قصّہ ایّام۔۔۔۔۔ناصر خان ناصر/حصہ اوّل

وہ نوجوانی کے دن ہی تھے جب میں خالی ہاتھ پردیس آیا۔۔۔
پیارے محترم بڑے بھائی  صاحب نے یہاں لانے، اپنے گھر رکھنے اور ہر طرح سے خیال رکھنے میں مکمل تعاون کیا۔ انھوں نے ہی تعلیم کا سارا خرچہ اٹھایا۔ وہ اس سے قبل باقی چار بہن بھائیوں اور بوڑھے ماں باپ کو بھی امریکہ لا کر سیٹ کروا چکے تھے۔ وطن میں دوسرے غریب رشتہ داروں کی بھی ہمیشہ مالی امداد کرتے رہتے تھے۔ ان کے اپنے بھی چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور ان کی امریکن بیگم اس بنا پر ان سے نالاں رہتی تھیں کہ وہ اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں پر اپنی کمائ کیوں اس طرح لٹاتے رہتے ہیں؟

امریکہ میں کلچر بالکل مختلف ہے اور یہاں لوگوں کی ذہنیت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ ہماری امریکن محترمہ بھابھی صاحبہ کا اس میں کوئی  دوش نہیں تھا۔ وہ بے حد اچھی خاتون ثابت ہوئیں اور انھوں نے ہم سب کا اتنا خیال رکھا کہ شاید پاکستانی لڑکیاں بھی اپنے سسرالی رشتہ داروں کا اتنا خیال کم کم ہی رکھ سکیں۔

tripako tours pakistan

نوّے کی دہائی اوراس کے بعد کے کچھ نمایاں غزل گو (مختصرترین انتخابِ کلام کے ساتھ)۔۔۔۔۔۔ رحمان حفیظ

قصہ مختصر ہماری پڑھائی  کے پہلے کچھ سمیسٹرز کا خرچہ تو ہم نے ان سے مجبوراً  لیا مگر پھر جب انگریزی بولنا سیکھ لی تو ہم نے اپنی یونیورسٹی ہی میں نوکریاں کرنی شروع کر دیں۔۔۔
اپنے ہوسٹل کے ڈیسک پر ہمیں دو تین گھنٹے روزانہ کی نوکری مل گی۔ یہ ایک بے حد آرام دہ جاب تھی۔ ہم لابی میں بنے ڈیسک پر بیٹھے رہتے۔ ہر آنے جانے والے کا نام رجسٹر میں لکھتے، طلبا کو لانڈری مشینوں یا گیم کھیلنے والے کمپیوٹرز کے لیے چینج دیتے اور ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی  بھی کرتے رہتے۔

جلد ہی ہمیں RA کی دوسری جاب بھی مل گی۔ ہمارا ہوسٹل ایک نو منزلہ عمارت تھی۔ ہر منزل کے لیے ایک RA تھا جو اپنی منزل پر رہنے والے قریبا ً سو طلبا کی دیکھ بھال یا ہر طرح کی مدد کرتا۔ یہ RA یعنی Resident assistant کسی کمرے میں توڑ پھوڑ یا بجلی پانی ائیر کنڈیشنر وغیرہ کی خرابی ہو تو متعلقہ لوگوں کو فون کر کے انھیں ٹھیک کرواتا تھا۔
ہم اپنی لگن اور محنت سے اس کام میں جھٹ پٹ یوں طاق ہو گئے کہ اچھوں اچھوں کو طاق پر رکھ دیں۔
ہمارے کام کی لگن اور محنت دیکھ کر ہمیں ایک ہی برس میں اسسٹنٹ ہال ڈائریکڑ کی ترقی مل گئی ۔۔۔

ویک اینڈ پر اور چھٹیوں میں ہم دوستوں سے رائیڈ لے کر سو ڈیڑھ سو میل دور بڑے شہر نیو اورلینز آ جاتے۔ تب ہمارے پاس کار بھی نہیں تھی اور یہاں کار کے بغیر ہر شخص بیکار کہلاتا ہے۔۔
یہاں ایک مہربان ہندو سیٹھ کی فرنچ کوارٹر میں بہت سی دکانیں تھیں۔ وہ بے حد مہربانی کرتا اور ہر بار ہمیں مختصر نوٹس پر ہی فورا  ً ملازم رکھ لیتا۔
ہم نے یہاں بھی دل لگا کر محنت کی۔ رات کے ٹھہرنے کا مسئلہ  رہتا۔ اگرچہ یہیں ہمارے بہن بھائیوں کے محل نما گھر تھے مگر ہمیں کسی کو تنگ کرنا ہرگز گوارا نہیں تھا۔
کبھی ہم کچھ دوستوں کو زحمت دے لیتے۔ کبھی رات کسی تھڑے پر گزار لیتے۔

اس زمانے میں ہمارا کہیں پر کوئی  گھر نہیں تھا تو ایک بار ہم نے دعا مانگی۔ یا اللہ جتنی میری باہیں کھل سکتی ہیں صرف اتنا بڑا ہی میرا اپنا گھر مجھے دے دے۔۔۔
ایک بار ہم نیو اورلینز کام کرنے کے لیے آئے تو ہماری جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی۔۔۔بھوک سے برا حال تھا۔۔۔
ہم نے دعا مانگی۔
کچھ ہی دیر میں ایک کسٹمر آیا اور اپنا بچا ہوا کھانا ہمیں دے کر چلا گیا۔۔۔
ہمیں خدا کے ہونے کا مکمل یقین ہے۔ کیونکہ ہم نے اس سے باتیں کی ہوئی  ہیں اور اس نے ہمیشہ ہمیں جواب بھی دیا ہے۔

رقص گر۔۔۔نیلم احمد بشیر/نظم

اسی قسم کا ایک اور قصہ پہلے بھی پیش آیا تھا۔
ہمارے پیارے بڑے محترم بھائی  نے ہمیں میڈیکل پڑھنے کے لیے ایک ملک ڈومینکن ری پبلک میں بھجوایا۔ وہ کالج ایک فراڈ قسم کا تھا اور ہمارا دل بھی وہاں نہیں لگا۔ بھائی  کے لگائے پیسے ضائع کر کے امریکہ واپس آئے تو وہ بہت جزبز ہوئے۔ سارے بہن بھائیوں کو ہم پر بہت غصہ آیا۔ محترمہ بھابھی صاحبہ نے تو ہمارے منہ پر ہی کہہ دیا کہ اب ہم ان کے گھر نہیں رہ سکتے۔
مجبورا ً بھائی  ہمیں پچاس میل دور اس گھر میں چھوڑ آئے جو انھوں نے والدین کے لیے ایک امریکن گا ؤں میں خریدا تھا۔ ہمارے والدین ان دنوں پاکستان گئے ہوئے تھے اور گھر خالی پڑا تھا۔
بھائی  ہمیں گھر کے دروازے پر ہی چابی دے کر چھوڑ کر چلے گئے اور ہمارے پاس کار تھی نہ پیسے۔۔۔

گھر کے اندر ایک ایک الماری، ایک ایک برتن دیکھ لیا۔ کھانے کے نام پر کہیں بھونی بھانگ تھی نہ پھوٹی کوڑی۔ ہمیں پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھ کر صرف خالی گھر ہی بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔
پُرفضا دیہی علاقے میں یہ خوبصورت رینچ محترم بھائی  صاحب نے ہی والدین کو خرید کر دی ہوئی  تھی۔ یہاں وہ اپنی پسند سے پھل سبزیاں اگاتے اور مزے سے آرام دہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اگرچہ تنہائی  کی بنا پر ان کا دل نہیں لگتا تھا تو وہ سال کے چھ ماہ یہاں رہتے اور چھ ماہ پاکستان واپس چلے جاتے۔ ان کے امریکن پڑوسی بے حد خدا ترس لوگ تھے اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھتے تھے۔

ان دنوں والدین حسب معمول پاکستان واپس گئے ہوئے تھے۔ پاکستان جانے سے قبل وہ گھر سے کھانے پینے کی ساری چیزیں کوڑے میں پھینک کر جاتے تھے کہ پیچھے کہیں خالی گھر میں چوہے یا کاکروچز نہ پیدا ہو جائیں۔
اس دن آنسو خود بخود ہماری آنکھوں سے ٹپکے اور دعا بن گئے۔۔۔
ہم گھر سے نکل کر باہر باغیچے میں آئے۔ یہاں کسی نے لمبے عرصے تک پودوں کو پانی تک نہ دیا تھا اور وہ بری طرح سوکھ رہے تھے۔ ہر طرف جھاڑ جھکنار اُگ رہا تھا۔ سیب ناشپاتی اور آڑو کے درخت سوکھ چکے تھے۔
ہمیں وہاں بھی کھانے کی کوئی  چیز کہیں نہ ملی تو اداسی سے اپنا سر جھکا دیا۔۔۔
خدا کا نام لے کر اک سمت چلنا شروع کیا۔ نزدیک ہی گھنا جنگل تھا اور بہتی ہوئی  چھوٹی سی قدرتی ندیا۔۔۔
آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ وہاں ایک بیل میں دو تین پکے ہوئے تربوز ہمارا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔ خدا کیڑے کو پتھر میں روزی دینے والا رازق اور رزاق ہے۔۔۔۔ ہم لاکھ گناہگار سہی مگر وہ ہمیں کہاں بھول سکتا تھا۔

اے غریب الدیار، ابن سبیل کون ہے تو؟(مکالماتی تمثیلچہ)۔۔۔۔صائمہ نسیم بانو
ہم نے وہیں کھڑے کھڑے خدا کا شکر ادا کیا۔ تین چار روز وہی تربوز ہماری دو وقت کی روٹی بنے۔تربوز کھانے سے قبل ہم نے باغ میں جا کر سارے سوکھتے مرجھاتے پودوں کو خوب پانی دیا۔ اس وقت تو ہمیں احساس نہیں ہوا مگر اب خیال آیا ہے کہ پروردگار کی مثیت ایزدگی دراصل یہ تھی کہ ہم اپنی بھوک پیاس بھول کر ان مرتے ہوئے بے زبان پودوں کو بچا لیں۔

چند روز میں ہمارے امریکن پڑوسیوں نے ہمیں دیکھ لیا تو وہ ہر کھانے پر ہمیں زبردستی پکڑ کر ساتھ لے جانے لگے۔ چند دن بعد ہماری یونیورسٹی بھی کھل گئی ۔۔
ہم نے اسی طرح تین تین نوکریاں کر کے اپنی فیسیں بھی بھریں اور پڑھائی  بھی کی۔ کام کرنے میں کوئی  عار نہیں ہے۔ کام اور محنت کرنے کی عادت ہمیں گھٹی میں ملی۔ جب سے ہوش سنبھالا، والد محترم کو گھر سے دور محنت کرتے اور والدہ کو دن رات سر جھکا کر سلائی  مشین پر چپ چاپ محلے بھر کے کپڑے سیتے ہوئے ہی پایا۔ انھوں نے قلیل آمدنی کے باوجود اسی طرح محنت کر کے ہی اپنے سارے بچوں کو اعلی تعلیم دلوائی  تھی۔۔
پیسہ پیسہ بچا کر کچھ عرصے کے بعد ایک پرانی کار بھی خرید لی۔
پٹرولیم انجینئرنگ کی ڈگری بھی مل گئی ۔ مگر ایک نئی  قیامت ٹوٹ پڑی۔۔۔
تیل کی قیمتیں یکدم دھڑام سے نیچے گر پڑیں اور اس شعبے کی ساری نوکریاں ندارد ۔۔۔
ساری جابز اڑنچھو ہو گئیں اور ہمارے خواب منتشر۔۔۔
دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے۔۔۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *