“مکالمہ” کا جواز ۔۔۔ ہمایوں مجاہد

پیشے کے اعتبار سےہم معلّم ہیں، اور چونکہ انگریزی زبان پڑھانے میں ماہر ہیں، اس لیے اردو زبان کے الفاظ ومعانی پر مکمل عبور رکھتے ہیں!
اس نئی ویب سائٹ ‘مکالمہ’ کا آغاز ہوتے ہی جہاں اس کے صفحات پر ڈھیروں غیر سنجیدہ اور فضول قسم کی تحریریں نظر آئیں گی، وہاں کم از کم ایک عددسنجیدہ و متین تحریر کا منصّہِ شہود پر جلوہ گر ہونا ضروری تھا۔ ظاہر ہے اس خاطر مکالمہ ٹیم کی نظرِ انتخاب ہمی پر پڑی – تا کہ کچی پکی تحریروں کے بیچوں بیچ ایک عدد عالمانہ تحریرکا ابھرنا یہ تاثر ابتدا میں ہی راسخ کر دے کہ مکالمہ ٹیم یہاں جھک مارنے نہیں بیٹھی بلکہ یہ علَم جہاد کسی مقصدِ خاص کیساتھ بلند کیا گیا ہے — تا کہ کچھ پیشہ ورانہ سنجیدگی بھی دِکھے اور ‘مکالمہ’ کا جواز پوری طرح کھل کر سامنے آسکے۔
مکالمہ کا جواز اوپری سطح پر ایک تو وہ ہے جو انعام رانا نے اپنی فیس بک پوسٹ میں پہلے سے بیان کر دیا ہے: “۔۔۔ کہ یہ سائیٹ کسی ضد، انتقام یا مقابلے کیلیے نہیں ہے۔ ایک ایسے پلیٹ فارم کا خواب ہے جہاں مکالمہ ہو اور کچھ مثبت ہو۔”جبکہ اندرونی سطح پر یہ محض ضد، انتقام، مقابلہ، ہٹ دھرمی، عناد اور فساد وغیرہ ہی ہے۔ ایک ایسے پلیٹ فارم کا خواب جہاں مکالمہ کی بجائے دنگا فساد ہو۔
گالم گلوچ اور ہا تھا پائی ہو۔
کچھ منفی ہو!
اس کا جواز ہمیں حکیم الامّت ؒکے اشعار میں جا بجا مل جاتا ہے۔
آپؒ فرماتے ہیں کہ زندگی خیر اورشر کا مجموعہ ہے جو آپس میں ہمیشہ ستیزہ کار رہتے ہیں۔یہاں چونکہ ہر طرف خیر ہی خیر کی باتیں ہونے لگی تھیں، مکالمہ ٹیم نے آگے بڑھ کر عدم توازن کا شکار ہوتےمعاشرے کو شر پسندی کا پلڑا فراہم کرنے کی ٹھان لی۔ آپ دیکھیے گا، چند ہی روز میں یہاں رونق سی لگ جائے گی۔ یعنی جتنے بھی شر پسند ہیں،مکالمہ پلیٹ فارم پر آدھمکیں گے، ہمارے ہمرکاب ہو جائیں گے ،اورظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی!

اب آتے ہیں ‘مکالمہ’ سائٹ کے سب سے بڑے جواز کی طرف۔
تو اس ویب سائٹ کا سب سے بڑا جواز یہ ہے کہ یہ ایک اپنا جواز رکھتی ہے، نہ کہ بس فضول میں ،خواہ مخواہ، بلا جواز وجود میں آ گئی ہے۔یہ اس کا سب سے بڑا یعنی قوی ترین جواز ہے۔
اس کے علاوہ بعض چھوٹے چھوٹے جواز بھی ہیں۔
مثلاً ‘مکالمہ’ کا مطلب ہے ‘تُو تکرار کرنا ‘اور ایک دوسرے کو بے نطق سنانا تا کہ دل کی بھڑاس کھل کر نکالی جائے۔
‘دست و گریباں ہونا’ کوبھی مکالمہ سائٹ کے تشریحاتی مواد میں شامل سمجھا جائے۔تا کہ اس کے مقاصد جلیلہ کو جاننے میں کسی نوع کا کوئی ابہام باقی نہ رہے۔
دوسروں کی پیٹھ پر زنجیر زنی کرنا۔
لگائی بجھائی کرنا۔
چین سے نہ بیٹھنا۔
تو یہ ہو گئے اس کے مائینر مقاصد جلیلہ۔میجر وہی ہے کہ یہ سائٹ بہرحال اپنا ایک جواز رکھتی ہے، نہ کہ فضول میں، بس خواہ مخواہ۔۔۔۔۔۔
کھل کر بات کرنے سے منع کیا گیا ہے، تاہم ہم چونکہ ذرا منہ پھٹ قسم کے ہیں، اس لیے یہ بھانڈا پھوڑے دیتے ہیں کہ جب سے یہ ٹرائیکا یعنی ‘ہم سب’ اور ‘دلیل’ اور ‘تیر کمان والا’ ایسے پلیٹ فارمزوجود میں آئے تھے، تب سے ہی مکالمہ ٹیم قدرے الرٹ تھی۔ اس نے اس خطرے کو بھانپ لیا تھا کہ شائستگی اور دلیل سے بات کرنے کے جھانسے میں یہ پلیٹ فارمز ہمارے شیر دل معاشرے کو نجانے کس ڈگر پر ڈال دیں!
آگے چل کر چند ہفتوں میں ہی ان لوگوں کی نیّات طشت از بام ہو گئیں -کہ کیسے اِن کھلے ڈھلے پاکستانی لوگوں کو تہذیب کے مصنوعی خول تلے دبایا جا رہا اور ہمارے زندہ دل لوگوں کی سپرٹ کو برباد کیا جارہا ، انہیں اُن کی ‘اصل’ سے ہٹایا جا رہا ہے۔

یوں، پاکستانیوں کی پاکستانیت اوران کے اصل ‘نظریاتی وجود’ کا بے دردی سےکچلا جا نا ہی مکالمہ یعنی” تُو تکرار”کے لیے روحِ جواز بنی۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جو ہماری سوسائٹی کی “دیرینہ روایات” کا امین ہو۔
ٹرائیکا کے زیر اثر یہ اس تیزی سے ‘زوال پذیر’ معاشرے کو از سر ِنو حیات تازہ عطا کر سکے ۔
ضرورت محسوس ہوئی کہ تُو تُو مَیں مَیں سے لبریز ایک ویب سائٹ کو منظر عام پر لا کراپنے گم گشتہ،اُسی “درخشاں” ماضی کے ہڑ بڑا اٹھنے کا دھماکہ کیا جائے۔ اِن تہذیب و شائستگی کے علمبرداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا جائے کہ :
خدا کے بندو! بھلا ہمارا کسی تہذیب سے کیا لینا دینا!!
ایک ہمی رہ گئے تھے یہ ساری بک بک سننے کو!
تمہیں کوئی اور لوگ، کوئی اور ملک نہیں ٹکرا
جہاں اپنے فلسفے جھاڑتے؟ مثلاً سوٹزر لینڈ وغیرہ۔
ہمارے لیڈرز، ہمارے ایشوز، ہمارے مزاج، ہماری شعلہ بیانیاں، ہماری جوانیاں۔۔۔۔
کیا اس بات کی اجازت دیتی ہیں کہ
دوسرے کی بات سنی جائے، تب اپنی کہی جائے؟
کس کوجرات ہے کہ وہ اس کے علاوہ کوئی بات کہے جو ہم کہنا چاہتے ہیں!
ہمارا کلچر کچھ اور ہے، اور بس وہی ہمارا کلچر ہے:
ہم اس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں ہمارا

یوں، مکالمہ سائٹ اصلاً مذکورہ بالا ویب سائٹوں کے مقابلے میں منصور کا نعرہ انا لحق ہے۔
یہ اِس دور ظلمات میں” روشنی” کا استعارہ ہے۔
یہ امن و آشتی کے علم برداروں کا سکون برباد کرنے کو ایک شرارت بھرا شرارہ ہے۔
یہ ان تینوںویب سائٹوں سے اُبھرنے والی تہذیب کی ہر ہر رمق کو نابود کر دینے کی کاٹ رکھنے والی وہی شمشیر و سناں اوّل ہے جس کا تذکرہ آپ کو —کسی ڈکشنری یا وِکی پیڈیا وغیرہ میں مل جائے گا!
آج پاکستانی ضمیر اِن مذکورہ بالا ویب سائٹوں سے ببانگ دہل یہ سوال کرتا ہے کہ وہ زندہ دل آوازیں کیا ہوئیں جو اس شیر دل جوانوں کے’دلیر ‘معاشرے کی پہچان ہوا کرتیں ؟جنہیں سن کرظلم کے ایوانوں میں زلزلہ طاری ہو جایا کرتا تھا!! – جیسے :
‘مولے نُوں مولا نہ مارے تے مولا نیئوں مر سکدا !’
یوں، مذکورہ بالا مہذّب ویب سائٹیں گویا وہ مدرسے ثابت ہوئیں جن بارے حکیم الامّت ؒ ہمیں برسوں پہلے ایک واضح اشارہ دے گئے تھے ۔ انہی کی زبان میں ایک برمحل شعر سن لیں ۔ سارا کچا چٹھا باہر آ جائے گا:
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا ۔۔۔۔۔
تو مکالمہ ان ساری” انتہاؤں “کے بیچ نقطہ اعتدال ہے ۔
یہ پاکستانی قوم کا جاہ و جلال ہے۔
یہ اس کی اصل سے اس کا وصال ہے۔
آخر میں ہم ناچیز کا ایک سوال ہے:
کہ آیا ‘مکالمہ ‘ خدا نخواستہ وہی کچھ تو نہیں، جو” ہمارا خیا ل” ہے؟
اگر نہیں، تو یہ بھی ایک چہرہِ خوش جمال ہے۔
ہمارے وطن کے آنگن میں ایک اور صبح ِجمال ہے۔
خوش آمدید!

(ہمایوں تارڑ ایک استاد ہیں اور تحریر میں بھی استادی دکھاتے ہیں۔ “پاک ترک سکول سسٹم” کے ممکنہ مخدوش مستقبل کے پیش نظر ادارہ “مکالمہ” انھیں مستقل طنزیہ کالم لکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *