“مکالمہ “ مقابلہ مضمون نویسی کے نتائج

قارئین،

مکالمہ کو پہلے دن ہی سے کسی کاروباری پراجیکٹ کے بجائے بطور  ایک مشن  چلایا گیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مکالمہ نے اپنی غیر جانبداری بھی قائم رکھی اور قارئین کے ہر طبقے کا محبوب بنتا چلا گیا۔ آج مکالمہ، جسے ایک لاابالی وکیل کی وقتی جذباتی حرکت، نان پروفیشنل لوگوں کی سائیٹ کہا گیا، پاکستان کی بلاگنگ سائیٹس میں بنا کسی فنڈنگ، ایجنڈے یا “مشہور کالم نویسوں کا سہارا” لئیے اک منفرد مقام رکھتا ہے اور دوسرے نمبر پہ ہے، الحمداللہ۔ ہمیں مین میڈیا کے کالم نگاروں ، تجربہ کار صحافیوں یا آئی ٹی ماہرین کی مدد نا بھی حاصل ہو، ہمارے قارئین کے اعتماد اور لکھاریوں کی محنت نے کامیابی کی اس منزل پہ پہنچنے میں مدد دی۔ آج بلاشبہ مکالمہ وہ واحد سائیٹ ہے جس پر ہر نظرئیے سے منسلک لوگ مکمل آزادی کے ساتھ اپنا نکتہ نظر لکھ رہے ہیں اور اس وقت نئے لکھاریوں کی سب سے زیادہ تعداد مکالمہ پر ہی شائع ہوتی ہے۔ مکالمہ ٹیم اس محبت، اس اعتماد اور اس محنت کیلئیے قارئین، لکھاریوں اور ہر سابقہ اور موجودہ ٹیم ممبر کا ممنون و شکر گزار ہے۔

پاکستان میں نئی حکومت اور بدلتے سیاسی و معاشی  حالت کے مد نظر ، اپنی دوسری سالگرہ کے موقع پر مکالمہ نے ایک مقابلہ مضمون نویسی بہ عنوان “ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات” کے عنوان سے منعقد کیا۔ موضوع کی سنجیدگی و پیچیدگی کے باعث بہت کم مضامین آئے اور ان میں سے بھی فقط چار ہی شائع کئیے گئے۔ اس مقابلے کا مقصد اس موضوع پر نئے خیالات کو سامنے لانا اور لکھاریوں اور قارئین میں ایک سنجیدہ مکالمے کا رجحان پیدا کرنا تھا۔ اپنی محدود مالی گنجائش کے باوجود مکالمہ نے اس مقابلے کے فاتحین کیلئیے کچھ انعامی رقم کا اعلان بھی کیا۔ ہم محترم  راو  وقاص ایڈووکیٹ کے ممنون ہیں جنھوں نے انعامی رقم میں تین ہزار کا اضافہ کیا۔ محترم  کامریڈ محمد فاروق نے علاقائی زبان میں مضمون پر انعام کا وعدہ کیا تھا مگر افسوس ایسا کوئی مضمون نہیں آیا۔

مقابلے کے سلسلے میں محترم ارمغان احمد داو کا مضمون اوّل منتخب ہوا ہے۔انعام چار ہزار روپے۔   اسکا لنک:

ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات ۔۔۔۔ارمغان احمد داؤد

دوسرا انعام محترم علی اختر کے مضمون کو ملا ہے۔ انعام ڈھائی ہزار روپے۔  اسکا لنک:

نئے پاکستان کے پرانے معاشی چیلنجز اور کچھ نئے حل۔۔۔علی اختر/مضمون برائے مقابلہ مضمون نویسی

تیسرا انعام محترم اویس احمد کے مضمون کو ملا ہے۔  انعام پندرہ سو روپے۔ اسکا لنک:

ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات۔۔۔اویس احمد(مضمون برائے مقابلہ مضمون نویسی)

محترمہ  بتول تالپور کا مضمون گو پہلے تین میں نہیں مگر اس کاوش کیلئیے انکو بھی انعامی سلسلے میں شامل کرتے ہوے چوتھا انعام دیا جائے گا۔انعام ہزار روپے۔  اس مضمون کا لنک:

ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات۔۔۔بتول/مضمون برا ئے مقابلہ مضمون نویسی

قارئین، یہ انعامی رقم کوئی بڑی نہیں مگر یہ آغاز ہے ایک ایسے سلسلے کا جہاں لکھاری اور قارئین مل کر پاکستان کے مسائل کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ کریں، نئے حل تلا کریں اور ایک بہتر اور روشن پاکستان کی کھوج کریں۔ “مکالمہ” کا اس کے سوا نا تو کوئی ایجنڈا ہے اور نا ہی کوئی کاروباری و سیاسی مفاد۔ چاروں انعام یافتگان کو بہت مبارک اور امید ہے کہ آئیندہ مقابلوں میں شرکت اور زیادہ ہو  گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *