لعان اور تحقیق نسب کے جدید سائنسی ذرائع

اگر شوہر اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے تو شریعت نے اسے چار گواہ پیش کرنے کا پابند نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شرط پوری کرنا عادتاً ممکن نہیں، جبکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ اپنے الزام میں سچا ہو۔ ایسی صورت میں زنا سے پیدا ہونے والے بچے کو عورت کے شوہر کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اس کے مقابلے میں محض شوہر کے دعوے پر الزام کو درست بھی نہیں مانا جا سکتا، کیونکہ الزام کے جھوٹا ہونے کا امکان بھی اتنا ہی مضبوط ہے۔ شریعت نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ ایسی صورت میں میاں بیوی باہم لعان کرنے کے بعد جدا ہو جائیں تاکہ دنیوی معاملات کی حد تک دونوں فریق سزا سے (یعنی شوہر قذف کی سزا سے جبکہ بیوی زنا کی سزا سے) بری ہو جائیں۔

لعان کا دوسرا قانونی اثر یہ مرتب ہوگا کہ عورت جس بچے کو جنم دے گی، اس کا نسب اس کے شوہر سے ثابت نہیں مانا جائے گا۔ اس آخری نکتے کے حوالے سے دور جدید میں یہ اجتہادی بحث پیدا ہو گئی ہے کہ اگر جدید طبی ذرائع کی مدد سے بچے کے نسب کی تحقیق ممکن ہو اور عورت یہ مطالبہ کرے کہ اس پر زنا کا الزام جھوٹا ہے، اس لیے سائنسی ذرائع سے تحقیق کرنے کے بعد اگر ثابت ہو جائے کہ بچہ اس کے شوہر ہی کا ہے تو بچے کے نسب کو اس سے ثابت قرار دینا درست ہوگا؟

ہمارا طالب علمانہ نقطہ نظر یہ ہے کہ عورت کا یہ مطالبہ درست اور اس کو وزن دینا مقاصد شریعت کے عین مطابق ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریعت نے لعان کے بعد بچے کے نسب کو شوہر سے منقطع کرنے کا جو طریقہ بتایا ہے، اس کا مقصد بدیہی طور پر یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر بچے کے نسب کی تحقیق ممکن ہو تو بھی عورت کو اپنے اوپر عائد کیے جانے والے الزام کی صفائی کا موقع نہ دیا جائے اور بچے کو اپنے نسب کے ثبوت کے حق سے محروم رکھا جائے۔ دور قدیم میں چونکہ تحقیق نسب کا کوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں تھا، اس لیے شریعت نے اتنا ہی حکم دینے پر اکتفا کی جو نصوص میں بیان ہوا ہے۔ تاہم اگر آج ایسا کوئی قابل اعتماد ذریعہ موجود ہو تو عورت اور بچے، دونوں کے حق کے تحفظ کے لیے اس سے مددلینا شریعت کے مقصد اور منشا کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے عین مطابق ہوگا۔ اس کی عملی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ زنا کے الزام کی صورت میں میاں بیوی کے مابین لعان کروانے کے بعد دونوں کو جدا کر دیا جائے اور پیدا ہونے والے بچے کا نسب شوہر سے منقطع کر دیا جائے۔ اگر بیوی الزام کا انکار کرتے ہوئے سائنسی ذرائع کی مدد سے نسب کی تحقیق کا مطالبہ کرے اور طبی تحقیق سے اس کا دعویٰ درست ثابت ہو جائے تو بچے کے نسب کو اس کے باپ سے ثابت تسلیم کیا جائے۔ اس صورت میں لعان کا فقہی اثر اور فائدہ یہ ہوگا کہ شوہر پر قذف کی سزا جاری نہیں ہوگی۔

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *