• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مکالمہ بسلسلہ قادیانیت، یہودیت، نصرانیت، قنوطیت وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مکالمہ بسلسلہ قادیانیت، یہودیت، نصرانیت، قنوطیت وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

 فرض کیجئے حکومت آپ کے لیے آپ کے علاقے میں ایک کرکٹ کا میدان بناتی ہے۔ آپ کے اہل محلہ علاقے میں زیادہ ہیں تب بھی وہ جارحانہ کھیل کھیلتے ہوئے اس میدان میں کھیلا جانے والا ہر دوسرا میچ ہار جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں آپ کے پڑوسی جو ٹھنڈے دماغ سے کھیلنے کے عادی ہیں آپ کو ہر دوسرا میچ آپ ہی کے گراؤنڈ میں ہراتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں ظاہر ہے جھنجھلاہٹ اور غصہ ایک قدرتی امر ہے تاہم آپ اپنی جھنجھلاہٹ اور غصہ بیوقوفی کے ادنی ترین درجے میں بھی گراؤنڈ کھود کر نہیں نکالیں گے۔ ہاں آپ مخالف ٹیم پر کھیل میں بے ایمانی کا بچگانہ الزام ضرور لگا سکتے ہیں تاہم ٹھنڈے دل سے جب بھی سوچیں گے اپنے کھیل کے معیار پہ توجہ دیں گے۔ 

ایک اور مثال لیجیے۔ مصر براعظم افریقہ میں واقع ہے۔ مصریوں کی ایک بڑی تعداد خطے میں معاشی و عسکری اعتبار سے نسبتاً بہتر ہونے کی وجہ سے خود کو غربت کا استعارہ یعنی افریقی کہنے سے کتراتی ہے۔ کیا ایسا کرنے سے وہ غیر افریقی ہوجائیں گے؟ نہیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ افریقی ہی رہیں گے۔ پھر خود کو وہ کچھ بھی کہتے رہیں، کیا فرق پڑتا ہے؟

ایک آخری مثال برداشت کیجیے گا۔ عمران خان ہمارے آئینی وزیراعظم ہیں۔ لیکن عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد انہیں فوج کی جانب سے لائی ہوئی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں۔ یوں وہ خان صاحب کو وزیراعظم مانتے ہی نہیں۔ تو کیا ان کے ناں ماننے سے کوئی فرق پڑے گا؟ ہرگز نہیں۔ خان صاحب وزیراعظم ہیں اور انشاءاللہ مدت پوری ہونے تک رہیں گے۔ کوئی نہیں مانتا اس کی اپنی سمجھ اس کی اپنی سوچ۔

بس ویسے ہی اور بعینہ ویسے ہی، احمدی ہم مسلمانوں کے لیے غیر مسلم اقلیت ہیں۔ ریاست کا قانون، اس کا اکثریتی طبقہ انہیں غیر مسلم مانتا ہے۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے جسے کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا تاوقتیکہ آئین پاکستان میں اس بابت کوئی تبدیلی نہ کر لی جائے اور سچ پوچھیے تو ایسی کوئی بھی تبدیلی بعد از قیاس ہے۔ 

یہ تو ہوگیا قانونی معاملہ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس ضد پہ قائم ہیں کہ ہم تو قادیانیوں کو غیر مسلم مانتے ہی ہیں وہ خود بھی اپنے آپ کو غیر مسلم مانیں۔ یہاں سے شروع ہوتی ہماری مبینہ زیادتی۔ مبینہ اس لیے کہ یہ میری رائے ہے۔ عین ممکن ہے غلط ہو، لیکن میں خلوص نیت سے اسے سچ سمجھتا ہوں۔ جب ہم نے انہیں غیر مسلم قرار دے ڈالا تو آئین اور قانون کی رو سے وہ غیر مسلم رہیں گے۔ یہ اختیار ہمیں کس نے دیا اور یہ عملی طور پر ممکن کیسے ہے کہ آپ ان کے دل سے مسلمان ہونے کا احساس ختم کریں؟ اور اگر وہ ایسا سمجھتے بھی ہیں تو ان کی چشم زدن یا تصورات سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مصری خود کو بیشک یورپی سمجھتے رہیں یا عرب مانتے رہیں رہنا تو انہوں نے افریقی ہی ہے۔ خان صاحب کو لوگ فوج کا بغل بچہ مانیں یا مرد مجاہد رہیں گے تو وہ وزیراعظم ہی۔ 

یہ ہمارا وہ مؤقف ہے جس کے پیش نظر ہم ہر طبقہ فکر بشمول قادیانی، یہودی، نصرانی، قنوطی، ہندو، غرضیکہ سب کو اپنی بات لکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ہم مکالمہ کے نام پر ایک ادارہ، ایک میدان، ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جس پہ اگر آپ کی ٹیم یا آپ کا مکتبہ فکر اکثریت رکھتے ہوئے بھی ٹھیک سے کھیلتی نہیں یا یہاں پر ہونے والی ذہنی مشقوں میں، مثبت ابحاث میں حصہ لینے سے گریزاں ہے تو اس میں نہ میدان اکھاڑنے والی کوئی بات ہے نہ مخالف ٹیم سے لڑنے جھگڑنے والی کوئی بات۔ آپ حوصلہ کیجیے اور اگر چار مضامین قادیانیت کا پرچار کرتے دکھائی دیں تو آپ آٹھ بھیجیے۔ گزارش فقط اتنی ہے کہ زبان بہتر رکھیے اور موقع محل کا خیال رکھیے۔ مثال کے طور پر ہم بحیثیت ادارہ یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ کون سا مضمون کب کس وقت لگانا ہے اور کون سا صرف موقع کی مناسبت سے مسترد کرنا ہے۔ یقیناً آپ نہیں چاہیں گے کہ ہم رمضان کے بابرکت اور مقدس مہینے میں سنی لیونی کی زندگی سے متعلق کچھ بھی چھاپیں۔ 

آخری بات ان لوگوں کے لیے جن کے ذہن میں کسی بھی قسم کا شک و شبہ موجود ہے جو  مکالمہ کو کسی ایک مکتبہ فکر سے نتھی کرتا ہے۔ مکالمہ پر اب تک اٹھارہ ہزار سے زیادہ مضامین شائع کیے جاچکے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ مکالمہ دیوبند مکتبہ فکر کا پرچار کرتی ہے تو بسم اللہ کیجئے اور اس ضمن میں مطبوعہ مضامین کا تناسب سامنے ڈھونڈ لیجیے۔ جو الزام لگانا ہو ثبوت کے ساتھ لگائیے ورنہ اپنی ذات کو محض ایک مضمون مسترد ہونے کی وجہ سے یا انعام رانا یا معاذ بن محمود سے کسی ذاتی چپقلش کی مد میں خود کو خاکستر حاسد ثابت مت کیجیے۔

اللہ تعالی اپنے محبوب خاتم النبین کے صدقے آپ کے دماغ کو ہر قسم کے منفی خیالات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ ثم آمین۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *