درندوں کا معاشرہ یا شاید ایک خبر۔۔۔علی اختر

آج ایک وائرل ہونے والی وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک مولوی بلکہ مولوی کے بھیس میں چھپا بھیڑیا پہلے ایک جگہ کیمرہ  سیٹ کرتا ہے اور پھر ایک بچی جس نے اسکول کا یونیفارم پہنا ہوا ہے، کے ساتھ نازیبا حرکات کا مرتکب ہوتا ہے۔ میں تمام تر ہمت اور بہادری کے دعوؤں  کے باوجود وہ ویڈیو آدھی بھی نہیں دیکھ سکا اور دکھانے والے کو موبائل واپس کر دیا۔
ویسے یہ وڈیو دیکھ کر شاید مجھے صرف اس لئے برا لگا کہ  یہ حرکت میری آنکھوں کے سامنےآگئی  تھی ۔ اگر نہ آتی تو شاید ایک خبر ہی ہوتی ۔ جسے میں آفس کے فارغ اوقات میں کسی اخبار کی سائٹ پر صرف ایک بار پڑھتا اور کہتا “یار یہ ہم لوگ کس طرف جا رہے ہیں ” اور پھر کوئی  سیاسی خبر  بآواز بلند پڑھ  کر ارد گرد کے لوگوں سے گرما گرم بحث چھیڑ دیتا۔

جی ہاں صرف ایک خبر کہ  “قصبہ کالونی سےتین دن پہلے گم ہونے والے بچے کی لاش آج اورنگی ٹاؤن کی کچرا کنڈی سے برآمد ” یا “ایک ہفتہ سے لاپتہ بچی کی لاش قریبی عمارت کے ٹینک سے ملی” ۔ بس ایک خبر ۔ جیسے “گلزار ہجری میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک”۔ جس طرح میں یہ ساری خبریں روٹین کی باتوں کی طرح پڑھتا ہوں ویسے ہی اور اتنی ہی اہمیت اس خبر کو  دیتا ۔

بلکہ یہ تو اس شخص کی کمبختی تھی یا شاید اس نے  جس پاک ہستی کا حلیہ بنا رکھا تھا اس پر اللہ کا قہر تھا کہ  اس نے خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لی ورنہ تو شاید وہ پوری عمر یہ سب کرتا اور نجانے کتنوں کے ساتھ کرتا اور باعزت زندگی گزار کر رخصت ہو جاتا ۔ بلکہ اس معاملہ میں میں اسے سراہوں گا کہ  اس نے کم سے کم بچی کو زندہ تو چھوڑ دیا ۔ گلا کاٹ کر کسی کچرا کنڈی میں نہیں پھینکا۔

اختلاف آپکا حق ہے لیکن اکثریت میرے ساتھ اتفاق ہی کرے گی۔ ایسے سینکڑوں کیسز میں سے کوئی  ایک زینب سامنے آتی ہے اور باقی سب خبریں  بن جاتی ہیں۔

میں روز پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں سہراب گوٹھ کے پل کے نیچے ہیروئن بکتے دیکھتا ہوں۔ ہیرونچی قطار اند ر  قطار پل کے  نیچے جاتے اور واپس آتے دکھائی  دیتے ہیں۔ یہ میرے لیئے ایک نارمل سی بات ہے۔ آئے دن حلقہ احباب میں سے کوئی  نہ کوئی  سڑکوں پر نقدی و موبائل سے محروم ہوتا ہے۔  تیزاب پھینکنے کے واقعات بھی خبر اور دکانوں کا تالا توڑ کر سامان چرا لینا بھی روٹین کا حصہ ہے۔

ہاں یہ سب کنٹرول میں آسکتا ہے صرف درکار ہے پکڑے جانے کا خوف۔ سزا کا یقینی ہونا ۔ انصاف کا فوری ملنا ۔ عوام کا موقع پر ڈاکؤوں کو جلانے کے بجائے قانون پر اعتماد کرنا۔ لیکن افسوس ناکوں پر بھیک کی طرح پچاس پچاس روپے جمع کرتی پولیس اور اپنا کام چھوڑ کر ہسپتالوں پر چھاپے اور ڈیم کے لیئے چندہ جمع کرتی عدالتیں بھی روٹین کا حصہ بن چکی ہیں۔ شاید ایسی ویڈیوز کی وافر تعداد مجھ میں سے وہ احساس و افسوس بھی چھین لے جو آج محسوس ہوا۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *