کے جسم، آپ کے جذبات اور آپ کے رویوں کو شدید متاثر کرتی ہے. راحیل کو سارا معاملہ بتا رہا ہوں. راحیل بولا
“لالہ ہم انگزائٹی، ڈپریشن، ٹینشن وغیرہ سے نہیں بچ سکتے، اب یہ نئی ٹینشن مت پالو کہ ہمیں ٹینشن ہے، جو ہے چلنے دو، نہ ہم کچھ کر سکتے تھے نہ کر سکتے ہیں”
“یار بیماری ہے علاج تو کروانا چاہیے”
“کروا، نہیں ہونے والا علاج، اِس کا علاج سماج میں ہے، ادویات تری آنکھ بند کروا سکتی ہیں، تیرے حالات نہیں بدل سکتیں، اِن مہنگی ادویات نے جو کچھ تجھے دینا ہے وہ فقیر کی دس روپے کی سگریٹ دے سکتی ہے اور وہ بھی آرگینک نہ کہ یہ والا ادویاتی تیزاب”
میں راحیل کی  بات کو سن کر شش و پنج میں مبتلا ہو گیا ہوں. راحیل میری حالت کو دیکھ کر بول  رہا ہے کہ
“کلومپرمین کی دوا تجھے پرسکون اس لیے رکھے گی مگر تیری ٹینشن کی وجوہات ختم نہیں ہوں گے تاوقتیکہ تیرے اوپر گولی کا اثر ہی ختم ہو رہے”.
میں یہی سوچ رہا راحیل بھی درست کہہ رہا ہے. “پھر میں کیا کروں؟” سوال داغنا بھی بنتا ہے.
“تم سے نہ ہو پائے گا لالہ، اِس کے فقیری اپنانی پڑتی ہے، لالہ میرا دل بھی کرتا ہے کار خریدوں، کار پہ بابو سر ٹاپ جاؤں، 70 ہزار والے سام سنگ سے سیلفی بنانا مجھے بھی آتا ہے، مجھے بھی مخلوط پارٹی میں شراب پی کر شعر سنانا آتا ہے، مجھے بھی معلوم ہے پی سی لاہور میں کتاب کی رونمائی کیسے کروائی جاتی ہے”.
“لیکن اِس بات کا میری بات سے کیا تعلق؟”، میرا زچ ہونا بنتا بھی ہے.
“پہلے میری بات کا جواب دے”
“ہاں تجھے یہ سب کرنا آتا ہے”
“اگر مجھے سب کرنا آتا ہے تو میں کرتا کیوں نہیں؟”
“کیونکہ ترے پاس پیسے نہیں”
“ہاں ایگزیکٹلی” راحیل اچھل پڑا ہے اور بات جاری رکھے ہوئے ہے، “اب میرے پاس دو حل ہیں، یا تو اپنی جتنی اوقات کی چیزوں میں بہتری لاتا رہوں، زیادہ شوق نہ پالوں، کوشش کروں کہ سماج میں پنپتی مقابلہ بازی سے دُور ہی رہوں”
” ایسا ممکن ہے؟”
“نہیں”
“تو پھر اِس بکواس کا مقصد”
“تجھے تیری ٹینشن سے کچھ دیر کے لیے چھٹکارا دیا ہے، اور کچھ بھی نہیں”.

جاری ہے

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *