حیا سے حیات۔۔۔۔۔سائرہ نعیم

اللہ تعالی نے ہر انسان کو فطرتِ سلیم پر پیدا فرمایا اور کچھ خاص خوبیاں، خصوصیات ہر انسان کے ضمیر میں ڈال دی گئیں۔ جن میں سے ایک شرم و حیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں حیا اور شرم صرف خواتین کے لئے مخصوص کردی گئی ہیں۔ مرد اس وصف سے نابلد نظر آتے ہیں بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ بہت سے مرد اسے خاطر میں ہی نہیں لاتے۔ حالاں کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کنواری عورت سے بھی زیادہ حیا دار تھے اسی طرح آپ کے صحابی حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ بھی نہایت حیا دار تھے۔ اللہ تعالی نے مرد و زن کے لئے حیاداری کو پسند فرمایا بلکہ احکامات بھی نازل کئے ہیں۔

حیا اللہ تعالی کی صفت ہے اس کا ذکر کتاب و سنت میں موجود ہے۔ یہ تمام تر اخلاقی اقدار کا سر چشمہ ہے۔ حیا ہی انسان کو برائی سے روکتی اور اچھے کاموں کی ترغیب دلاتی ہے۔ حیا ان اخلاقی اقدار میں شامل ہے جو زمانۂ نبوت سے معتبر و مطلوب ہیں۔ حیا سے اشرف المخلوقات سمیت فرشتے بھی موصوف ہیں۔ حیا ایک نور ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں استقامت پر مجبور کرتا ہے۔ دل میں حیا پختہ کرنے کے لئے اللہ تعالی کی نعمتوں اور احسانات کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔ اور اس کے مقابلے میں اپنے اعمال کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اور یہ تصور بنانا چاہیے کہ اللہ تعالی اسے ہر وقت دیکھ رہے ہیں۔ سن رہے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہیں۔ انسان کو تنہائی میں اپنے آپ سے بھی حیا کرنی  چاہیے تا کہ ظاہر و باطن دونوں پاک صاف ہوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دعائیں ثابت ہیں ان میں سے ایک یہ ہے: “اے اللہ میرے نفس کو تقوی’ عطا فرما، اس کو پاک کر اور آپ سب سے بہتر پاک کرنے والے ہیں۔” حیا کا ماخذ حیات ہے تو جس قدر دل میں حیا ہوگی اسی مقدار میں حیات بھی ہوگی اور جس قدر انسانی دل باحیات ہو گا تو اتنا ہی با حیا بھی ہوگا۔ تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی امتوں کو حیا کی ترغیب دلائی۔ حیا انسان کو با ادب ہونے پر ابھارتی ہے۔ اعلی’ ترین حیا وہ ہے جو اللہ تعالی’ سے ہو یعنی اللہ تعالی’ آپ کو ایسی جگہ نہ پائے جہاں سے اس نے روکا ہے۔ اور وہاں سے آپ کو غیر حاضر نہ پائے جہاں کا اس نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالی’ کا حق زیادہ بنتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ “اللہ تعالی’ سے کما حقہ حیا کرو” (ترمذی)۔

انسان کے ساتھ ہر وقت فرشتے ہوتے ہیں ان فرشتوں کے احترام میں یہ شامل ہے کہ ان سے حیا کریں۔ علامہ ابن قیم رح کہتے ہیں کہ ان معزز محافظوں کا احترام کرو اور انہیں ایسی حرکات دکھانے سے شرم کرو جو تم انسانوں کو دکھانے سے شرماتے ہو۔ اللہ تعالی’ کو اپنے اسماء اور صفات بہت پسند ہیں اور اللہ تبارک و تعالی’ اپنی صفات کے اثرات اپنی مخلوق میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالی’ نے ان کے واسطے سے دعا کرنے کی تعلیم فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے: “اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں، اللہ کو ان ناموں سے پکارو” (الاعراف ۱۸۰)

دین اسلام خوبیوں اور امتیازی صفات کا دین ہے۔ یہاں اگر خواتین کو اپنا آپ چھپانے کا حکم دیا گیا ہے تو مرد حضرات کو بھی آنکھیں نیچی رکھنے اور خواتین کی عزت کرنے کا حکم دیا ہے۔ غیر محرم سے دونوں اصناف ہی کو حیا داری برتنے کا حکم ہے۔ ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا و شرم کی وجہ سے ڈانٹ کر کہہ رہا تھا: “تم بہت حیا کرتے ہو، تمہاری حیا نے تمہیں نقصان پہنچایا ہے؛ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے چھوڑ دو حیا تو ایمان کا حصہ ہے” (متفق علیہ )۔

نبی پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: “حیا خیر ہی خیر ہے.”(مسلم) دعا کیجیے کہ اللہ تعالی’ ہمیں، ہماری نسلوں کو حیا و حجاب کے تقاضے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین
(الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم کے مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ سے ماخوذ)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *