ونیزویلا, انقلاب مکمل کرو یا مرو!

SHOPPING

سرمایہ داری کے گماشتہ لوگ ہر جگہ اور ہر مقام پہ پائے جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو سوویت یونین میں یلسن اور گورباچوف کی صورت میں ظاہر ہوئے تو چین میں ڈینگ زیاو پنگ اینڈ کمپنی کی شکل میں۔ یہ لوگ دراصل سرمایہ داری نظام کو دنیا کا بہترین نظام سمجھتے ہیں اور سمجھیں بھی کیوں نا؟ سرمایہ دار انکو اپنی گماشتگی اور ایجنیٹی کرنے کے صلہ میں بھاری رقوم جو دیتے ہیں۔ مگر یہ لوگ حد سے زیادہ مفاد پرست اور مطلبی ہوتے ہیں۔

آج کل ونیزویلا میں “یونائیٹڈ ڈیموکریٹک یونیٹی” کی شکل میں ایک ردِ انقلابی ٹولہ جو دائیں بازو سے تعلق رکھتا ہے، وہ امریکی سامراج کے اشاروں پہ چلتے ہوئے “صدر مادورو” کی سرکار کے خلاف عوامی ہلچل کو بڑھاوا دینے میں مصروف ہے۔ انکا بنیادی مقصد لوگوں کو دی گئی سہولیات اور انکے بنیادی حقوق کی فراہمی کی ترسیل کو بند کرنا ہے۔ اس مقصد کے تحت لیوپولڈو لوپز، جو چیمبر آف کامرس کا صدر اور اپوزیشن لیڈر بھی ہے، اس نے فوجی جنتا اور امریکی سامراج کی آشیرباد سے شاویز سرکار کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اور کامیاب رہا۔ مگر دوبارہ ہوئے انتخابات میں ہیوگو شاویز دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوا۔ شاویز کی موت کے بعد بھی سامراجیوں کو سکون نصیب نہیں ہوا اور نئے منتخب صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی سازشوں کا جال بنا جانے لگا.

ہمارے “مارکسی لیننی کامریڈز” نے کبھی بھی شاویز یا مادورو کو ایک کمیونسٹ نہیں کہا۔ مگر اس کی حمایت کی کیوں کہ وہ لوگوں کو انکی بنیادی سہولیات مہیا کررہا ہے. 2014 کے درمیانی دورانیے تک سب اچھا چلتا رہا اور ایک ملین گھر بنا کر سرکار نے بے گھر لوگوں میں مفت تقسیم کیے اور بڑی خوراک کی پروسیسنگ کرنے والی امریکی کمپنی کو قومیا لیا۔ جس سے امریکی سامراج بوکھلا سا گیا اور ایک منظم بین الاقومی سازش کو منظم کیا گیا۔
2014 میں امریکی اشارے پر سعودی عرب نے تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے گرا کر 28 ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل بیچنا شروع کردیا جس سے اوپیک(آرگنائزیشن آف پیٹرولیم پروڈیوسنگ کنٹریز) کے دوسرے ممالک کی معاشی حالت پہ خاصی ضرب لگی۔ اور تو اور سعودی عرب نے اپنی پہلے والی پیداوار سے دوگنا پیداوار برامد کرنا شروع کردی۔ اس اقدام کی وجہ سے ایران, عراق, لیبیا, وینزویلا کی حکومتوں کی معاشی حالت کو ایک دھچکہ لگا اور ملکوں کی معیشت خسارے میں جانے لگی۔ وینزویلا چوتھا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جس کی پچانوے فیصد معیشت کا انحصار تیل کی برآمد پہ ہے۔ جیسے ہی تیل کی قیمتیں گریں، معشیت بھی پستی کی طرف جانے لگی؛ اوپر سے امریکی پابندیاں۔ امریکی سامراج نے اپنی پرائیوٹ کمپنیوں کو نیشنلائز کرنے کی بنا پہ یہ معاشی حملے کیے، CITGO, NINYAS, BORCO یہ وہ بڑی امریکی کمپنیاں تھیں جن کو قومیا لیا گیا اور وہ پیسہ جو امریکی سرمایہ دار کھا جاتے تھے اب قومی خزانے میں آنے لگا اور غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہونے لگا تھا۔ 1999-2009 کے دران ملک کی ستر فیصد تک غربت کا خاتمہ ہوا اور پچیس فیصد بےگھر لوگوں کو گھر مہیا ہوئے, اس شدید معاشی حملے کی وجہ سے وینزویلا کی معیشت گر گئی اور اس میں 2.3 فیصد تک سکڑاؤ آیا۔ دوسرا بڑا سامراجی حملہ امریکی پرائیوٹ خوراک پروسیس کرنے والی کمپنیوں نے پیداوار کو بند کرکے یا شدید کم کرکے کردیا جس سے خوراک اور ادویات کی قلت ہوگئی۔

مارکسسٹوں لیننسٹوں نے ہمیشہ شاویز اور مادورو کو تنبیہ کی کہ ادھورا انقلاب سانپ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ دو نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے کہ ایک کی شکست لازمی ہے۔ یہ سرمایہ داری کی ڈومیننسی کا دور ہے، اسی لیے فوری طور پہ معیشت کو قومیا کر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے سامراجی, خون آشام اداروں سے جان چھڑا لی جائے۔ مگر سامراج اپنے دشمنوں کو زندہ کہاں چھوڑتا ہے، نتیجہ شاویز کی امریکی سامراج کے ہاتھوں شہادت سے ظاہر ہوا۔ اب دائیں بازو کی تمام طاقتیں اکٹھی ہیں جن کو سامراجی امریکی آشیرواد حاصل ہے، ملک معاشی گراوٹ کا شکار ہے اور عوامی مظاہرے پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔ ان حالات میں دو راستے ہیں؛ ایک سرمایہ داری کو واپسی کا راستہ جس میں بربریت، غربت، بے حسی اور خودکشیاں ہیں اور دوسرا سوشلزم، جس میں عوامی انحصار اور خودکفالت کا سبق ہے۔ خود کو مارکسسٹ کہنے سے کوئی مارکسسٹ نہیں بن جاتا، عمل ضروری ہے۔

SHOPPING

اگر ردِ انقلاب ہوا تو سامراج بدلہ لے گا، وال سٹریٹ میں بیٹھے سرمایہ دار بدلہ لیں گے، عوام سے کہ جنہوں نے شاویز کو منتخب کیا، جنہوں نے مادورو کو منتخب کیا؛ کٹوتیوں، بےروزگاری، استحصال، جبر اور خون ریزی کو مسلط کرکے۔ اندورنی گماشتے اور بیرونی سامراجی تاک میں بیٹھے ہیں کہ کیسے بھی اب اس “ضدی بچے” کو اس کے انجام تک پہنچانا ہے۔

SHOPPING

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *