جنرل حمید گل اور موجودہ سیاسی بحران کا جائزہ

جنرل حمید گل نے کچھ انٹرویوز دیے ہیں، میڈیا کے مختلف لوگوں کو جن میں اظفر مانی، افتخار احمد، مظہر عباس، ڈاکٹر شاہد مسعود، جاوید چوہدری، پی جے میر، مبشر لقمان شامل ہیں۔ ہم ان کے انٹرویوز سے آج کل کے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔
سوال: کیا اپ نے آئی جے آئی اور ایم کیو ایم بنائی؟
جنرل حمید گل: ایم کیو ایم نہیں بنائی۔ مگر میں تسلیم کرتا ہوں کہ آئی جے آئی میں نے بنائی۔ اس کا بنانا اس لیے ضروری تھا کہ (مندرجہ ذیل جوابات مختلف انٹرویوز سے لیے گئے ہیں۔)
1. balance of political forces ہو۔ ایسا نا ہو کہ پیپلز پارٹی کو مکمل walk over مل جاۓ۔
2. پیپلز پارٹی ملک دشمن (امریکی) ایجنڈے پر کام کرے گی۔
3. پیپلز پارٹی نیوکلئیر پروگرام کی دشمن ہے
4. کشمیر کا جہاد جو اُٹھ رہا تھا، پیپلز پارٹی اس کی دشمن ہے
5. افغانستان کا قصہ ابھی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا تھا۔ (مطلب کہ آرمی کے نزدیک حتمی نتیجہ جو کہ آج تک نا مل سکا)
6. پیپلز پارٹی کے آنے کا ایک ڈر تھا، ایک خوف تھا۔
7. بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی، اس کے بعد ایک لمبا گیارہ سال کا عرصہ گزرا تھا جس میں پیپلز پارٹی کو بہت نقصانات ہوۓ تھے۔ یہ خوف تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو وہ تہس نہس کر دے گی، چنانچہ اس سوچ کو contain کرنا، الیکشن تک جانا، اور بیلنس بنانا۔ یہ وجوہات تھیں جس بنا پر آئی جے آئی بنائی۔
8. پیپلز پارٹی کا آنا امریکہ کا ایجنڈہ تھا جو کہ ہمارے نیوکلئیر پروگرام، افغانستان، کشمیر، relationship with India, یہ وہ issues تھے، اور core issues جو پاکستان (ادارہ) کو hunt کرتے رہے ہیں۔ اس وقت بھی یہی خیال تھا کہ امریکن کے ایجنڈے کو ہلاک کرنا ہے۔ they are not to be allowed a free run
9. یہ فوج کے سارے اداروں کی سوچ تھی۔
10. اگر ہم آئی جے آئی نہ بناتے تو ہم الیکشن تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔
11. الیکشن کرانے کے قابل بھی نا ہوتے، گڑ بڑ ہو جاتی۔
12. ادارے ہمیشہ رائٹ ونگ کو support کرتے ہیں۔
13. ادارے ہمیشہ status quo کے حامی ہوتے ہیں۔ کیوں کہ وہ چاہتے ہیں کہ چیزیں جوں کی توں رہیں۔
14. ادارے کا مقصد ہوتا ہے کہ people power کو جب وہ اُبھرتی ہے تو وہ اس کو بلاک کرے۔
15. دو چیزیں فوج نہیں کر سکتی ، ایک long term basis پر سسٹم کو ٹھیک کہ یہ خود status quo کے پروٹیکٹر ہیں۔ جب بھی لا اینڈآرڈر خراب ہونے لگتا ہے تو فوج آ جاتی ہے۔ بہانا کیا ہوتا ہے کہ ملک ٹوٹنے والا تھا۔ ختم ہونے والا تھا۔یہ لو ہم آگئے۔ مگر عوام کی طاقت سے یہ گبھراتے ہیں، جب عوام کی طاقت سامنے آ جاۓ تو یہ گھبراتے ہیں اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ دوسری چیز کہ یہ لیڈر نہیں بنا سکتی۔
16. ایوب خان نے جو مارشل لا لگایا اس سے پہلے بھی فوج کی مداخلت رہی ہے۔
17. آئی جے آئی اس لیے بنائی کہ پیپلز پارٹی کے آنے سے ایک ڈر تھا، ادارے کے اندر بھی ایک خوف اور ڈر تھا۔ retribution کا کہ شاید پیپلز پارٹی آ جاۓ۔ یہ خیال تھا کہ پیپلز پارٹی جب آۓ گی تو فوج سے اپنا بدلہ لے گی۔حساب چکاۓ گی۔ ان کی تمام لیڈر شپ کہتی تھی کہ انڈیا کے ساتھ صلح کرو، کشمیر پر سمجھوتہ کرو۔ اس صلح کے نتیجے میں پاکستانی فوج کی تعداد کم کرو۔ اس کا حجم کم کرو۔اس طرح پھر کبھی بھی فوج کو اقتدار کے اوپر چھاپہ مارنے کی جرات نہیں ہوگی۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔
18. آئی جے آئی بنانے کا مین آئیڈیا میرا نہیں تھا۔ مگر اس کو بنانے کا ذمہ میں لیتا ہوں۔
19. اگر آئی جے آئی نہ بنتی تو پیپلز پارٹی کو لینڈ سلائیڈ وکٹری ملتی، جس کے ڈر سے آئی جے آئی بنائی
20. کچھ سیاست دان بھی تھے جو پیپلز پارٹی کے آنے سے گھبرا رہے تھے۔ ان میں نواز شریف، قاضی حسین احمد اور دوسرے لوگ تھے۔ جن کے نام میں ہرگز نہیں لوں گا۔
21. آئی جے آئی بنانے کے بعد پیپلز پارٹی کو cut to size گروپنگ بنا کر کیا گیا۔یعنی جو لوگ تھے ان کو کہا گیا کہ اکھٹے ہو جاؤ۔
22. ہمیشہ مضبوط پارٹیاں جیسے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کو توڑنے کی وجہ یہ رہی کہ جب بھی کوئی طالع آزما فوج کی طرف سے آۓ گا تو اس کو مضبوط جماعتوں کے ساتھ ہی واسطہ پڑے گا۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ جیسے انگریز ہندوستان جب آۓ تو انہوں نے مسلمانوں کو رگڑا دیا۔ کیونکہ وہ حکمران تھے، ان کے چیلنجر۔۔۔۔۔یہ simple nature کی بات ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ ایک فطری حقیقت ہے۔
اوپر والی تحریر کا مواد جنرل حمید گل کے مختلف انٹرویوز سے لیا گیا ہے۔ جنرل حمید گل کےکہے ہوئے سے ہمارے پڑھنے والے خود ہی نتیجہ نکال لیں اور موجودہ سیاست کے منظر نامے کے ساتھ موازنہ کریں۔ یہ ان جوانوں کے سوچنے کی بات ہے جو سسٹم کو توڑنے کی بات کرتے ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کے لیے ہے جو پیپلز پارٹی (زرداری) کے دور میں جوان ہوئے۔ یہ انٹرویوز ،ان محترم لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکر ہے جو ایک ادارے کے لیے اندھی محبت کا شکار ہیں۔
نوٹ:. اس تحریر کا مواد جنرل حمید گل کے میڈیا پر لیے گۓ مختلف انٹرویوز سے لیا گیا ہے۔
حوالہ جات: ایک جنرل سے انٹرویو ۔۔۔۔مبین غزنوی ۔۔علم و عرفان پبلشر، لاہور

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *