تحریک انصاف کی وزارت خارجہ اور حماقتیں۔۔۔۔عامر کاکازئی

ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کی خبر ہے کہ فرانس اور امریکہ کے معاملے میں جو سبکی ہوئی ہے اس میں پاکستان کی وفاقی سیکرٹری برائے خارجہ امور تہمینہ جنجوعہ  کی  پھرتیاں شامل ہیں

، مائیک پومپیو، امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ ہیں جو ہمارے ہاں وزیر خارجہ کہلاتا ہے،انہوں نے پاکستان میں عمران خان صاحب کے اقتدار سنبھالنے کے بعد جب فون کیا تو پاکستان کی وفاقی سیکرٹری برائے خارجہ امور تہمینہ جنجوعہ نے فون وزیر خارجہ کی بجائے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کو سننے پر راضی کیا، حالانکہ یہ فون پروٹوکال کے حساب سے سب سے پہلے ہمارے وزیر خارجہ نے سننا تھا۔ بدقسمتی سے اس فون کال کی کوئی  ٹرانسکرپٹ نہ رکھی گئی ۔ بس روائتی انداز میں اپنے  آپ سے یہ پریس ریلیز جاری کی گئی کہ امریکی وزیر خارجہ نے مبارک باد کے لیے فون کیا گیا تھا۔ جب امریکن نے فون کال کی تفصیل ٹرانسکرپٹ کی صورت میں جاری کی تو پہلے تو اسے ماننے سے انکار کیا گیا مگر پھر پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے مزید اس ایشو پر یہ کہہ کر بات کو دبا دیا  کہ اب اس بارے میں مزید بات نہیں ہوگی۔

اسی طرح فرانس کے صدر کی جعلی فون بھی پلانٹڈ تھی۔ محترمہ تہمینہ صاحبہ نے  کچھ روز قبل صحافیوں کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات کے دوران سب کے سامنے فرانس کے صدر میکغواں کے فون آنے کی جھوٹی اطلاع عمران خان صاحب کو دی۔ عمران خان صاحب نے فون سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے مبارک باد دینے کے لیے ہی فون کیا ہو گا، اس کو کہو کہ ابھی میں مصروف ہوں، آدھے گھنٹے کے بعد فون کرے۔ اس کے بعد محترمہ نے یہ خبر  حامد میر صاحب کو بریک کی۔ تہمینہ جنجوعہ کے بلنڈر کو کور اپ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ بیان دے کر کی کہ وہ فون کا وقت طے کرنے کی خاطر فون آیا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ تادم تحریر ہمارے وزیر اعظم صاحب، فرانس کے صدر  میکغواں کے فون کے انتظار میں ہیں۔ 

فرانس کا صدر میکغواں جو اپنے ملک کی روایات کے مطابق امریکی صدر کو بھی خاطر میں نہیں لاتا تو اب وہ کیا پاکستان کے وزیراعظم کو مبارکباد کا فون کرے گا؟

تحریک انصاف کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ ہر وہ عہدہ جس کا تعلق بیرونی ملک کے ساتھ ہے اس پر بہت سوچ سمجھ کر کسی ماہر اور تجربہ کار پاکستانی کو لگانا ہو گا، اور ہر بیان کو پبلک کرنے سے پہلے سو بار سوچ سمجھ کر اوپن کرنا ہوگا، محترمہ کی  آنیاں جانیاں کو بریکیں لگانی ہوں گی، ورنہ اس حکومت کی مزید حماقتوں کے لیے ہم پاکستانی سبکی کی صورت میں تیار ہو جائیں۔ 

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *