ہمارا ڈومینو….

”دانا ابو“ مجھے ”ڈومینو“ لینا ہے، کل مارکیٹ میں میں ہمارے ساتھ گھومتی ہماری آٹھ نو سالہ ”پوسی“ نے فرمائشی حکم نامہ جاری کردیا۔ آپ یقیناً یہاں سوچتے ہوں گے کہ یہ ”پوسی“ کیا ہوتا ہے؟ اور دنیا میں کیا واحد ہم ہی دانا ہیں جو ایک آٹھ نو سالہ بچی ہمیں ”دانا ابو“ کہنے پر مجبور ہے؟ تو جناب ایسی کوئی بات نہیں۔ اس شہر میں ایک سے ایک دانا دانہ مل جاتا ہے، ہم کس گنتی شمار میں۔ بس بات اتنی سی ہے کہ وہ آٹھ نو سالہ لاڈلی سی بچی ہماری ایک بھانجی اور ایک بھتیجے کی شرارتی سی اکلوتی بیٹی ہے یوں رشتے میں وہ بچی ہماری پوتی اور نواسی دونوں ہے لہٰذا ہم نے اس کے والدین کے ساتھ مساوات قائم رکھنے کی خاطر اس کو ”پوسی“ کہنا شروع کیا تو اس بچی نے بھی انتقاماً ہمیں دادا اور نانا مانتے ہوئے ہمیں ”دانا ابو“ کا خطاب دے ڈالا اور اب ہم دونوں اپنے اپنے عطا کردہ خطابات پر قائم ہیں۔
.
تو بات ہو رہی تھی ہماری پوسی کی فرمائش کی۔ ہم ٹھہرے پرانے وقتوں کے جاہل سے انسان جب اس نے یہ فرمائشی حکم نامہ جاری کیا تو ہم نے دائیں بائیں دکانوں پر نظر دوڑائی کہ یا خدا عزت رکھ اور کوئی اشارہ ہی دے دے کہ یہ ڈومینو کیا ہے؟ اس بچی نے کس چیز کی فرمائش ڈال دی ہے؟ اللہ نے دعا قبول کی اور عزت رکھی، سامنے ہی ایک دکان پر اس کا نام بڑے بڑے انگریزی حروف میں ”ڈومینو“ لکھا ہوانظر آگیا، ذرا غور سے دیکھا تو یہ دورِ جدید کے کھانوں کی ایک دکان تھی۔ ہم نے اپنی پوسی کو سمجھایا کہ بیٹا تمہاری امی نے گھر پر تمہاری پسند کا کھانا تیار کررکھا ہے، تم کیا کرو گی یہ کھانا لے کر؟ وہ بولی نہیں یہ والا ڈومینو نہیں مجھے وہ والا ڈومینو چاہیے۔ جس طرف اس کا اشارہ تھا وہاں ایک کھیلوں کے سامان کی دکان کے باہری شوکیس میں درجنوں کھلونے سجے ہوئے تھے۔ ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا ہم اس بچی کو لے کر دکان میں داخل ہوگئے۔
.
ہم نے دکاندار سے پوچھا کہ بھائی یہ ڈومینو کیا ہے، جس کی فرمائش اس بچی نے کرڈالی ہے؟ دکاندار نے ہمارے سامنے گتے کا خوبصورت سا ڈبہ رکھ دیا جس کا وزن ساری پیکنگ سمیت کوئی آدھ پون کلو رہا ہوگا۔ ڈبے کے اندر سوائے لکڑی کے چوکور ٹکڑوں کے کچھ بھی نہیں تھا۔ اس ڈبے کو دیکھ کر بچی خوشی سے چلا اٹھی کہ ہاں مجھے یہی چاہیے۔ قیمت پوچھی تو ساڑھے آٹھ سو روپے۔ ظاہر ہے جب دکاندار کے سامنے بچی ضد پکڑ لے کہ یہی چاہیے تو کون سا بے وقوف دکاندار ہوگا جو قیمت کم کرنے پر راضی ہو۔ وہ کھیل تو بظاہر ہماری سمجھ میں خاک نہیں آیا لیکن بچی کی خوشی سمجھ میں آگئی لہٰذا مرتا کیا نہ کرتا ہزار روپے کے نوٹ پر فاتحہ پڑھنی پڑی۔
.
گھر پہنچ کر پوسی سے زیادہ ہمیں جلدی تھی کہ دیکھیں کیا چیز ہے جس پر اس نے ہمارے ساڑھے آٹھ سو روپے خون کروا دیے؟ اب جو اس بچی نے ڈبے کو کھول کر کھیل سجایا تو بے اختیار سر پیٹ لینے کا دل چاہا، بچی چونکہ چھوٹی اور ہماری لاڈلی ہے اس لیے صرف اپنا ہی سر پیٹ لینے پر اکتفا کرنا پڑا۔ تھا کیا لکڑی کے محض چند انچ کے ٹکڑے، جن کو ترتیب سے کھڑا کرکے قطار بنالی جاتی ہے اور پھر سرے والے ایک ٹکڑے کو اگلے ٹکڑے پر ہلکا سا گرا دیتے ہیں اور پھر تمام ٹکڑے ایک دوسرے پر گرتے چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ پوری قطار ہی ڈھے جاتی ہے۔ ہم نے پوسی سے کہا بیٹا اس کھیل میں کیا خاص بات ہے جو تم نے اتنے پیسے خرچ کرواڈالے؟ اس نے ڈبے میں موجود ایک پمفلٹ پر بنی تصاویر کے مطابق مختلف ترتیب سے قطاریں بنا بنا کر ہمیں دکھائیں اور پھر اپنے کمپیوٹر میں مختلف وڈیو دکھا کر ہمیں بتانا چاہا کہ یہ دنیا کا مشہور کھیل ہے۔ لوگ اس میں چند گز کے ہال میں مختلف ترتیب سے میلوں لمبی قطار بناتے ہیں، اس ترتیب کو بنانے میں کئی گھنٹے خرچ ہوتے ہیں اور چند منٹ کے اندر پوری قطار کو اس طرح گراتے ہیں کہ کوئی بھی ٹکڑا سلامت نہیں رہتا ہے اور گرنے کے بعد بھی ترتیب نہیں بگڑتی ہے۔
.
یہ کھیل دیکھ کر ہمیں بے اختیار اپنا لڑکپن یاد آگیا، جب موٹر سائیکل سے زیادہ بائیسکل کا رواج ہوتا تھا۔ سکول اور کالج میں باقاعدہ سائیکل سٹینڈ بنے ہوتے تھے۔ ہماری سب سے بڑی تفریح یہی ہوتی تھی کہ کونے والی سائیکل کو ہلکا سے دھکا لگاتے اور تمام سائیکلیں ایک دوسرے پر گرتی چلی جاتیں۔ اس کے بعد ہم تو وہاں سے غائب ہو جاتے اور چھٹی کے وقت سائیکل مالکان کے ساتھ مل کر”نامعلوم“ دہشت گردوں کو خوب صلوٰتیں سنا رہے ہوتے، کیونکہ ہمیں بھی انہی میں سے کسی سائیکل پر لفٹ لے کر گھر جانا ہوتا تھا۔کبھی یہی حرکت سینما کے سائیکل سٹینڈ پر کرتے اور کبھی ریلوے سٹیشن کے سٹینڈ پر، لیکن وہاں پر یہ کرنے سے پہلے اطمنان کرلیتے کہ سٹینڈ کا ٹھیکیدار اتنا دور ہو کہ اس کے آنے سے پہلے اتنا دور بھاگ چکے ہوں کہ اس کی گالیاں بھی ہمارے کانوں میں ”رس“ نہ گھول رہی ہوں۔
.
اب نہ تو سائیکلیں رہیں نہ ہی سائیکل سٹینڈ، شائد اسی لیے آج ہمارے بچے ڈومینو سے ہی دل بہلا لیتے ہیں۔ لیکن ہمیں تو لڑکپن سے ہی یہ کھیل کھیلنے کی عادت سی پڑی ہوئی ہے، ہم نے اس کھیل کو دوسرے انداز میں اور بڑے پیمانے پر کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ آج ہم قوم کے ہمدرد بن کر سیاست میں یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔دیکھیں کتنا دلچسپ منظر ہے۔ ہم نے ایک ہنگامہ سا برپا کیا ہوا ہے کہ وزیرِاعظم کرپٹ ہیں، ان کو حکومت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہماری اس ہنگامہ آرائی سے اتنی دھول مٹی اڑی کہ عدالت عظمیٰ کو یہ کیس اپنے ہاتھ میں لینا پڑا ہے۔ اب کوئی د ن کی بات ہے کہ موجودہ محترم وزیرِاعظم کے عہدے کے ساتھ سابق کا سابقہ لگ جائے گا۔ بس یوں سمجھیں کہ قطار میں کھڑی پہلی سائیکل دوسری سائیکل پر گرا ہی چاہتی ہے۔ اس کے بعد کا منظر سوچیں کتنا زبردست ہوگا۔
.
وزیرِاعظم تو شاید سابق بھی ہو جائیں اور نا اہل بھی ،لیکن حکومت ان کی پارٹی کی ہی رہے گی حتیٰ کہ وہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر لے گی۔ لیکن اس دوران وہ کپتان کو الیکشن کمیشن سے ان ہی کی جماعت کے ایک سابق رہنما کی شکایت پر انتخاب لڑنے کے لیے نا اہل قرار دلوا دیں گے۔ لیجیے جناب دوسری سائیکل بھی گری اور یہ سائیکل گرے گی سابق صدر صاحب پر جب وہ اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائیں گے اور موجودہ وزیرِاعظم کی جماعت ان کے اثاثوں میں سے ایک خاص محل یا کسی ایسی ہی ملکیت کا مسئلہ الیکشن کمیشن میں اٹھا کر ان کو بھی نا اہل کروا دے گی۔ یوں ایک اور سائیکل ایک پہلے سے گری ہوئی اس سائیکل پر جا گرے گی جو پہلے ہی پابندیوں کی زد میں ہے، حتیٰ کہ اس کے ٹیلی فونک خطاب پر بھی پابندی ہے۔ یوں ملک کی چار بڑی جماعتیں یوں سمجھیں بغیر انجن کے ٹرین چلانے پر مجبور ہو چکی ہوں گی۔ یہ تقریباً وہی منظر ہوگا جب ہم سائیکل سٹینڈ کی سائیکلیں تو گرا چکے ہوتے تھے لیکن سٹینڈ کا ٹھیکیدار ابھی دور ہے ہمیں پکڑ نہیں سکتا۔
.
اس کے بعد انتخابات میں ہم بھی بڑے جوش و خروش سے ووٹ ڈالیں گے۔ چونکہ چار بڑی سیاسی ٹرینیں بغیر انجن کے ہوں گی تو اس کا صاف نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی واحد جماعت کو اتنی نشستیں نہیں مل پائیں گی کہ وہ تنہا حکومت بنا سکے، اور پھر دو یا تین جماعتیں مل کر حکومت بنائیں گی نتیجہ دو میں سے ایک ہی نکلے گا یا تو اتنی غیر مستحکم حکومتیں بنیں گی کہ ہمیں پھر کوئی دھوتی بدلنے کا طعنہ دے گا۔ یا پھر ایسی حکومت بنے گی کہ وزیرِاعظم پھر ”کسی“ یا تو باس مان رہا ہوگا یا ”کسی“ کو ایک مخصوص لباس میں سو سال تک منتخب کروانے کا اعلان کر رہا ہوگا۔ اور یہ وہ وقت ہوگا جب ہم بھی سائیکل مالکان کے ساتھ مل کر سائیکلیں گرانے والے کو خوب لعن طعن کر رہے ہوں گے کیوں کہ بہرحال ہمیں بھی ان کے ساتھ جمہوریت کی سائیکل پر لفٹ لے کر اپنی منزل پر جانا ہے۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *