لیزر شعائیں اور نوبل انعام 2018ء۔۔۔۔۔محمد علی شہباز

2 اکتوبر 2018ء بروز منگل سویڈن کی رائل اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر گوراں ہینسن نے باضابطہ فزکس کے نوبل انعام کا اعلان کیا۔ اس سال یہ انعام لیزر فزکس کے شعبہ میں دیا گیا۔ نوبل انعام کی مالیت 9 ملین سویڈن کرونا یعنی ایک ارب 23 کروڑ 41 لاکھ 51 ہزار 55 روپے بنتی ہے۔ اس انعام کو حاصل کرنے والے تین سائنسدان ہیں جن میں سے ایک خاتون بھی ہیں۔ یاد رہے کہ اس نوبل انعام میں دو اہم اعزاز یہ ہیں کہ ان میں ایک خاتون کو انعام دیا جا رہا ہے جو کہ فزکس کی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔ دوسرے یہ کہ اس انعام کو پانے والے ایک سائنسدان کی عمر 96 برس کی ہے اور یوں وہ آج تک کے سب سے زیادہ عمر والے فزکس کے نوبل انعام یافتہ قرار پائے ہیں۔ نوبل انعام کا آدھا حصہ انہی کے نام ہوا ہے۔ انکا نام آرتھر آشکن ہے Arthur Ashkinاور انکا تعلق نیو جرسی میں امریکی ادارہ برائے طیعات سے ہے۔
آپ 2 ستمبر 1922 کو امریکی ریاست نیویارک میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں کولمبیا یونیورسٹی سے بی اے کیا اور پھر 1952 میں کورنل یونیورسٹی سے فزکس کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ پروفیسر آشکن 1992 تک بیل ٹیلی فون لیبارٹری (جہاں گراہم بیل نے پہلا ٹیلی فون ایجاد کیا تھا) میں بطور ٹیکنیکل سٹاف لیزر کے شعبہ میں کام کرتے رہے۔ 2004 میں آپکو اسرائیلی ادارہ برائے ٹیکنالوجی کی طرف سے ہاروے پرائز سے نوازا گیا۔ پروفیسر آشکن نے پہلی مرتبہ آپٹیکل ٹویزرOptical Tweezer کا تصور پیش کیا جس نے بعد ازاں حیاتیات کے شعبہ میں کافی انقلابات پیدا کئے۔ انکی مختصر تفصیل ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
حالیہ نوبل انعام پانے والے دوسرے سائنسدان کا نام مورو جیرارد Gerard Mourouہے۔ آپ کا تعلق فرانس کے ایک ادارے ایکول پولی ٹیکنک اور امریکی یونیورسٹی مشی گین سے ہے۔ مشی گین میں آپ نے الیکٹریکل انجینئرنگ اور اطلاقی طبیعات کے پروفیسر کے طور پر 30 سال کا عرصہ گزارا۔وہیں آپ نے الٹرا فاسٹ آپٹیکل سائنس کے مرکز کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے الیکٹرانکس ، ضیائی الیکٹرانکس اور ادویات کے شعبہ جات میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ انکا بنیادی انقلابی کام لیزر فزکس کے حوالے سے ہے ۔ انہوں نے سی پی اے نامی تکنیک کے ذریعے لیزر کی طاقت کو ایک ہزار سے ایک لاکھ گنا تک بڑھانے کا کام کیا۔ انہیں آج تک 15 کے قریب مختلف انعامات سے نوازا گیا ہے۔
نوبل انعام کا تیسرا نام ڈونا سٹرکلنڈ Donna Stricklandکا ہے اور یہ پروفیسر مورو جیرارد ہی کی شاگرد ہیں۔ آپ کا تعلق واٹر لو یونیورسٹی کینیڈا سے ہے جہاں آپ شعبہ طبیعات میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر کام کر رہی ہیں۔ انہو ں نے 1981 میں انتاریو کی مک ماسٹر یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی اور بعد ازاں 1989 میں نیویارک کی راچسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ انکا بنیادی کام ایسا طریقہ کار ایجاد کرنا ہے جس سے ایسی الٹرا شارٹ لیزر کی پلسUltra-short Laser Pulse تیار کی جا سکے جو اپنی شدت کے اعتبار سے قوی تر ہو۔
سائنس فکشن کی مشہور فلم سیریز “سٹار ٹریک” میں کسی خلائی جہاز کو لیزر کی روشنی کی مدد سے دھکیلا جاتا ہوا دکھایا گیا ہے۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس فکشن کے پیچھے جو سائنس کام کرتی ہے وہ یہ سادہ سا مشاہدہ ہے کہ روشنی توانائی کا ذخیرہ ہے۔ جیسے سورج کی دھوپ ہمارے جسموں کو گرم رکھتی ہے تو اسکی وجہ روشنی میں موجود توانائی ہے۔ اس توانائی کو استعمال میں لا کر مختلف اشیاء کو دھکیلا جا سکتا ہے۔اس تصور کو بڑے سائز کی چیزوں جیسے خلائی جہاز وغیرہ میں استعما ل نہیں کیا جا سکا ہے۔ لیکن پروفیسر آشکن نے اس پر سوچنا شروع کیا کہ کیوں نہ چھوٹے یعنی خوردبینی اجسام پر اس تصور کا اطلاق کیا جائے۔ یہی وہ نقطہ آغاز ہے جو انہیں آج فزکس کے نوبل انعام تک لے گیا۔
26 اگست 1958 کو سائنس کے ایک مشہور جریدے “فزیکل ریویو” کو ایک پرچہ موصول ہوا جس میں روشنی کے پھیلاؤ اور اسکی شدت کو قابو کرتے ہوئے میزر نامی شعاؤں کی دریافت کی گئی تھی۔ اس اہم دریافت پر مزید کام ہوا جس کو دیکھتے ہوئے رائل اکیڈمی نے 1964 ء کا نوبل انعام ‘لیزر’ کے نام کردیا۔ لیزر میں بنیادی طور پر ایسی روشنی کی لہروں کو پیدا کیا جاتا ہے جو یک سمتی ہوں اور لہذا انکی شدت عام روشنی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ اسطرح لیزر کی شعاؤں کی توانائی عام روشنی کے مقابلے زیادہ ہوگی اور اسطرح یہ توانائی قابل استعمال ہو سکتی ہے۔ لیزر کی دریافت کے بعد دیگر سائنسدانوں کی طرح پروفیسر آشکن بھی اسکی خصوصیات اور اطلاقات کے مطالعہ میں مگن ہو گئے۔ انہوں نے بہت جلد یہ تجربہ کرلیا کہ اگر کسی لیزر کی شعاؤں کے راستے میں مائیکرو سائز کی گیند رکھی جائے تو لیزر کی توانائی اسے قابو کر لے گی۔ اسکی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے ہم گیلے بال خشک کرنے کے لئے استعمال ہونے والے بلو ر کے سامنے ٹینس کی گیند کو قابو کر سکتے ہیں۔
اس میں اہم بات یہ تھی کہ لیزر کی شعاؤں کی شدت (کسی یونٹ حلقے میں موجود فوٹان کی تعداد کو شدت کہا جاتا ہے) پوری شعاؤں میں برابر تقسیم نہیں ہوتی بلکہ درمیانی حلقے کی شعاعیں زیادہ شدت پسندہوتی ہیں اور محیط پر موجود شعاعیں کم شدت والی ہوتی ہیں۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گیند درمیانی حلقے کی زد میں رہتی ہے اور محیط کی طرف نہیں جاتی۔ مزید اگر لیزر کے راستے میں ایک کنویکس لینز (محدب عدسہ) رکھا جائے تو لیزر کی تمام شعاؤں کے ایک مرکزی نقطے کی جانب موڑا جا سکتا ہے جہاں ان شعاؤں کی شدت اسقدر زیادہ ہوگی کہ یہ کسی بھی خوردبینی جسم کو قابو کرسکتی ہے۔ آشکن کے اس عمل کو “ٹویزر” Tweezer کا نام دیا گیا ہے۔
کسی بھی خوردبینی جسم جیسے بیکٹیریا وغیرہ کو قابو کرنے کے لئے پہلے اسے ٹھہرانا ضروری ہوتا ہے۔ ہر شے کے ایٹموں میں فطری طور پر ایک ارتعاش پایا جاتا ہے جسے حرارتی ارتعاش بھی کہا جاسکتا ہے۔ لہذا ٹویزر کے ذریعے اگر کسی ایٹم یا ایٹموں سے بنے خلیے کو قابو کرنا ہو تو اس حرارتی ارتعاش کو کم سے کم کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ 1986 کے قریب ایسی تکنیک ایجاد ہوچکی تھی کہ اب ان ایٹموں کو ٹھہراؤ کی کیفیت میں لایا جاسکے۔لیکن تب تک پروفیسر آشکن نے اپنا تحقیقی کام حیاتیاتی طبیعات کی طرف موڑ لیا اور بیکٹیریا پر تجربات کرنے لگے کیونکہ اگر وائرس کی آبادی کو مناسب وقت دیا جائے تو وہ اسقدر بڑھ جاتی ہے کہ اس میں بیکٹیریا بمشکل ادھر ادھر حرکت کر سکتا ہے اور یہی وہ چیز تھی کہ جس کی آشکن کو تلاش تھی۔
انہوں نے ٹویزر کی تکنیک کو ان بیکٹیریا پر استعمال کیا اور انہیں قابو رکھنے میں کامیاب رہے۔ لیکن اس کا ایک منفی اثر یہ ہوا کہ بیکٹیریا لیزر کی توانائی کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے لگے۔ اس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ عام دکھنے والی روشنی کے بجائے نہ دکھنے والی شعاعیں یعنی انفراریڈ شعاعیں استعمال کی جائیں۔ یہ وہی شعاعیں ہیں جو آپ کے موبائل فون سے بھی خارج ہوتی ہیں اور کمزور توانائی رکھتی ہیں لہذا اسطرح انفراریڈ ٹویزر وجود میں آئے جس سے بائیولوجی کے شعبہ میں انقلاب برپا ہوا۔اسکی ایک مثال مالیکیولر موٹر کی ہے۔یہ ایسے بڑے مالیکیول ہوتے ہیں جو کسی جاندار خلیہ کے اندر اہم کام جیسے ڈی این اے کی تیاری وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک مالیکیول کینیزن موٹر Kinesis motorہے جسے خلیے کے بنیادی ڈھانچے میں درجہ بہ درجہ حرکت دی جاتی ہے۔ ٹویزر کی قابو شدہ گیند اس کینیزن مالیکیول کے ساتھ چپک جاتی ہے اور جیسے جیسے یہ موٹرمالیکیول کو چلاتی ہے ٹویزر کی گیند لیزر کے مرکزی حلقے سے باہر محیط کی جانب نکلنا شروع کردیتی ہے۔ جتنا کینیزن مالیکیول حرکت کرتا ہے اتنی ہی ٹویزر کی گیند حرکت کرتی ہے۔ لیکن لیزر مرکزکے ساتھ جڑے رہنے کی جبلت گیند پر مخالف قوت لگاتی ہے اور یوں گیند اس مالیکیول سے آزاد ہوکر واپس مرکز میں آجاتی ہے۔
نوبل انعام کو دوسرا حصہ لیزر کی شعاؤں کی شدت کسی مختصر لمحے کے لئے بڑھانے سے متعلق ہے۔1960 ء میں لیزر کی دریافت سے لے کر 1985ء تک مختصر لمحاتی لیزر شعاع کی شدت میں خاص اضافہ نہ کیا جا سکا۔ لیکن 1985ء میں راچسٹر یونیورسٹی ایک ایک طالبہ نے اپنا پی ایچ ڈی کا تھیسز شائع کیا جس میں ایسی تکنیک متعارف کروائی گئی تھی جس سے مختصر لمحاتی شعاع کی شدت میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکتا تھا۔ لیزر کی شعاعیں روشنی کے ذرات یعنی فوٹان سے ملکر بنتی ہیں۔ جس گیس یا ٹھوس مادے سے یہ شعاعیں پیدا کروائی جاتی ہیں ان میں ایسے فوٹان پیدا کئے جاتے ہیں جو کہ مزید فوٹان پیدا کر سکیں اور یوں جب ایک کثیر تعداد میں فوٹان پیدا ہوجائیں تو ان کو ایک جھٹکے یا پلس Pulse کی مانند اکٹھا لیزر کیویٹی Laser Cavity سے باہر نکالا جاتا ہے۔ یہ مختصر لمحاتی Short Pulses شعاعیں ہوتی ہیں ۔انکی شدت اگر زیادہ کر دی جائے تو یہ اس گیس یا ٹھوس شے کونقصان دیتی ہیں جن سے یہ پیدا ہوتی ہیں۔
پروفیسر مورو اور انکی شاگرد ڈونا نے ایک نئی تکنیک جسے چرپ پلس ایمپلی فیکیشن Chirp Pulse Amplificationیا سی پی اے کہتے ہیں۔یہ سادہ سی تکنیک ہے۔ اس میں دو کام ہوتے ہیں۔ ایک مختصر لمحاتی پلس کو گریٹنگ (مائیکرو سائز کے سوراخ) کے جوڑے Grating Pair کے درمیاں سے گزارا جاتا ہے جس سے اس پلس کا وقت بڑھ جاتا ہے لیکن اس کا ایمپلی ٹیوڈ یعنی شدت کم ہوجاتی ہے۔جس کے بعد اسکو ایک ایمپلی فائر سے گزارا جاتا ہے۔اسطرح ایک طویل لمحاتی لیکن زیادہ ایمپلی ٹیوڈ Amplitude کی لہر تیار ہوجاتی ہے۔ اسکو دوبارہ مختصر لمحاتی پلس Ultra-Short Pulse میں تبدیل کرنے کے لئے گریٹنگ سے گزارا جاتا ہے جو دباؤ پیدا کرکے پلس تعمیر کرتا ہے۔اسطرح وہی ابتدائی پلس حاصل ہوجاتی ہے لیکن اسکی شدت میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔اسطرح یہ تکنیک لیزر کی دنیا میں ایک انقلاب کے طور پر ابھری۔ جہاں کہیں زیادہ شدت والی لیزر کی ضرورت ہوتی ہے یہی تکنیک کام میں لائی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر سی پی اے کا ایک فائدہ مختصر لمحے میں رونما ہونے والے واقعات کا مشاہدہ ہے۔ پہلے ایسے واقعات کا مشاہدہ ممکن نہیں تھا ۔اسی طرح زیادہ شدت کی لیزر ہونے کی وجہ سے اسے مادے کی خاصیت میں تبدیلی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جیسے کسی انسولیٹر کو کنڈکٹر بنایا جا سکتا ہے۔ چونکہ ایسی لیزر کی شعاع انتہائی باریک ہوتی ہے لہذا اسے مختلف اشیاء میں سوراخ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔جسم کی شریانوں کو کھولنے یا دل میں سٹنٹ ڈالنے کا کام بھی ایسی تکنیک سے لیا جا سکتا ہے۔آجکل اس تکنیک سے الیکٹران کو قابو کرتے ہوئے اسکی خاصیتوں کو زیادہ اچھی طرح جانچنے کا کام لیا جا رہا ہے۔ لیزر کا میدان بہت وسیع ہے۔ جیسے جیسے ہم چھوٹے پیمانے اور زیادہ شدت کی لیزر بناتے جا ئیں گے ویسے ویسے مختلف شعبہ جات میں اسکے کمالات کھلتے جائیں گے۔ لیزر کے شعبہ میں اس ترقی کے باعث بلاشبہ سویڈن اکیڈمی کا 2018ء کا نوبل انعام بہت سے نوجوان طلباء اور محققین کو اپنی جانب کھینچے گا جس سے اس شعبہ اور اسکے واسطے دیگر سائنس کو بے پناہ فوائد ہوں گے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *