مکالمہ سپیشل: مقابلہ مضمون نویسی برائے سال ۲۰۱۸

مکالمہ اپنے دو سال مکمل کیے آپ کے سامنے حاضر ہے۔ الحمد للہ دو سال میں مکالمہ شاد مردانوی سے شروع ہوکر آج خاکوانی صاحب جیسی صحت پکڑ چکا ہے۔ سینکڑوں لکھاری، ہزاروں مضامین اور لاکھوں قارئین کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے جسے مکالمہ بفضل خدا قائم کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ آج ہمارے پاس کئی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لکھاری اور متنوع قسم کے قارئین ہیں جو بحیثیت مکالمہ کمیونٹی یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ مکالمہ پہ کوئی سیاسی، مسلکی یا فکری چھاپ نہیں۔ رائٹ ونگ ہو یا لیفٹ ونگ، فقہ جعفریہ ہو یا فقہ حنفی، پرو اسٹیبلشمنٹ ہو یا اینٹی اسٹیبلشمنٹ، مکالمہ ہر قسم کا معیاری مواد شائع کرنے کے لیے پرعزم رہتا ہے کیونکہ ہمارا مدعا ہی مکالمہ ہے۔ جب تک آپ دوسرے کو سنیں گے نہیں بھلا کیسے سمجھ پائیں گے؟

پس اسی عزم کے اظہار کے لیے اپنی دوسری سالگرہ کے موقع پر ٹیم مکالمہ نے ایک مقابلہ مضمون نویسی کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ اس مقابلے کا انعقاد ہر سال باقاعدگی سے کیا جائے اور جیتنے والوں کو نہ صرف مکالمہ ہال آف فیم میں داخل کیا جائے بلکہ ساتھ ہی ساتھ مکالمہ کی جانب سے تحائف بھی ارسال کیے جائیں۔ پہلے مکالمہ مقابلہ مضمون نویسی کی تفصیلات ذیل ہیں۔

اس سال مقابلہ مضمون نویسی کے لیے موضوع ہے:

“ایک نئے پاکستان کی معیشت کو درکار اقدامات”

انعامات کیش یا کتب کی صورت میں دیے جائیں گے۔ 

پہلا انعام: تین ہزار روپے 

دوسرا انعام: دو ہزار روپے 

تیسرا انعام: ایک ہزار روپے

بہترین مضمون کا فیصلہ مکالمہ ٹیم اور قارئین دونوں مل کر کریں گے۔ 

تحریری محاسن (جس کا فیصلہ مکالمہ ٹیم کرے گی): ستر فیصد 

ریڈر شپ (جس کا فیصلہ قارئین کریں گے): تیس فیصد 

مکالمہ ایڈیٹر شپ یا ایڈمنسٹریشن سے متعلقہ افراد مقابلہ مضمون نویسی میں شمولیت اختیار نہیں کر سکیں گے۔

آپ سب کو مکالمہ کی دوسری سالگرہ مبارک۔ یہ تمام ہفتہ ہم مکالمہ سالگرہ کے طور پر منائیں گے۔ اس دوران ہمیں مکالمہ کی پرفارمنس سے متعلق پوسٹ، کمنٹ، آڈیو یا ویڈیو پیغام کی شکل میں آپ کے خیالات کا انتظار رہے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *