• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط3

انسانی ارتقا کے راز۔ مذہب ’ فلسفے اور سائنس کے آئینوں میں۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل/قسط3

چارلز ڈارون اور زندگی کا ارتقا!
پچھلی چند دہائیوں میں جب بھی میں نے مختلف مکاتبِ فکر کے مردوں اور عورتوں سے ڈارون کی زندگی اور نظریہِ ارتقا ء کے بارے میں تبادلہِ خیال کیا تو مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ان میں سے اکثر نے یا تو اس نظریے کو سنجیدگی سے پڑھا ہی نہیں تھا اور اگر پڑھا بھی تھا تو صحیح طریقے سے سمجھا نہیں، کیونکہ وہ سائنس کے سنجیدہ طالب علم نہیں تھے۔ میں اس باب میں  ڈارون کی زندگی اور نظریے کا مختصر تعارف پیش کرنا چاہتا ہوں۔

چارلز ڈارون ۱۲ فروری ۱۸۰۹ کو انگلستان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد ایک ڈاکٹر اور دادا ایک دانشور تھے۔ ان کی والدہ ایک مذہبی خاتون تھیں اور ڈارون کو بچپن میں گرجے لے کر جاتی تھیں۔
جب ڈارون جوان ہوئے تو انہیں چٹانوں ’پرندوں اور جانوروں کے مشاہدے اور مطالعے کا بہت شوق تھا لیکن ان کے والد انہیں اپنی طرح ایک ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ڈارون کو ایک میڈیکل سکول میں داخلہ دلوا دیا لیکن ڈارون کا طب اور سرجری میں دل نہ لگا اور وہ میڈیکل سکول سےلوٹ آئے۔ جب ڈارون ڈاکٹر نہ بنے تو ان کے والد نے چاہا کہ وہ پادری بن جائیں۔

ڈارون نے کچھ عرصہ مذہب کا مطالعہ بھی کیا لیکن ان کے سائنسی ذہن کو بائبل کی کہانیاں، خدا کے کلام کی بجائے اساطیری کہانیاں لگیں۔ ڈارون کے والد بہت مایوس ہوئے کیونکہ ان کا اپنے بیٹے کو پادری بنانے کا خواب بھی شرمندہِ تعبر نہ ہوا۔

یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ڈارون کا تعارف ایک آزاد خیال گروپPLINIAN SOCIETY سے ہوا جس میں طلبا و طالبات قوانینِ فطرت اور تاریخ کے بارے میں مکالمہ اور مباحثہ کرتے تھے۔ چونکہ ڈارون کو سائنس کے مطالعے کا شوق تھا اس لیے وہ اس گروہ میں شامل ہو گئے۔ اسی گروہ میں نظریہ ارتقا پر تبادلہِ خیال ہوا۔ ڈارون نے وہ نظریہ اپنے دادا کی ڈائری میں بھی پڑھ رکھا تھا۔

ڈارون کو ۱۸۳۱ میں پتہ چلا کہ بیگل BEAGLE نامی ایک جہاز یورپ اور جنوبی امریکہ کے سفر پر جا رہا ہے۔ اس جہاز کا کپتان ڈارون کا دوست ROBERT FITZROY تھا۔ اگرچے رابرٹ ایک مذہبی انسان تھا لیکن اس نے دہریہ ڈارون کو اپنا ہمسفر بننے کا مشورہ دیا جو ڈارون نے قبول کر لیا۔

بیگل کا سفر جو تین سال کا ہونا تھا پانچ سال رہا۔ اس سفر کے دوران اس جہاز نے مختلف جزیروں’ شہروں اور ملکوں کی سیر کی اور ڈارون کو مختلف چٹانوں‘ پہاڑوں’ پرندوں اور جانوروں کے مشاہدے اور مطالعے اور ان کو جمع کرنے کا موقع ملا۔
اس سفر کے دوران ڈارون کو GALAPAGOS ISLANDS پر بھی قیام کا موقع ملا۔ انہوں نے مختلف جزیروں پر مختلف طرح کے پرندے اور کچھوے دیکھے اور یہ بھی دیکھا کہ موسمیات اور ماحولیات کے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے ان کے رنگ اور حجم مختلف تھے۔ ڈارون کو خیال آیا کہ ان پرندوں اور جانوروں نے نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی ساخت بدل لی ہے۔

سفر سے لوٹنے کے بعد ڈارون نے اپنی تمام جمع کی ہوئی چیزوں کا مطالعہ بھی کیا اور تجزیہ بھی اور ایک کتاب لکھی جس کا نام THE ORIGIN OF SPECIES رکھا جس میں انہوں نے اپنا نظریہِ ارتقا پیش کیا۔

ڈارون کی کتاب سے پہلے دنیا کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں کا یہ ایمان تھا کہ انسان کرہِ ارض پر جنت سے اترا ہے اور اس کی تخلیق باقی جانوروں’ پرندوں اور مچھلیوں کی تخلیق سے مختلف ہے۔ اس مذہبی نظریے کے مقابلے میں ڈارون نے یہ سائنسی نظریہ پیش کیا کہ انسان کی تخلیق لاکھوں سالوں کے ارتقا کا ماحصل ہے اور انسانوں’جانوروں ’پرندوں اور مچھلیوں کے آبا و اجداد مشترک ہیں۔

ڈارون نے کتاب تو لکھ لی لیکن ان کی مذہبی بیگم نے انہیں کتاب چھپوانے سے روکا اور ڈرایا کہ اگر انہوں نے کتاب چھپوا دی تو گرجوں کے پادری ان کے خلاف ہو جائیں اور ان کی زندگی بھی ماضی کے ایک سائنسدان گیلیلیو کی زندگی کی طرح عذاب ہو جائے گی۔

ڈارون نے اپنے آپ کو اس وقت ایک دوراہے پر کھڑا پایا، جب اس کے ایک جونیر رفیقِ کارALFRED WALLACE الفریڈ والیس نے انہیں اپنا ایک مضمون بھیجا اور اس مضمون کے بارے میں ان کی رائے چاہی۔ ڈارون وہ مضمون پڑھ کر بہت پریشان ہوئے کیونکہ اس مضمون میں والیس نے ڈارون کے نظریہ ارتقا کو چند صفحوں میں اختصار سے بیان کر دیا تھا۔ ڈارون نے اپنے قریبی دوستوں کو بلا کر اپنا مسئلہ بتایا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ ڈارون اور والیس کے مقالے ایک ہی کانفرنس میں پیش کیے جائیں تا کہ نظریہ پیش کرنے کی اولیت کا افتخار دونوں کو بیک وقت حاصل ہو۔

اس کانفرنس کے کچھ عرصہ بعد ڈارون نے ۱۸۵۸ میں اپنی مشہور کتاب THE ORIGIN OF SPECIES چھاپی۔ ڈارون کے دور کے عیسائی پادریوں کا ایمان تھا کہ بائبل میں آیا ہے کہ کرہِ ارض کی عمر چھ ہزار سال ہے اور آدم و حوا جنت سے زمین پر آئے ہیں اور ڈارون نے یہ ثابت کیا کہ کرہِ ارض پر انسان کا وجود لاکھوں برس کے ارتقا اور NATURAL SELECTION کا نتیجہ ہے۔بہت سے یہودی’ عیسائی اور مسلمان آج بھی ڈارون کے نظریہِ ارتقا کو نہیں مانتے کیونکہ وہ اسے آسمانی کتابوں سے متضاد سمجھتے ہیں۔ بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ سائنس کی تحقیق کا مذہبی کتابوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں سائنس کی تحقیق کے نتائج کو تہہ دل سے قبول کرنا چاہیے اور اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ آسمانی کتابیں ان سے اتفاق کرتی ہیں یا اختلاف کیونکہ آسمانی کتابیں لوگوں کا اخلاق بہتر بنائے آئی ہیں نہ کہ ہمیں سائنس پڑھانے۔ ویسے بی آسمانی کتابوں کی اتنی ہی تفسیریں ہیں جتنے عالم اور جتنے فرقے۔ بعض دفعہ مختلف مسالک کی تفسیریں مختلف ہی نہیں متضاد بھی ہوتی ہیں اور ہر عالم اور فرقہ اور مسلک مصر ہوتا ہے کہ اس کی تفسیر ہی سچی تفسیر ہے اور باقی سب جھوٹے ہیں۔ ڈارون کی زندگی میں ہی ان کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں میں مناظرے ہوتے رہے لیکن وہ خاموشی سے اپنا تحقیقی اور تخلیقی کام کرتے رہے اور جہالت کی تاریکیوں میں علم و آگہی و دانش کی شمعیں جلاتے رہے۔

زندگی کے آخری دنوں میں ڈارون نے ایک اور کتاب لکھی جس کا نام DESCENT OF MAN تھا۔ اس کتاب میں ڈارون نے ثابت کیا کہ انسانوں اور حیوانوں کی بہت سی ذہنی خصوصیات مشترک ہیں اور انسانی دماغ جانوروں کے دماغ کی ارتقا یافتہ صورت ہے۔ ڈارون نے کہا کہ رحمِ مادر میں انسانی بچے کا دماغ ساتویں مہینے میں اتنا نشوونما پا چکا ہوتا ہے جتنا کہ بندر کا دماغ جوانی میں ہوتا ہے۔ اسی لیے انسانوں اور حیوانوں کی ذہنی اور جذباتی خصوصیات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

ڈارون نے ثابت کیا کہ انسانوں کی طرح جانور بھی خوش ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے کھیلتے اور شرارت کرتے ہیں۔خوشی کے ساتھ ساتھ جانور غم کا اظہار بھی کرتے ہیں اور جب انسانوں کی طرح خوف زدہ ہو جاتے ہیں تو ان کے دل زور زور سے دھڑکنے لگتے ہیں اور ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر جانوروں کا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو جائے تو وہ دکھی بھی ہوتے ہیں۔ جب کسی بندر کے بچے یتیم ہو جائیں تو انہیں دوسرے بندر اپنے بچوں کی طرح پالتے ہیں۔

جانور انسانوں کی طرح محبت بھی کرتے ہیں۔ کتے اپنے مالک کے بہت وفادار ہوتے ہیں۔ جانوروں کوحسن کا احساس بھی ہوتا ہے۔ مورنی کا رقص اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔

ڈارون کا کہنا تھا کہ جو چیز ارتقا کے حوالے سے انسانوں کو باقی جانوروں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کے الفاظ اور زبان WORDS AND LANGUAGE ہیں۔زبان کی وجہ سے انسانوں نے شاعری اور ادب’سائنس اور ٹکنالوجی ’ نفسیات اور سماجیات کو تخلیق کیا او کلچر اور تہذیب کو فروغ دیا۔
ڈارون کے نظریے کو بیسویں صدی کے ایک ماہرِ حیاتیات رچرڈ ڈاکنز نے اپنی تحقیق سے آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب THE ANCESTOR’S TALE میں یہ ثابت کیا ہے کہ اگر ہم انسانوں کے کروموسومز ۔۔۔جینز۔۔۔اور ڈی این اے کا جانوروں’پرندوں اور مچھلیوں کے کروموسومز ’جینز اور ڈی این اے سے مقابلہ کریں تو ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ ان سب کے آباو اجداد مشترک تھے۔

سٹیون ہاکنگ اور دیگر ماہرِ فلکیات کی تحقیق نے ہمیں بتایا ہے کہ ہماری گیلیکسی کی عمر ۷۔۱۳ بلین سال ہے۔ کرہِ ارض کی عمر ۵۔۴ بلین سال۔ ماہرینِ حیاتیات نے یہ ثابت کیا کہ زمین پر زندگی کی ابتدا ء سمندروں کی گہرائیوں میں ہوئی۔ پھر زندگی سمندر سے زمین پر آئی اور لاکھوں سالوں کے ارتقا سے انسان معرضِ وجود میں آیا۔ وہ لاکھوں سالوں تک افریقہ میں رہا اور پھر ایک لاکھ سال پہلے وہ ہجرت کے کے دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل گیا۔

رچرڈ ڈاکنز نے اپنی کتاب میں اپنی تحقیق سے جو تفصیلات بیان کی ہیں ان کے مطابق انسانوں کا’جو سائنس کی زبان میں HOMO SAPIENS کہلاتے ہیں’ اپنے آبا و اجداد سے کچھ اس طرح کا رشتہ بنتا ہے
HOMO ERECTS سے رشتہ ایک ملین سال پہلے
CHIMPANZEES AND GORILLASسے رشتہ ۵۔۔۔۷ ملین سال پہلے
ORANGUTANS AND GIBBONS سے رشتہ ۱۴ سے ۱۸ملین سال پہلے
OLD WORLD AND NEW WORLD MONKEYS سے رشتہ ۲۵ سے ۴۰ ملین سال پہلے
RODENTS AND RABBITS سے رشتہ ۶۰ سے ۸۰ ملین سال پہلے
FISH AND SHARKS سے رشتہ ۴۰۰ سے ۵۰۰ ملین سال پہلے
FLAT WORMS, FUNGI , AMOEBA سے رشتہ ۶۰۰ سے ۸۰۰ ملین سال پہلے جدید سائنس کی اس تحقیق میں چٹانوں میں چھپے فوسلز نے بہت مدد کی۔ ان فوسلز میں ارتقا کے وہ راز پائے گئے جو سائنسدانوں کی تحقیق کے لیے اہم تھے۔ ڈارون کے نظریہ ارتقا اور NATURAL SELECTION کے مطابق جو ڈی این اے سخت اور نامساعد حالات کا سامنا کر سکے وہ زندہ رہے جو مقابلہ نہ کر سکے وہ نیست و نابود ہو گئے۔

انسانوں کے خلیوں میں جو DNAڈی این اے ہوتے ہیں اور نسل در نسل آگے جاتے ہیں ان پر یورپ کے  سائنسدان برائن سائکس BRIAN SYKES نے کافی تحقیق کی ہے۔جب ان کی کتاب SEVEN DAUGHTERS OF EVE چھپی تو ساری دنیا نے اپنے آبا و اجداد اور اپنے شجرہِ نسب جاننے کے لیے انہیں اپنا لعابِ دہن بھیجا۔ اس طرح لاکھوں لوگوں کے ڈی این اے سے یہ تحقیق نئے نتائج پیش کر رہی ہے۔

اب سائنس ثابت کر چکی ہے کہ انسانی بچے کے ۴۶ کروموسوموں میں سے دو کروموسوم جنسی کروموسوم کہلاتے ہیں کیونکہ وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ بچہ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی۔لڑکی میں دونوں کروموسوم XX ہوتے ہیں جن میں سے ایک ماں کی طرف سے اور ایک باپ کی طرف سے آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں لڑکوں کے دو کروموسوم XY ہوتے ہیں ان میں سے X کروموسوم ماں سے اور Y کروموسوم باپ سے آتا ہے۔اس لیے روایتی لوگوں کا یہ کہنا کہ لڑکا اور لڑکی کا فیصلہ ماں کرتی ہے سائنسی حوالے سے درست نہیں۔

سائکس کی تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ انسانوں نے اپنا سفر افریقہ سے شروع کیا۔ وہ لاکھوں سال وہیں رہے لیکن پھر ایک لاکھ سال پہلے انسان ہجرت کر کے ساری دنیا میں پھیل گئے۔
جو لوگ ڈارون کے نطریے کو صحیح طریقے سے پوری طرح نہیں سمجھ پاتے وہ کہتے ہیں کہ انسان بندروں کی اولاد ہیں۔ سائنسدان ایسے لوگوں کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کہنا کہ انسان بندروں کی اولاد ہیں سائنسی حوالے سے درست نہیں ہے۔سائنسی حوالے سے ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ انسانوں اور بندروں کے آبا و اجداد مشترک ہیں۔ ڈوکنز نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف انسانوں اور بندروں کے ہی نہیں انسانوں’ بندروں’ دیگر جانوروں’ پرندوں اور مچھلیوں کے بھی آبا و اجداد مشترک ہیں۔ زندگی کا آغاز سمندر سے ہوا اور سب جاندار دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
میرے وہ دوست جو سائنس اور نظریہ ارتقا کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں میں انہیں مندرجہ ذیل تین کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں
THE DESCENT OF MAN BY CHARLES DARWIN
SEVEN DAUGHTERS OF EVE BY BRIAN SYKES
THE ANCESTOR’S TALE BY RICHARD DAWKINS
بہت سے مسلمان جو ڈارون کے نظریے کو رد کرتے ہیں اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ڈارون سے پہلے جن فلاسفروں نے ارتقا کے نظریے کو پیش کیا تھا ان میں مسلم فلاسفر ابن خلدوں بھی شامل تھے۔ ابن خلدون نے اپنی مشہور تصنیف ‘ مقدمے‘ میں لکھا تھا
کرہِ ارض پر ارتقا لاکھوں سالوں سے ہو رہا ہے
پہلے یہاں صرف معدنیات تھیں
پھر نباتات بنے
پھر سمندر میں زندگی پیدا ہوئی
پھر مچھلیاں بنیں
پھر جانور بنے
پھر انسان بنے
ارتقا کی ایک منزل کی انتہا دوسری منزل کی ابتدا بنی۔
ارتقا کا نظریہ پہلے سے موجود تھا۔ ڈارون نے اس کا سائنسی ثبوت مہیا کیا۔ اس طرح ارتقا کا وہ نظریہ جو فلسفے اور ادب کی کتابوں میں پیش کیا جاتا تھا سائنس کی کتابوں میں داخل ہو سکا۔ ڈارون کے بعد کئی اور سائنسدانوں نے اس نظریے کے مزید سائنسی ثبوت فراہم کیے۔
ڈارون کے نظریے نے وہ بنیادیں فراہم کیں جن پر ڈارون کے بعد آنے والے ماہرینِ حیاتیات’نفسیات اور سماجیات نے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔
چارلز ڈارون کے نظریے نے انسانی شعور کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *