غامدی کے جرائم۔۔۔عمیر ارشد بٹ

کل سے سوشل میڈیا پر جاوید احمد غامدی کے بارے میں مندرجہ بالا خبر گردش کر رہی ہے۔خبر پر روشنی ڈالنے سے پہلے محترم جاوید احمد غامدی کے خطرناک جرائم پر نظر ڈالتے ہیں

١۔ صرف اور صرف حضور ﷺ کی ہی ذات کو دین کا ماخذ مانتے ہیں۔ اور قرآن و سنت کے علاوہ کسی بھی منبع سے دین لینے سے گریز کرتے ہیں۔

٢۔ انہوں نے دین کو سیکھنے کا جو طریقہ اپنایا وہ ہمارے اسلاف کا تھا۔۔۔اسلاف کا طریقہ یہ تھا کہ انھیں جو علم حاصل کرنا ہوتا تھا وہ اس کے ماہر استاد کے پاس جایا کرتے تھے۔ اسلاف کا یہ ناقابل معافی جرم انہوں نے اولیا ٕ کے زمانے میں دہرا دیا۔

٣۔ قرآن وسنت کے علاوہ جو چیز ہو اسے اپنی راۓ کے طور پر بیان کرتے ہیں اور اس پر دین کا الاپ نہیں ٹپکاتے۔

٤۔ اگر کوئی انکی ذات پر بات کرے تو فوراً اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔

٥۔ اپنی راۓ کی غلطی واضح ہو جانے پر فوراً رجوع کرتے ہیں

٦۔ آج تک کبھی کچیڑ اچھالنے پر جواب نہیں دیا

٧۔ انہوں نے قرآن کا مخاطب انسان کو قرار دیا حالانکہ ہمارے معاشرے میں اسکا مخاطب علما ٕ ہوا کرتے تھے۔ ان کے اس جرم سے علما ٕ کے کاروبار پر فرق پڑا۔

٨۔ ان کا پاکستان میں رہنا مشکل تھا تو انہوں نے ہجرت جیسی سنت پر عمل کیوں کیا۔۔۔انہیں موت کو گلے لگانا چاہیے تھا۔

٩۔ وہ جب بھی بات کرتے ہیں اس میں رنگ بازی سے اجتناب کرتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان جیسے عظیم ملک میں رنگ بازی کے بغیر دین کا کام کیسے کیا جا سکتا ہے۔

١٠۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان کو اپنے دائرہ کار سے تجاوز کر کے اللہ کے اختیارات کو خود استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

ان پر لگے الزام کا جواب ہم انکی زبانی ہی جانتے ہیں۔۔

”میرا سارا کام لوگوں کے سامنے ہے- اصل میں میرے ساتھ اس وقت حادثہ یہ ہے کہ بہت سے مذہبی لوگوں نے یہ فیصلہ کر رکھا ہوا ہے کہ وہ میرے بارے میں جھوٹ بولیں گے، افترا کریں گے، بہتان لگائیں گے، پھر لوگوں میں اس کو پھیلائیں گے ، اور پھر اس کام کو کار ثواب سمجھیں گے- میں نے اس طرح کے سب لوگوں کا معامله الله کے سپرد کر دیا ہے- وہ عدالت بہت جلد لگنے والی ہے جس میں ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہوگا، درختوں کے پتے بھی نہیں ہوں گے جس سے ہم اپنی برہنگی چھپا سکیں اس موقع پر ان لوگوں کو سوچ لینا چاہیے کہ اس طرح کی باتوں کا یہ کیا جواب دیں گے-“

جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک ٹیلی ویژن نشست سے اقتباس۔

عمیر ارشد بٹ
عمیر ارشد بٹ
مرد قلندر،حق کا متلاشی، علاوہ ازیں سچ سوچنے اور بولنے کا عادی ہوں۔ حق بات کہتے ہوۓ ڈرنے کا قائل نہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *