• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • واقعہ کربلا کا پس منظر( مفتی محمد  اسحاق مدنی ؒ  کے خطبات سے انتخاب)۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

واقعہ کربلا کا پس منظر( مفتی محمد  اسحاق مدنی ؒ  کے خطبات سے انتخاب)۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

پچھلے مضمون “قدیم لکھنؤ میں عزاداری  از عبد الحلیم شرر” میں برصغیر میں ماہ محرم کی عزاداری کی روایت کا نقشہ پیش کیا گیا تھا جو آج بھی کم و بیش اسی طرح قائم ہے۔   محرم کے مہینے میں جہاں تمام مسلمان اپنے اپنے طریقے سے شہید کربلا کی یاد کو زندہ کرتے ہیں وہیں  ایک مخصوص ٹولہ محرم کی مناسبتوں کو چھوڑ کر اختلافی مسائل کو اٹھانا  شروع کر دیتا ہے۔  پچھلے دو سو سال سے ان کا محبوب مشغلہ خلافت  یا  فقہ عقائد کے  کسی معاملے پر شیعہ سنی اختلاف کو ان ایام میں چھیڑ کر توہین صحابہؓ کا شور مچانا ہے۔ حالانکہ ان معاملات کو ان ایام میں بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے جب یہ اختلافات وقوع پذیر ہوئے تھے۔واقعہ کربلا  کے زمانے تک  آتے آتے تو شیعہ و سنی کا بڑا سیاسی اختلاف ختم ہو چکا تھا اور معمولی فقہی احکامات کے اختلاف کے علاوہ، اہم سیاسی اور سماجی معاملات میں اختلافات نہ ہونے کے برابر تھے۔ آپ لاکھ انہیں سمجھاتے رہیئے کہ یہ ایام ان باتوں کے نہیں، یہ باز نہیں آ ئیں گے کیونکہ ان کا مقصد فتنہ برپا کرنا ہوتا ہے۔ اس فتنے کا تاریخی جائزہ ایک الگ مضمون میں پیش کیا جائے گا، فی الوقت فیصل آباد کے معروف محدث اور عالم دین  مولانا اسحاق مدنی ؒکی طرف سے 2005ء – 2007ء کے دوران دئیے گئے  مفصل خطبات کا ایک خلاصہ پیش کرنا مقصود ہے جن میں مولانا نے سنی کتب حدیث کی صحیح روایات کی روشنی میں خلافت راشدہ کے زوال اور واقعہ کربلا کے اسباب و مقاصد بیان کر کے گویا اپنی زندگی کی تحقیق کا حاصل اردو اور پنجابی جاننے والوں کے سامنے رکھ دیا ہے۔ یہاں ہم شیعہ و سنی کتب میں   کربلا کی  تفسیر پر ہم آہنگی کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

امیر اور غریب میں بڑھتا فرق

“حضرت عمر ؓ کا دور آیا، بہت اچھا گزرا مگر ایک غلطی ہو گئی جس پہ وہ بعد میں پچھتائے ۔ اس کا حوالہ دینا ضروری ہے کہ انہوں نے خود محسوس کیا کہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی ہے، اور اس (فیصلے)کو بدلنے کا ارادہ کیا۔ وہ غلطی یہ تھی کہ انہوں نے بیت المال کے عطیات (کی تقسیم ) میں  تفضیل کا طریقہ اختیار کیا۔ حضرت ابو بکر ؓکے طریقے سے ہٹ گئے تھے ،  برابری سے، کہ  ہر مسلمان کو برابر(حصہ) ملے گا چاہے وہ غلام ہو یا آزاد، چاہے آج کلمہ پڑھا ہو یا پہلے  مسلمانوں میں  سے ہو۔ جنت دوزخ  جا کے اپنے(روحانی)  درجات حاصل کرتے پھریں، یہاں  مساوات ہو گی۔ یہ حضرت ابوبکر ؓکا طریقہ تھا، حضرت علی بھی اس کے قائل تھے۔ لیکن حضرت عمر ؓنے ضد کر کے(یہ اصول اپنایا کہ) مہاجرین کا وظیفہ زیادہ، بدر والوں کا (اور)زیادہ ہو گا۔  ہوا یہ کہ جس کا وظیفہ زیادہ تھا اسکی بچت بھی زیادہ ہونے لگی، جس کا کم تھا اس کا سارا  کھانے پینے میں ہی خرچ ہو جایا کرتا۔ آخری دنوں تک جاتے جاتے امیر غریب کا فاصلہ بہت ہو گیا۔   کچھ بہت  امیر بن گئے اور غریب بھی بہت ہو گئے۔پھر انھیں (اپنے اس فیصلے پر) پچھتانا پڑا، یہ حوالہ دینا بھی ضروری ہے کہ خود حضرت عمر ؓ نے کہا کہ مجھ سے یہ غلطی ہو گئی ہے ، اس کو ٹھیک کرنا چاہئیے، یہ صحیح نہیں ہے۔ مگر افسوس  یہ ہے کہ (آپ کے بعد) حضرت عثمان ؓ اس روش سے نہ ہٹے۔ انہوں نے اسی طرز پر وظیفے دئیے اور وظیفوں کے ساتھ جاگیریں دینا بھی شروع کر دیا، لینڈ لارڈ بنا دئیے۔اسلام میں سرمایہ داری کی بنیاد پڑ گئی۔ ان کا اجتہاد، ان کی نیتیں بالکل ٹھیک، اعلی سے اعلی ہوں گی، سمجھدار لوگ تھے، مگر نقصان امت کو بہت ہو گیا۔ امیری غریبی کا فاصلہ بہت ہو گیا۔

تو حضرت عمر ؓ اس بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ جو میں نے فاصلے مقرر کر دئیے ہیں ، یہ جو امیر غریب کا فاصلہ ہو گیا ہے،اس کو درست کرنا چاہئیے، اسی طرح (باقی رکھنا) ٹھیک نہیں ہو گا۔ یہ میرے سامنے فتح الباری شرح صحیح البخاری ، ساتویں جلد کا صفحہ نمبر 490 ہے۔حدیث پاک  (نمبر 4236) کی تشریح کے دوران  لفظ آ گیا ،”ببّانا”، اس  لفظ کے معانی کی تشریح کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانی حضرت عمر ؓ کی جانب سے اس لفظ کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:

” قلت : وقد وقع من عمر ذكر هذه الكلمة في قصة أخرى وهو أنه كان يفضل في القسمة فقال:

“لئن عشت لأجعلن الناس ببانا واحدا

حضرت عمر ؓ جب وظائف تقسیم کرتے تھے تو لوگوں میں فرق کرتے تھے۔جیسے مہاجر کو زیادہ، انصاری کو کم، بدر میں شرکت کرنے والے کو زیادہ، دوسروں کو تھوڑا دیتے۔اپنی زندگی کے آخر ایام میں  انہوں نے اس ضمن میں کہا کہ “اگر میں  کچھ عرصہ اور زندہ رہا تو اس سلسلے میں مسلمانوں  میں برابری قائم کر  دوں گا”۔یہاں سے پتا چلتا ہے کہ “ببّان” کے معنی برابر کر دینے کے ہیں۔امام دار لقطنی ؒ “غرائب مالک” میں اسی سلسلے میں  معن بن عیسیٰ  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓنے فرمایا  “اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو میں سب سے ادنی آدمی کو اعلی سے ملا دوں گا” یعنی سب کے وظیفے  برابر  قرار دوں گا۔یہ رہا دوسرا حوالہ، یہ بھی ضروری تھا۔ انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ پالیسی ٹھیک نہیں، اس سے امیری غریبی کا فاصلہ  مسلمانوں میں بڑھتا جا رہا ہے، اس کو ختم کرنا چاہئیے”۔(پنجابی خطبے سے اقتباس کا اردو ترجمہ، دن نامعلوم)

حضرت عثمانؓ  کے اموی  گورنر

“یہ فتح الباری کی چھٹی جلد ملاحظہ کریں،  (ایسی) قیامت آ گئی  کہ صحابہ کرام ؓ کو گھروں میں چھپ کر نماز پڑھنا پڑ گئی۔حضرت عثمانؓ کے گورنروں نے نماز تک کا ستیا ناس کر دیا۔ نماز باجماعت کو دیر سے برقرار کرتے اور صحابہ چھپ کر نماز کے اوقات کی حفاظت کرتے، کہ اگر حکمرانوں کے سامنے وقت پر پڑھی تو بغاوت کا الزام لگے گا۔ خدا کے بندو یہ کوئی خوش رہنے کی بات ہے، میں آنسوؤں سے بیان کر رہا ہوں کہ حضور ؐکے بعد اتنی جلدی یہ قیامت آ گئی؟آپ کے نزدیک شاید یہ کوئی بڑی بات نہ ہو لیکن میں کہتا ہوں کہ اسلامی حکومت میں  اور دوسری حکومت میں فرق ہی یہی ہے کہ نماز کو قائم کرے۔ حکمران کی بھی آخری حد یہی ہے کہ اس وقت تک اسکا حکم مانو جب تک وہ مملکت میں نماز قائم رکھے”۔(پنجابی خطبے سے اقتباس کا اردو ترجمہ، بمطابق دس فروری،  2006 ء)

“حضرت ابوذر غفاری ؓ، پہلے آدمی جنہوں نے اعلا کلمہ الحق کیلئے جان دی۔حضور ؐ نے فرمایا تھا کہ آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر اس سے سچا  کوئی نہیں۔ صبر نہ کر سکے، کہا کہ یہ محل کیوں تعمیر ہو رہے ہیں، گورنروں نے اوقات نماز کا پاس کرنا  کیوں چھوڑ دیا ہے؟ ظالم حاکموں نے حضرت عثمان ؓ سے کہہ کے مدینہ الرسول ؐسے نکلوا دیا، حضور ؐ کی مسجد سے دور کر دیا۔ اسی سال کے بوڑھے انسان کو بیٹی سمیت ربذہ نامی جنگل میں بھیج دیا۔اور جس حال میں موت آئی اور ان کا جنازہ حضرت عبدللہ ابن مسعودؓ وغیرہ نے پڑھا،ساری دنیا کے سامنے ہے۔بہت مظلومی کی موت مرے۔ رسول ؐ نے فرمایا تھا کہ اے ابوذرؓ، تم اکیلے جیو گے، اکیلے مرو گے اور اکیلے قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے۔ وہیں ربذہ میں دفن ہیں۔ حسین ؑ یہ سب دیکھ رہے ہیں کہ کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی۔ دن بدن شکنجہ کسا جا رہا ہے””۔(پنجابی خطبے سے اقتباس کا اردو ترجمہ، بمطابق دس فروری، 2006 ء)

حضرت علیؓ کا زمانہ

“حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے وقت  پوری سلطنت میں انتشار تھا۔کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا کہ آئندہ کیا ہو گا؟ ہر شہر میں گڑ بڑ تھی ، کون سنبھالے گا؟ اس وقت پھر سب نے حضرت علی ؓکے آگے ہاتھ جوڑے۔انہوں نے کہا میں کیا کروں؟ ماحول خراب ہو چکا ہے، لوگ بری چیزوں کے عادی ہو گئے ہیں،رشوت کھانے کے عادی ہو گئے ہیں،  وظیفے لینے کے عادی ہو گئے ہیں۔جسے بنانا ہے بنا لو، جس طرح پہلے وقت گزرا ہے، آگے بھی گزار لوں گا۔ سب سے اصرار کیا کہ آپ کے سوا اب کوئی نہیں ہے۔ امام ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ و النھایہ میں فرماتے ہیں  کہ امت کے اس فرد کے ہاتھ پر بیعت کی گئی جس سے افضل روئے زمین پر کوئی نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ گھر پر  بیعت نہیں ہو گی، مسجد میں سب مہاجرین و انصار کو اکٹھا کرو، وہاں سب اپنی مرضی  اور آزادی سے بیعت کریں۔ آپؓ کی خلافت سب سے اعلی طریقے سے منعقد ہوئی – آپ نے پہلے پہل انصار کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خاتمے کا انتظام کیا۔  اس سے پہلے صرف مہاجرین یا قریش کو گورنر بنایا گیا تھا، آپ نے مدینے کے جلیل القدر انصار کو  بھی گورنر بنایا۔ مگر حشر یہ ہوا کہ سعد بن حریث ؓ شام پہنچے تو امیر معاویہ کی فوجوں نے سرحد پر سے ہی واپس کر دیا۔ ہر اصولی اور محدث نے لکھا ہے کہ :”اول من بغیٰ  فی الاسلام معاویہ “، اسلام میں سب سے پہلے جس شخص نے بغاوت کی وہ معاویہ تھے۔ آپ ؓنے قرآن کے مطابق، کہ باغی کے خلاف جنگ کی جائے، لشکر تیار کر کے شام کا قصد کیا۔   ابھی مدینے سے باہر ڈیرہ ڈالا تھا کہ اپنی چچی ، حضرت عباس ابن عبد المطلب کی زوجہ کا پیغام آیا کہ  حضرت عائشہ ؓ عمرے پر آئی تھیں اور انھیں حضرات طلحہؓ و زبیر ؓ اپنے ساتھ لے کر بصرہ روانہ ہو گئے ہیں – لشکر کا خرچہ حضرت عثمانؓ کے زمانے کے بصرہ اور یمن کے گورنروں نے ادا کیا  ، جنہوں نے بیت المال لوٹا تھا۔ چال یہ تھی کہ حضرت علی ؓکی  سیدھی ٹکر اگر امیر معاویہ سے ہوئی تو  کچومر نکل جائے گا۔ لہذا یوں کیا گیا کہ اس سے پہلے ہی ایک جنگ (جمل)کا بندوبست کیا گیا جس کے نتیجے میں یا علی ؓنہ  رہیں گے  یا طلحہؓ و زبیرؓ، اور دونوں  صورتوں میں  بنی امیہ کیلئے خطرہ کم ہو جائے گا۔ اور یہ سازش کامیاب ہوئی، عراق میں کوفہ اور بصرہ  (جو خطرات سے نبٹنے کیلئے فوجی چھاونیاں بنائی گئی تھیں) کے لوگ آپس میں لڑ مرے۔ حضرت علیؓ کو جب پتا چلا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ اسلام میں ایک رخنہ پڑا تھا، جو بند ہو سکتا تھا مگر افسوس ہے طلحہ ؓو زبیر ؓنے اسلام پر رحم نہ کھایا    ۔ کیا یہ آپس  میں لڑنے کا کوئی وقت تھا؟”۔(پنجابی خطبے سے اقتباس کا اردو ترجمہ، بمطابق دس فروری، 2006 ء)۔

“یہ جو عثمان ؓ کے خون کا بدلہ طالب کرنے والے تھے ان کو دین کا زیادہ علم تھا یا حضرت علیؓ کو؟ حضرت علی ؓ قرآن کی ایک ایک آیت کو جانتے تھے کہ کیا حکم کرتی ہے۔ آپ دہائی دیتے رہے کہ حکومت کے خلاف بغاوت چھوڑ کر عدالت میں آؤ، قرآن فیصلہ کرے گا کہ یہ گورنر مجرم ہیں یا مظاہرین قاتل ہیں؟ جس جس کا اس قتل میں جو حصہ ہو گا میں نکال کر سامنے لاؤں گا۔ (بغاوت کرنے والے) عدالت کے سامنے نہیں آ ئے کیونکہ پتا تھا کہ شکنجے میں آ جائیں گے۔ بیت المال لوط رکھے تھے، بڑی بڑی جاگیریں لے رکھی تھیں، حضرت علی ؓ نے تو گردن سے دبوچ لینا تھا”۔(پنجابی خطبے سے اقتباس کا اردو ترجمہ، بمطابق چوبیس فروری، 2006 ء)۔

“حضرت عثمان ؓکے خلاف کوئی ایک بندہ نہیں ، پورا ملک اٹھ کھڑا ہوا تھا۔حضرت عائشہ ؓ اور طلحہ ؓو زبیر ؓجب قصاص عثمان ؓ کے نام پر بصرہ لے جائے گئے اور ہزاروں لوگ مارے گئے تو آخر میں ہرقوس بن  زہیر ہاتھ آیا۔ اس کو پکڑنے لگے تو چھ ہزار لوگ تلواریں لے کر کھڑے ہو گئے، انھیں دیکھ کر یہ لوگ چپ ہو گئے۔ حضرت علی ؓ نے کہا کہ جس طرح کا قصاص مجھے لینے کا کہتے ہو خود کیوں نہیں لیتے؟”۔(پنجابی خطبے سے اقتباس کا اردو ترجمہ، بمطابق تین  مارچ، 2006 ء)۔

امیر معاویہ کا زمانہ

“صلح حسن ؑغیر مشروط نہ تھی۔ امام حسن ؑ نے(جنگ بندی کے معاہدے میں) منوایا  تھا کہ  کتاب و سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے  پر حکومت کرنا، تیرے بعد میں خلیفہ ہوں گا اور پچھلی رنجشوں کی وجہ سے کسی کو کوئی دکھ نہیں دیا جائے گا۔اور آپ پڑھ لیں، ابن اثیر وغیرہ لکھتے ہیں کہ ایک شرط کو بھی امیر معاویہ نے پورا نہیں کیا”۔(سوال و جواب ، ستائیس اگست 2006 ء)
“معاویہ مدینہ آ ئے تو حضرت عثمان ؓکی بیٹی عائشہؓ نے سوال کیا کہ چچا جس نعرے(قصاص عثمانؓ) پر آپ نے یہ حکومت حاصل کی ہے، اب اس کا کچھ نہیں کیا۔ معاویہ نے کہا، آرام سے بیٹھ جاؤ۔کوئی قصاص  نہیں  لیا گیا۔امام حسنؑ صلح نہ کرتے تو یہ پردہ نہ اٹھتا”۔(سوال و جواب کی نشست)

“کہتے ہیں ذکر نہ کرو، انہوں نے یہ کام کئے ہیں اور ہم فقط ذکر بھی نہ کریں۔دین کا  ستیا ناس کیا ، امیر المومنین علی ؓجیسا آدمی، رسول اللهؐ کا داماد، خلیفہ راشد،  اور رسول اللهؐ کے ساتھ ایسے جیسے موسیٰ ؑکے ساتھ ہارونؑ، اس پر مسجد کے ممبروں سے لعنت کرواتے رہے۔ جمعے کے دوسرے خطبے میں رکھ دیا کہ جہاں خطیب اور باتیں کرے، یہ بھی کہے کہ علیؓ اور ان سے محبت رکھنے والوں پر  خدا کی لعنت ہو۔ ام المومنین حضرت ام سلمیٰ ؓ کے پاس ایک آدمی گیا تو انہوں نے کہا کہ تمھارے سامنے ممبر رسول ؐ پر حضور ؐ کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اس نے کہا اماں کون گالیاں دیتا ہے؟ انہوں نے کہا ،کہتے نہیں کہ علی ؓاور ان سے محبت رکھنے والوں پر لعنت ہو، میں حضور کے گھر میں رہی ہوں، سب سے بڑھ کر علی ؓسے محبت تو حضور ؐ رکھتے تھے۔ (مسند احمد بن حنبل، ج 18 ص 314 حدیث 26627)۔یہ کہاں تک بات جاتی ہے؟ اور حضور ؐ نے فرمایا، جس نے علی ؓ کو گالی دی اس نے مجھ کو گالی دی۔ یہ حدیثیں ہیں ہماری صحیح،  ان کو چھپاتے ہیں۔ تم تاریخ کو آگ لگانا چاہو تو آگ لگا دو ،  تمھارے سارے جو جھوٹے مسئلے ہیں ناں کہ حسین ؑواپس آنا چاہتے تھے یہ تم   وہاں سے ہی لیتے ہو۔ حدیث کی طرف نہیں آتے”۔ (اردو خطبے سے اقتباس ، بمطابق  بائیس  فروری، 2005 ء)

“رسول کریم ؐ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو میری سنت کو بدلے گا وہ بنی امیہ کا ایک آدمی ہو گا۔ جاؤ پوچھو علامہ البانی صاحب سے، سلسلہ الحادیث الصحیحیہ کی چوتھی جلد میں لکھتے ہیں کہ وہ شخص امیر معاویہ تھے”۔ (اردو خطبے سے اقتباس ، بمطابق  بائیس  فروری، 2005 ء)

“تخت بچھ گئے، سونے چاندی کے برتن (استعمال کئے جانے لگے)۔ سنن ابو داؤد شریف(حدیث نمبر 4131) میں آیا ہے کہ حضرت مقدام ا بن معدیکرب   ؓنے کہا کہ میں تمہیں الله کی قسم دیتا ہوں، کیا  حضور ؐنے مردوں کیلئے ریشم حرام نہیں کیا، سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا حرام نہیں کیا،درندوں کی کھالوں پر متکبر بن کر بیٹھنا حرام نہیں کیا؟ سب مانا” ۔ (اردو خطبے سے اقتباس ، بمطابق  بائیس  فروری، 2005 ء)

“حضرت معاویہ نے جتنے بے گناہ صحابہ ؓ کو مارا ، ان کی جائیدادیں ضبط کیں، اور دین کی مٹی پلید کی، زکات بدلی، حج بدلا،  نماز کے اوقات تبدیل کئے۔حدیث کی کتابیں تو دیکھیں، قیامت آئی ہوئی ہے۔  امام حسین ؑ کہتے تھے کہ میرے بھائی نے جو صلح کی میں اس کے مطابق دیکھ رہا ہوں کہ تم آخری شرط پر قائم رہتے ہو یا نہیں، کہ اپنے بعد کسی کو مقرر نہ کرو؟ یہ خط لکھا، کہ جو دن میرا تیری زندگی میں گزر رہا ہے ایک ایک بات ایسی ہے کہ تمھارے خلاف جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ جب آخری بات بھی انہوں نے نہ معانی، معاہدے کے خلاف یزید کو ولی عہد بنا دیا۔ اور ولی عہد ی کیلئے بھی بڑے ظلم سے کام لیا۔ صحیح بخاری (حدیث 4827) میں جب پڑھتے ہیں کہ  اس کے گورنر مروان نے مدینے میں اعلان کیا کہ امیر المومنین نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے بعد یزید کو حکمران بنا دیں جیسے کہ حضرت ابوبکر ؓنے حضرت عمر ؓکو مقرر کیا تھا ۔اس وقت حضرت عبد الرحمن ابن ابو بکر ؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ کافر بادشاہ کا طریقہ زندہ کر رہے ہو کہ باپ مرے تو بیٹا تخت پر آ جائے۔ اسی وقت مروان نے حکم دیا کہ ان کو گرفتار کر لیا جائے، ابو بکر ؓکے بیٹے کو، انہوں نے بھاگ کر حضرت عائشہ ؓکے حجرے میں پناہ لی۔۔۔۔۔۔بعد میں وہ مکہ چلے گئے جہاں ایک غار سے انکی لاش ملی۔ حضرت عائشہؓ کو بہت عرصے تک شک رہا کہ ان کو معاویہ نے (خفیہ طور پر) قتل کرایا”۔(فتویٰ آن لائن)

علیؑ اور حسین ؑکے بغیر   دین ؟

“یہ ملا اور مولوی کہتے ہیں کہ امام حسین ؑکا تذکرہ نہ کرو۔ انہیں دین کی الف ب کا بھی پتا نہیں ہے۔ امام حسین کو اگر میں دین سے نکال دوں، اسلام کسی شے کا نام نہیں۔ مجھے اگر اس دین پر فخر ہے تو اس لیے کہ جب یہ قیامت آ رہی تھی اور امت کی زبانیں گنگ کر دی گئی تھیں، اور ان کے ہاتھ باندھ دئیے گئے تھے، تو اس وقت رسول الله ؐ کا جو وارث تھا ، حضور ؐکے کندھوں پر سواری کرنے والا، وہ میدان میں آیا۔ وہ زندہ ہے۔ اس کے باپ نے دین کا ایک چپٹر مکمل کیا ، اگر علیؑ نہ ہوتے، دین ناقص رہ جاتا۔یہ دین پڑھیں تو پتا چلے۔ نکالیں “کتاب البغات”، کہ مسلمان اگر باغی ہو جائیں، حکومت صحیح ہو،کیا سلوک ان سے کیا جائے؟ نہ قرآن کوئی رہنمائی کرتا ہے نہ رسول الله ؐ نے کوئی رہنمائی کی۔ یہ مسئلہ ہی پیش نہیں آیا۔ کفار کے ساتھ، مشرکین کے ساتھ  جنگیں،  ان کے قیدیوں کے ساتھ برتاؤ، ان کے مال کو مال غنیمت، وہ سب ہے۔مگر مسلمان ہی اگر بغاوت  کر دیں جبکہ حکومت صحیح ہو، کیا کیا جائے؟ اس میں آپ سارے لوگوں کا پڑھیں، فقہ کی کتابیں اٹھائیں، شریعت پڑھیں۔ شریعت رفع یدین اور آمین کا نام نہیں، حکومت کرنے کا نام ہے”۔  (مکتبہ انصار السنہ)

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *