لکھ مگر پیار سے ۔۔۔ معاذ بن محمود

ٹیم مکالمہ بلاتفریق عوام الناس کا اظہار خیال انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر شائع کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پہ اپنی وال پر بات کرنا اور مکالمہ پر مضمون شائع کرنے میں بنیادی فرق قارئین کی تعداد کا ہے۔ فرد واحد کی وال پر ایک مضمون اگر سو لوگ پڑھتے ہیں تو مکالمہ پر اجتماعیت کی بدولت یہ تعداد تیس چالیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اشاعت کامیابی سے جاری رکھنے کے لیے ٹیم مکالمہ سائیٹ چلاتی ہے۔ اس پر پیسہ لگتا ہے۔ مکالمہ ٹیم یہ پیسہ اپنی جیب سے لگاتی ہے۔ یہ ہمارا جذبہ ہے اپنی سائیٹ کے لیے۔ ہم نے سائیٹ چلتے رہنے کے لیے اشتہار بازی پر کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کی بھی اپنی آئی ٹی کمپنی نہیں۔ ایک اور وجہ یہ بھی کہ کسی قسم کی فنڈنگ آج تک آئی نہیں کہ نہ اصحاب الیمین اور نہ ہی اصحاب الشمال کے ایجنڈے کے محافظ کہلاتے ہیں۔ ہم مکالمہ کو مذہبی یا مسلکی جذبے کے تحت بھی چلانے سے قاصر ہیں کہ ہم میں ملے جلے رحجانات رکھنے والے خطا کار انسانوں کی ٹیم ہیں، اوپر والے کے کاموں میں مداخلت کم ہی کیا کرتے ہیں۔ 

لگے ہاتھوں ایڈیٹرز کی بھی سن لیجیے۔ رضاکارانہ طور پر کبھی گاڑی چلاتے ایک طرف روک کر تو کبھی رات کو سونے لیٹتے ہوئے واپس بیٹھ کر لوگوں کے مضامین شائع کیے ہیں۔ ایک مثبت عزم لیے یہ کام فی سبیل اللہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے کبھی کسی کو معاوضہ دینے کا اعلان نہیں کیا کیونکہ ہمارے نزدیک یہ ساری کوشش یہ تمام سعی معاشرے کو کچھ اچھا واپس دینے کا تہیہ ہے۔ ہم نے کبھی کسی کو کہا بھی نہیں کہ اللہ کا واسطہ ہمارے لیے لکھو۔ دو سال میں ہم نے ایک کوشش کو ایک ادارہ بنا دیا ہے۔ یہ ہمارا اور آپ سب کا ادارہ ہے۔ آپ انعام رانا کے خلاف لکھیں تب بھی آپ کی تحریر اسی مکالمہ پہ جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے بشرطیکہ مواد کا ادبی معیار ایک حد تک قابل قبول ہو۔ ایسا ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ 

اب ڈرا تصور کیجیے، ایک بندہ جو پروفیشنل لکھاری بھی نہیں وہ آپ کو انباکس میں تحکمانہ لہجے میں کہتا ہے کہ “یہ پکڑو پوسٹ اور جلدی شائع کرو، اور سنو، یہ دو تصویریں دے رہا ہوں انہیں ایڈیٹ کرو اور ایک تصویر بنا کر ساتھ پوسٹ کرو، اور ان دو کو ایڈیٹ کرتے ہوئے اگر پیچھے قائداعظم کی تصویر آجائے تو زبردست ہوجائے گا، اور ہاں پوسٹ لگاتے ہوئے فلاں فلاں کو ٹیگ بھی کریں کیونکہ ایڈیٹر کی بات کو لوگ وزن زیادہ دیتے ہیں”

آپ جواب دیں کہ معذرت بھیا یہ تصویر ایڈیٹ کرنا میری ایکسپرٹیز سے باہر کی بات ہے، یا تو خود کر کے دے دیجئے یا میں دیکھتا ہوں کسی اور ایڈیٹر سے اگر وہ کر سکے تو۔ آگے سے جواب آتا ہے “کمال ہے، بندہ مفت میں مضمون بھی لکھ کر دے اور یہ کام بھی کرے، ایڈیٹر کس مرض کی دوا ہیں؟ ایسا کریں آپ چھوڑ دیں، میں فلاں سائیٹ کو دے دیتا ہوں اپنا مضمون”۔ 

دوستوں، ایسا ہے کہ میں نے تو بتیس سال کی عمر میں سیکھ لیا ہے کہ ہر چیز مال کے ترازو میں نہیں تولی جاتی۔ بالفرض کوئی لکھاری اس حقیقت سے نابلد ہے تو کم سے کم اتنی مہربانی ضرور کرے کہ اپنی تحریر کا کم سے کم معاوضہ بتا دیا کرے تاکہ ہم باقاعدہ طور پر یہ سودا شروع میں ہی منسوخ کر ڈالیں۔ بعد میں آپ کو بھی مسئلہ نہیں ہوگا اور ہم بھی دلی افسوس سے بچ جائیں گے۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *