ڈیفنس کے رہائشی کا کھتارس، کس سے شکایت کریں۔۔۔ اعظم معراج

پچھلے کافی عرصے   سے ہر سال جب میں30 ستمبر سے پہلے باقاعدہ لائیوں میں لگ کرصرف نیشنل بینک کی ایک دو مخصوص برانچوں میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے سالانہ ٹیکس بھر کر آتا ہوں( یہ میں آج تک نہیں سمجھ سکا، یہ بل تمام بینکوں میں کیوں نہیں بھر سکتے ) اور جس میں پانی کا ٹیکس بھی شامل ہوتا ہے اور یہ ہرسال پچھلے برس سے زیادہ ہوتا ہے ،اور اچھا خاصا ہوتا ہے، تو مجھے سمجھ نہیں آتی میں اپنا احتحاج کس کو ریکارڈ کرواؤں، کیوں پورا سال پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اچھا خاصا پریشان ہونا پڑتا ہے، جس میں پیسہ اور وقت دونوں ضائع ہوتے ہیں ،اور کبھی کھارا، کڑوا اور کبھی گندا پانی مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے، اس پورے مسئلے میں سب سے بڑا ریلیف کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈرائیور حضرات کے ذریعے ملتا ہے، جو دفتری عملے کی ملی بھگت سے مجھے میرا ہی پانی خاصے مہنگے داموں فروخت کر جاتے ہیں، مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی اس مسئلے کا حل کس کے پاس ہے میرے علاقہ کونسلر احمد جہانگیر جو سی بی سی ڈرائیور کے بعد میرا دوسرا بڑامحسن ہے،اور اکثر مدد کر دیتا ہے،اورمیرے حق کو میرے لئے احسان بنا دیتا ہے۔

خیر یہ میرے معاشرے کا المیہ ہے۔جس پر مقالہ جات لکھے جاسکتے ہیں۔۔کہ کیسے بائیس کروڑ کے وسائل پر قابض میں سے کچھ وسائل ہم غلاموں کو واپس کرنے والی اشرافیہ ہماری نسلوں پر اپنی آنے والی نسلوں کا بھی احسان جتاتی ہے۔ یا کنٹونمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین کاجو ووٹوں کے دنوں میں گھر گھر پھرتے ہیں اور اب منتخب ہونے کے بعد کوئی ایسا نظامِ وضع نہیں کر سکے جس سے لوگوں کو عزتِ سے پانی خریدنے کا ہی موقع مل جائے پانی خریدنے کے لیے بھی ڈیفنس کے رہائشیوں کو ان کے دربار میں پیش ہو نا پڑتا ہے، یا پھر اس ایگزیکٹو آفیسر کو جس کے سارے ٹور ٹپے اور تنخواہ  میرے اسی سالانہ ٹیکس سے ادا ہوتی ہے اور مجھے یقین ہے میرے اس نوکر کو کبھی پانی کا مسئلہ نہیں ہوا ہوگا ،جو تنخوا ہ تو میرے ٹیکسوں سے لیتا ہے لیکن نوکری شاہوں کی کرتا ہے اور تو اور اب تو کہلاتا بھی شاہی نوکر یا نوکر شاہی ہے ،یا پھر ریزیڈنٹ ایسوسی  ایشن والوں سے شکایت بنتی ہے، جو پچھلے کئی سالوں سے ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے ،سی ای او سی بی سی یا دیگر ایسے افسران سے چائے پینے کی تصویریں بنواتے ہیں اور اپنے عہدے داروں کے گھروں کے لیے ٹینکرز جاری کرواتے ہیں یا پھر چیئر مین کنٹونمنٹ بورڈ سے شکایت کروں جو اس سول آبادی کے الیکٹڈ سلیکٹڈ سب نمائندوں کےچیئر مین ہیں اور اپنی اسٹیشن کمانڈر کی ذمہ داریوں کے ساتھ اس ذمہ دار ی پر توجہ نہیں دے پاتے اور اس لیے سالوں سال سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ،یا پھر ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے سے جس سے اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں کا پانی تو پورا نہیں ہوتا لیکن اس نے مقابلے کی ٹھانی ہوئی ہے ہاؤسنگ انڈسٹری کی مارکیٹ کے بڑے پلیئرسے (گو کہ ڈی ایچ اے اس انڈسٹری کے یہ چند بڑے  سٹیک ہولڈر میں سے ہیں، لیکن ان کی شروعات اپنے ادارے کے لوگوں کی فلاح کی نیت سے ہوئی تھی۔اب یہ ادارہ اپنے اس مقصد سے ہٹتا جا رہا ہے) سے یا پھر ڈی جی کنٹونمنٹ بورڈز کی منت کروں بھائی کبھی کبھار اس کنٹونمنٹ بورڈ کے رہائشیوں کا حال بھی پوچھ لیا کروں، جو پانی کے ساتھ دسوں اورطرح کی کنٹونمنٹ بورڈز اور ایم ای او کے نوکروں کی چیرا دستیوں کا شکار رہتے ہیں یا پھر کور کمانڈر صاحب کی یہ ذمہ داری ہے جو آئے دن ڈی ایچ اے کے زیر انتظام کسی نئے پراجیکٹ کا افتتاح کرتے ہیں کہ  وہ متعلقہ لوگوں سے پوچھ لیں بھی پرانے رہائشیوں کا کیا حال ہے یا( اگا دوڑ اور پیچھا  چھوڑ) والا معاملہ ہی کیا ہوا ہے ،یا پھر آرمی چیف سے شکایت کروں وہ ان سے پوچھے کہ قومی سلامتی کے ادارے کا نام ڈی ایچ اے سے جڑا ہوا ہے لہذا کچھ خیال کرو اپنے ممبران کا یا سیکرٹری دفاع صاحب کی یہ ذمہ داری ہے یہ سارے معاملات دیکھے ،وزیر دفاع صاحب جن کی کارکردگی کی بناء پر ترقی ہوئی ہے اور صوبے سے انھیں اقوام عالم کی ایک بڑی فوج کا وزیر بنا دیا گیا ہے وہ یہاں بھی کارکردگی دکھائے اور اس کے ثمرات ہم تک بھی پہنچے یا اگر اسمبلی اور سینیٹ میں کوئی دفاع کی کمیٹیاں بنی ہیں تو انھیں کہا جائے کہ جناب ہمارے نام پر آپ کو سہولتیں توحلف لینے سے بھی پہلے ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔

ہمارے لیے بھی کچھ  سوچے ۔۔یا پھر اس علاقے کے صوبائی نمائندے صاحب جو اب صوبے میں وفاق کے سب سے بڑے نمائندے ہیں کہ  وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کریں اور اس مستقل ذلت بھرے عذاب سے ان رہائشیوں کو نجات دلائیں یا پھر ان سب اداروں کے بڑوں کے بڑے سپریم کمانڈر افواج پاکستان صدر پاکستان اور اس حلقے سے دو دفعہ قومی اسمبلی کے میرے نمائندے بھی رہ چکے، جناب عارف علوی صاحب کو ترلا مارا جائے، جناب آپ ہی کچھ کریں آپ کو سب پتہ ہے، آپ تو اس مسئلے کے لیے سڑکوں پر بھی رہے ہیں، آپ پر پرچے بھی ہوئےہیں، پولیس کی سوٹیاں (ڈنڈے) کھانے سے بھی آپ کئی  بار بال بال بچے ہیں، لہٰذا آپ سےبہتر اس مسئلے کو کون جانتا ہے، آپ ہی کچھ کریں لیکن ان سب لوگوں سے شکایت کرنے کا میرا دل ہر سال ان دنوں ہی کرتا جب میں اچھی خاصی رقم ٹیکس کی مد میں دے کر آتا ہوں، ورنہ تقریباً دس بارہ سال پہلے میں ان سب لوگوں سے شکایت کیا کرتا تھا لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں یہ میرا مسئلہ حل نہیں کرسکتے بس محمد خان (کنٹونمنٹ بورڈ کے ٹینکرڈرائیور کا فرضی نام) میرا مسئلہ حل کر سکتا ہے۔ اور وہ یہ کام ہمیشہ کرتا بھی ہے بس جب یہ سب مل ملا  کر کچھ سختی کرتے ہیں تو مسئلہ حل نہیں ہوتا، بس محمد خان ریٹ بڑھا دیتا ہے اوپر بیان کیے گئے ذمہ داروں نے جب بھی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ،مسئلہ حل نہیں ہوا ،ہاں کچھ دن کھارا کڑوا اور گندا پانی پینا پڑتا ہے، پھر کچھ دن بعد محمد خان میرے فون کے جواب میں یہ کہتا ہے سر پانی تو مل جائے گا، بس سختی ہے ریٹ تھوڑا بڑھ گیا ہے۔ لہذا سب لوگوں سے گزارش ہے ۔ اسں ریاست کے تقریباً سبھی ادارے محمد خان ہی چلا رہے ہیں۔ بس ہمیں یہ کرنا ہے کہ جیسے تیسے کر کے محمد خان جیسے کرداروں کے لیے ایک دوسرے کی جیبیں کاٹ کوٹ کر انکے لئے پیسے جمع کریں ۔ ہاں ایک بات طے ہے کہ جن صاحبان کے نام میں نے اوپر لکھے ہیں اگر ان سب کو بھی پانی کے لئے اتنا ہی پریشان ہونا پڑتا ہے، تو پھر مجھے بلکہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کے کسی بھی رہائشی کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ کیونکہ جب حکمران اپنے لوگوں کے کسی بھی طرح کے دکھ انکے ساتھ بانٹ لینے کی عادت ڈال لیں تو دکھ کم ہوں نہ ہوں ۔ محسوس کم ہوتےہیں۔اب اس سارے معاملے میں ایک میرا کونسلر جسے مجھے اپنے بنیادی حق کے لئے گزارش کرنی پڑتی ہے۔گو کہ وہ ایک نفیس نوجوان ہے۔ زیادہ تر لے منت نہیں کرواتا بس جب اس کے بس میں نہ ہو، تو وہ کئی کئی دن فون نہیں اٹھاتا۔دوسرا محمد خان جو میرا ہی پانی چوری کرکے مجھے ہی اوپر بیان کیے گئے۔

حضرات میں سے کئی کی ملی بھگت اور کئی کی مجرمانہ غفلت سے بیچ جاتا ہے۔تیسرے ایک بے لوث محترم دوست ایم بی اے کے کلاس فیلو رئیل اسٹیٹ کے سینئر ساتھی ڈیفنس کے ہی ایک اور کونسلر زکریا بھائی ہیں ،جو اپنے کوٹے سے اکثر بغیر کہے ہی پانی بھجوا دیتے ہیں.وہ بھی کسی کی حق تلفی کیے بغیرِ کیونکہ کنٹونمنٹ بورڈ نے ایک سرکاری نظام متعارف کروایا ہے۔کہ اگر ڈیفنس کے رہائشی انکی نااہلیت اور بدنیتی کی بدولت لائن کے ذریعے پانی حاصل نہیں کر پا رہے تو۔۔ کنٹونمنٹ بورڈ کے دفتر  آئیں لائنوں میں دھکے کھائیں اور پانچ سو روپے جمع کروائیں اور اپنا پانی دوسری دفعہ  خرید لیں۔زکریا بھائی یا انکا کوآرڈی نیٹر یہ پیسے خود جمع کروانے ہیں جب ملاقات ہو میں شکریہ کے ساتھ ان سے رسیدیں لے کر انھیں پیسے دے دیتا ہوں اس پوری فہرست میں یہ ہی ہیںِ جن سے کوئی مجھے شکایت بھی نہیں اور ان کا میں احسان مند بھی ہوں۔ اور انکی سیاسی جماعت کے منظم انتظام کی وجہِ سے انکا کوآرڈی نیٹر مجھ سے فون کرکے پوچھ لیتا ہے۔بس دوستوں سے گزارش ہے۔اس تحریر کو پڑھنے کے بعد زکریا بھائی کو فون کرکے امتحان میں مت ڈالیے گا۔

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں  ، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *